رسائی کے لنکس

جسٹس آصف سعید کھوسہ چیف جسٹس آف پاکستان مقرر، 18 جنوری کو حلف اٹھائیں گے


جسٹس آصف سعید کھوسہ 18 جنوری کو پاکستان کے نئے چیف جسٹس کا عہدہ سنبھالیں گے۔

صدر عارف علوی نے بدھ کے روز اُن کی تقرری کے کاغذات پر دستخط کیے، جو وزارت قانون نے پیش کیے تھے۔

اٹھارہ جنوری کو ایوانِ صدر اسلام آباد میں عہدے پر تعیناتی کی ایک باضابطہ تقریب منعقد ہوگی، جس میں جسٹس آصف سعید کھوسہ اپنے عہدے کا حلف اٹھائیں گے۔

اس سے ایک روز قبل، 17 جنوری کو پاکستان کے موجودہ چیف جسٹس میاں ثاقب نثار ریٹائر ہوں گے۔

آصف سعید کھوسہ 21 دسمبر 1954ء کو ڈیرا غازی خان میں پیدا ہوئے۔

اُنھوں نے 1969ء میں ملتان ثانوی تعلیمی بورڈ سے میٹرک کا امتحان پاس کیا اور بورڈ میں پانچویں پوزیشن حاصل کی۔ اُنھوں نے گورنمنٹ کالج، لاہور سے انٹرمیڈئیٹ کے امتحان میں لاہور بورڈ میں پہلی پوزیشن حاصل کی۔

سال 1973 میں آصف کھوسہ نے گورنمنٹ کالج لاہور سے بی اے کا امتحان دیا اور پنجاب یونیورسٹی میں پہلی پوزیشن حاصل کی۔ اُنھوں نے 1975ء میں پنجاب یونیورسٹی سے ’انگریزی زبان و ادب‘ میں ماسٹرز کی ڈگری حاصل کی۔

اس کے بعد وہ ’کوئینز کالج کیمبرج‘ میں زیر تعلیم رہے، جہاں سے اُنھوں نے ’ماسٹر آف لا‘ کی ڈگری حاصل کی، جب کہ اُن کی اسپیشلائزیشن کا مضمون ’پبلک انٹرنیشنل لا‘ تھا۔ بعدازاں، اُنھیں لندن کی ’لنکنز اِن سوسائٹی‘ نے 26 جولائی 1979ء کو بار کا اعزاز بخشا۔

کھوسہ کو بینج میں اعلیٰ رتبے کی پیش کش ہوئی، اور مئی 1998ء میں اُنھیں لاہور ہائی کورٹ کا جج مقرر کیا گیا۔ جب تین نومبر 2007ء میں جنرل مشرف نے ملک میں ہنگامی حالت کا نفاذ کرتے ہوئے آئین معطل کیا اور اعلیٰ عدلیہ کے ججوں کو ’عبوری آئینی حکم نامے‘ (پی سی او) کے تحت پھر سے حلف لینے کے احکامات دیے۔ چیف جسٹس افتخار محمد چودھری کی طرح، جسٹس کھوسہ نے بھی دوبارہ حلف لینے سے انکار کیا۔ دونوں کو عہدے سے ہٹایا گیا۔

ملک میں ’’معزول ججوں‘‘ کی بحالی کی مثالی تحریک چلی، جس کے نتیجے میں 18 اگست، 2008 میں اُنھیں ہائی کورٹ کے عہدے پر بحال کیا گیا۔ اس تحریک میں وکلا، سیاسی کارکن اور سول سوسائٹی کے سرگرم کارکن شریک ہوئے۔ وہ عدالت عظمیٰ کے سات بڑے بینچ کا حصہ رہے، جس نے وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی کے خلاف عدالتی توہینِ عزت کے مقدمے کی سماعت کی۔

اُنھیں 18 فروری، 2010ء میں سپریم کورٹ کا جج مقرر کیا گیا، جس پر وہ اب تک فائز رہے ہیں۔

وہ عدالت عظمیٰ کے اُس وسیع بینچ کے سربراہ تھے جس نے سابق وزیر اعظم نواز شریف اور اُن کے اہل خانہ کے خلاف ’پاناما کیس‘ کی سماعت کی، جس کا تعلق مبینہ منی لانڈرنگ اور سمندرپار غیر قانونی سرمایہ کاری سے تھا۔

XS
SM
MD
LG