رسائی کے لنکس

logo-print

سپریم کورٹ نے 'اثاثہ جات ریکوری یونٹ' کی قانونی حیثیت پر سوال اُٹھا دیے


سپریم کورٹ آف پاکستان (فائل فوٹو)

سپریم کورٹ آف پاکستان نے جسٹس قاضی فائز عیسیٰ اثاثہ جات کیس میں حکومتِ پاکستان سے چار سوالات کے جواب طلب کر لیے ہیں۔ سپریم کورٹ نے حکومتِ پاکستان کے 'اثاثہ جات ریکوری یونٹ' کی قانونی حیثیت پر بھی سوالات اُٹھا دیے ہیں۔

عدالت نے وفاقی حکومت سے پوچھا ہے کہ جسٹس عیسٰی کے خلاف شکایت اثاثہ جات ریکوری یونٹ کو کیوں بھیجی گئی؟ شکایت صدر مملکت یا سپریم جوڈیشل کونسل کو کیوں نہیں بھیجی گئی؟ اثاثہ جات ریکوری یونٹ نے کس حیثیت سے معلومات اکٹھی کیں؟

منگل کو جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے 10 رکنی فل کورٹ نے جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے خلاف ریفرنس میں سپریم جوڈیشل کونسل کی کارروائی کے خلاف درخواستوں پر سماعت کی۔

جسٹس قاضی فائز عیسیٰ پر یہ الزام ہے کہ اُنہوں نے اپنے اہل خانہ کے نام بیرونِ ملک جائیداد ٹیکس ریٹرنز میں ظاہر نہ کر کے ججز کے طے شدہ کوڈ آف کنڈکٹ کی خلاف ورزی کی۔

عدالت میں سابق وزیر قانون فروغ نسیم، وزیر اعظم کے معاونِ خصوصی شہزاد اکبر اور سیکرٹری برائے قانون و انصاف ملائکہ بخاری سپریم کورٹ میں پیش ہوئے۔

سماعت کے آغاز میں جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے وکیل منیر اے ملک نے فروغ نسیم پر اعتراض اٹھاتے ہوئے کہا کہ سپریم کورٹ ایک مقدمے میں واضح کر چکی ہے کہ سرکار کی طرف سے پرائیویٹ وکیل پیش ہو کر دلائل نہیں دے سکتا۔

جسٹس قاضی فائز عیسیٰ (فائل فوٹو)
جسٹس قاضی فائز عیسیٰ (فائل فوٹو)

جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا کہ وفاقی حکومت کو نمائندگی کا مکمل حق حاصل ہے۔ ایک اٹارنی جنرل انور منصور ریٹائرڈ ہوئے دوسرے اٹارنی جنرل نے مقدمے کی پیروی سے معذرت کر لی۔ اب عدالت کی معاونت کے لیے وفاقی حکومت نے وکیل تو کرنا ہے۔ اعتراض مناسب نہیں ہے، ہم آپ کی درخواست پر فیصلہ جاری کریں گے۔

وفاق کے وکیل فروغ نسیم نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ لندن کی تین جائیدادیں معزز جج کے بچوں اور اہلیہ کے نام پر ہیں۔

اصل سوال یہ ہے کہ جائیدادیں کن ذرائع سے خریدی گئیں؟ پاکستان سے جائیدادیں خریدنے کے لیے پیسہ باہر کیسے گیا؟ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ منی ٹریل نہیں دیتے تو یہ مس کنڈکٹ ہے۔

جسٹس قاضی امین نے کہا کہ وفاق کو ججز کی جائیدادوں سے کیا مسئلہ ہے؟ کیا ججز پر بغیر شواہد اور شکایت کے سوال اٹھایا جا سکتا ہے؟ ٹھوس شواہد نہیں ہیں تو ججز کی ساکھ پر سوال کیوں اٹھایا جاتا ہے، کیا حکومتی اقدامات ججز اور عدلیہ کی آزادی کے خلاف نہیں؟

سپریم کورٹ نے فروغ نسیم سے چار سوالات پر جواب اور دلائل طلب کرتے ہوئے کہا کہ الزام ہے کہ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے خلاف مواد غیر قانونی طریقے سے اکھٹا کیا گیا۔ آپ نے مواد کو قانونی اکھٹا کرنے پر دلائل دینے ہیں، شکایت اثاثہ جات ریکوری یونٹ کو کیوں بھیجی گئی اور صدر مملکت یا جوڈیشل کونسل کو کیوں نہیں بھیجی گئی؟

سپریم کورٹ آف پاکستان (فائل فوٹو)
سپریم کورٹ آف پاکستان (فائل فوٹو)

جسٹس مقبول باقر نے سوال اٹھایا کہ اثاثہ جات ریکوری یونٹ نے کس حیثیت سے معلومات اکٹھی کیں؟ جسٹس سجاد علی شاہ نے کہا کہ وفاقی حکومت کو وحید ڈوگر کی شکایت کی کاپی درخواست گزار جج کو فراہم کرنی چاہیے تھی۔

وحید ڈوگر کی شکایت کی دستاویزات کا 10 مرتبہ عدالت نے پوچھا، میڈیا پر کئی بار دستاویزات دکھائی گئیں لیکن عدالت کو نہیں دی گئیں۔

جسٹس منصور علی شاہ نے پوچھا کہ اثاثہ جات ریکوری یونٹ کیا ہے پہلے یہ بتائیں؟ شکایت یونٹ تک کیسے پہنچی اور اس یونٹ کا آرٹیکل 209 کے ساتھ کیا تعلق ہے۔

سپریم کورٹ نے جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کیس کی مزید سماعت بدھ تک ملتوی کر دی۔

جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے خلاف ریفرنس ہے کیا؟

وفاقی حکومت نے سپریم کورٹ کے جج جسٹس قاضی فائز عیسیٰ اور سندھ ہائی کورٹ کے جج جسٹس کے کے آغا کے خلاف سپریم جوڈیشل کونسل میں ریفرنس دائر کیے تھے۔ ریفرنس میں جسٹس فائز عیسیٰ اور کے کے آغا پر بیرونِ ملک جائیداد بنانے کا الزام عائد کیا گیا تھا۔

صدارتی ریفرنسز پر سماعت کے لیے سپریم جوڈیشل کونسل کا پہلا اجلاس 14 جون 2019 کو طلب کیا گیا تھا۔ اس حوالے سے اٹارنی جنرل آف پاکستان اور دیگر فریقین کو نوٹسز بھی جاری کیے گئے تھے۔

سپریم جوڈیشل کونسل میں ریفرنسز کی سماعت اختتام پذیر ہو چکی ہے۔

جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی جانب سے صدر مملکت کو خط لکھنے پر سپریم جوڈیشل کونسل میں ایک اور ریفرنس دائر کیا گیا تھا جسے گزشتہ دنوں کونسل نے خارج کر دیا تھا۔

بعد ازاں جسٹس فائز عیسیٰ نے عدالتِ عظمٰی میں سپریم جوڈیشل کونسل میں دائر کردہ ریفرنس کے خلاف ایک پٹیشن دائر کی جس پر عدالت نے فل کورٹ تشکیل دیا تھا۔ جسٹس عمر عطا بندیال اس بینچ کی سربراہی کر رہے ہیں۔

جسٹس فائز عیسیٰ کے وکیل منیر اے ملک اور بابر ستار نے دلائل مکمل کر لیے ہیں جن میں انہوں نے حکومتی ریفرنس کو بدنیتی قرار دیا ہے۔

اس ریفرنس میں اٹارنی جنرل انور منصور کے مستعفی ہونے کے بعد خالد جاوید کو اٹارنی جنرل بنایا گیا تھا۔ لیکن انہوں نے بھی فروری میں اس کیس کی سماعت کے دوران وفاق کی نمائندگی کرنے سے معذرت کرلی تھی۔

اس کے بعد وزیر قانون فروغ نسیم نے اپنی وزارت سے مستعفی ہوکر عدالت میں دلائل دینے کا فیصلہ کیا ہے۔

پاکستان بار کونسل کا موقف

منگل کو سماعت سے قبل پاکستان بار کونسل کے صدر عابد ساقی نے صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ بار کونسل کا موقف ہے کہ قانون کی حکمرانی پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہو گا۔

عابد ساقی نے الزام لگایا کہ اس کیس میں فروغ نسیم نے ٹاؤٹ کا کردار ادا کیا ہے۔ یہ اس ملک کا کلچر ہے کہ ایک دروازے سے داخل ہو کر دوسرے دروازے سے نکل جاتے ہیں۔

فروغ نسیم بھی ایسا ہی کر رہے ہیں، یہ کوئی مذاق نہیں کہ جب جی چاہا استعفی دیا اور وکیل بن گئے اور پھر دوبارہ وزیر بن گئے۔

'فائز عیسیٰ ملزم ہیں، ان کے سوال کا جواب نہیں دوں گا'

فائز عیسیٰ کیس کی سماعت کے لیے وزیر مملکت برائے داخلہ اور اثاثہ جات ریکوری یونٹ کے شہزاد اکبر آئے تو صحافیوں سے غیر رسمی گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے جسٹس فائز عیسیٰ کے سوالات کے بارے میں کہا کہ فائز عیسیٰ اس کیس میں ملزم ہیں۔

اُنہوں نے کہا کہ کٹہرے میں موجود شخص کے الزامات اور سوالات کا جواب نہیں دیا جاتا۔ اگر عدالت نے مجھ سے کوئی سوال پوچھا تو عدالت میں ضرور جواب دوں گا۔

خیال رہے کہ قاضی فائز عیسیٰ نے چند روز قبل عدالت کے نام ایک درخواست میں سوال کیا تھا کہ شہزاد اکبر کے اثاثہ جات ریکوری یونٹ کے حوالے سے بتایا جائے کہ شہزاد اکبر اس کے سربراہ کیسے بنے؟ ان کی شہریت کیا ہے اور وہ اس ادارے میں بیٹھ کر کیسے ججز کی جاسوسی کرسکتے ہیں؟

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG