رسائی کے لنکس

logo-print

جسٹس قیوم رپورٹ اور وسیم اکرم


وسیم اکرم (فائل فوٹو)

پاکستان کرکٹ بورڈ کے نئے چیئرمین احسان مانی نے گزشتہ ہفتے پاکستان میں کرکٹ کو فروغ دینے کیلئے سابق ٹیسٹ کرکٹر محسن حسن خان کی قیادت میں پانچ رکنی کرکٹ کمیٹی تشکیل دی، جس کے دیگر ارکان میں مصباح الحق، وسیم اکرم اور پاکستان کی خواتین کرکٹ ٹیم کی سابق کپتان عروج ممتاز شامل ہیں۔

نئی تشکیل شدہ کرکٹ کمیٹی پی سی بی کے چیئرمین احسان مانی کے ساتھ
نئی تشکیل شدہ کرکٹ کمیٹی پی سی بی کے چیئرمین احسان مانی کے ساتھ

یہ کمیٹی پاکستان کرکٹ بورڈ کو ملک میں کرکٹ کے نظام کو بہتر بنانے کیلئے تجاویز دے گی۔ پی سی بی کے چیئرمین احسان مانی کے مطابق، یہ بورڈ کی انتخابی کمیٹی کی نگرانی بھی کرے گی۔

کرکٹ کے حلقوں میں وسیم اکرم کی شمولیت پر قدے حیرت کا اظہار کیا گیا ہے۔ اس کی ایک وجہ تو یہ ہے کہ سنہ 2000 میں جاری کی گئی جسٹس قیوم کمشن رپورٹ میں ’میچ فکسنگ‘ کے الزامات کے حوالے سے وسیم اکرم کا نام نمایاں طور پر شامل ہے۔

اس رپورٹ میں اگرچہ کہا گیا ہے کہ وسیم اکرم کے خلاف میچ فکسنگ کے ناقابل تردید ثبوت نہیں پائے گئے۔ تاہم، شک کی بنیاد پر بورڈ کو سفارش کی گئی کہ اُنہیں نا صرف قومی ٹیم کی کپتانی سے ہٹا دیا جائے، بلکہ اُن کی سرگرمیوں اور مالی معاملات پر کڑی نظر رکھی جائے۔ اس کے علاوہ اُن پر تین لاکھ روپے جرمانہ بھی عائد کیا گیا۔

وسیم اکرم، اعجاز احمد اور عطاءالرحمان قیوم کمشن میں پیش ہونے سے پہلے۔ فائل فوٹو
وسیم اکرم، اعجاز احمد اور عطاءالرحمان قیوم کمشن میں پیش ہونے سے پہلے۔ فائل فوٹو

رپورٹ میں وسیم اکرم پر الزامات سابق کرکٹر عطاالرحمان کے حلفیہ بیان کے حوالے سے عائد کئے گئے تھے، جن میں عطاالرحمان نے کہا تھا کہ کرائسٹ چرچ میں نیوزی لینڈ کے خلاف کھیلے گئے ایک روزہ میچ میں وسیم اکرم نے اُنہیں خراب بولنگ کرنے کو کہا تھا اور اُنہوں نے خود بھی میچ میں ایک بھی بال کرائے بغیر خود کو ان فٹ قرار دے دیا تھا۔ تاہم، بعد میں عطاالرحمان نے اپنا حلفیہ بیان واپس لے لیا تھا۔ لیکن جسٹس قیوم نے وسیم اکرم کے بارے میں لکھا کہ اُن کے خلاف ثبوت ناکافی تھے جس کی بنیادی وجہ عطاالرحمان کی طرف سے اپنا بیان بدلنا تھا۔ لہذا، جسٹس قیوم کمشن کی رپورٹ میں اُنہیں شک کا فائدہ دیتے ہوئے نسبتاً نرم سزائیں تجویز کی تھیں۔

وسیم اکرم اس رپورٹ کے منظر عام پر آنے کے بعد سے اب تک کرکٹ کامنٹیٹر کے طور پر مستقل کام کرتے رہے ہیں۔ اُنہوں نے پاکستان کرکٹ بورڈ کی دعوت پر تیز بالنگ کے متعدد کیمپ منعقد کئے، نئے کوچ تلاش کرنے میں بورڈ کی مدد کی اور وہ پاکستان سوپر لیگ میں ہیڈ کوچ اور مینٹور کی حیثیت سے فرائض انجام دیتے رہے ہیں۔

وسیم اکرم کراچی نیشنل سٹیڈیم میں تیز بالنگ کے کوچنگ کیمپ میں کھلاڑیوں کو مشورے دے رہے ہیں۔ فائل فوٹو
وسیم اکرم کراچی نیشنل سٹیڈیم میں تیز بالنگ کے کوچنگ کیمپ میں کھلاڑیوں کو مشورے دے رہے ہیں۔ فائل فوٹو

کرکٹ کی بین الاقوامی تنظیم آئی سی سی نے بھی اُنہیں جسٹس قیوم کی رپورٹ کے منظر عام پر آنے کے بعد ہی بین الاقوامی ہال آف فیم کی فہرست میں شامل کیا۔ یوں وسیم اکرم کیلئے چاہے آئی سی سی ہو، یا کسی بھی ملک کا کرکٹ بورڈ، کسی نے بھی کوئی پابندی عائد نہیں کی۔

تاہم، کچھ ہی عرصہ پہلے محسن حسن خان نے پاکستانی ٹیم کے ہیڈ کوچ کی حیثیت سے فرائض انجام دینے کے دوران متعدد بار وسیم اکرم پر سخت تنقید کرتے ہوئے اُنہیں کرکٹ میں بدعنوانی کے حوالے سے سزا یافتہ اور مشکوک شخص قرار دیا تھا اور اب یہ دونوں شخصیات کرکٹ کمیٹی میں ایک ساتھ مل کر کام کرنے کیلئے تیار ہیں۔

میڈیا کی طرف سے وسیم اکرم کے بارے میں اُٹھائے گئے سوال کے جواب میں پی سی بی کے چیئرمین احسان مانی نے کہا ہے کہ جسٹس قیوم رپورٹ نے وسیم اکرم پر پی سی بی اور کرکٹ کے فروغ کیلئے کام کرنے پر کوئی پابندی عائد نہیں کی۔ اُنہوں نے کہا کہ وسیم اکرم نے رٹائرمنٹ کے بعد کرکٹ کامنٹیٹر، کوچ اور مینٹور کی حیثیت سے دنیا بھر میں شہرت حاصل کی ہے اور اُنہیں کرکٹ کی عظیم شخصیت تصور کیا جاتا ہے۔

جسٹس (ر) عبدالقیوم (فائل فوٹو)
جسٹس (ر) عبدالقیوم (فائل فوٹو)

اُنہوں نے بعض حلقوں کی جانب سے اس الزام کو بھی مسترد کر دیا کہ بورڈ نے اس حوالے سے جسٹس قیوم کی رپورٹ کو نظر انداز کر دیا ہے۔ اُنہوں نے کہا کہ پی سی بی جسٹس قیوم کی رپورٹ کی قدر کرتا ہے اور اسے نظر انداز کرنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ یہ رپورٹ پی سی بی کی ویب سائٹ پر موجود ہے اور ہر کوئی اسے پڑھ سکتا ہے۔

تاہم، احسان مانی نے یہ بھی کہا تھا کہ جسٹس قیوم کی رپورٹ نا مکمل تھی۔ لیکن، جسٹس قیوم نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے احسان مانی کے اس بیان کو سختی سے مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ رپورٹ مکمل تھی۔

اُنہوں نے کہا کہ اگرچہ اس رپورٹ کے حوالے سے وسیم اکرم سمیت کچھ کرکٹ کھلاڑیوں کو سزائیں دی گئیں۔ لیکن، بورڈ نے رپورٹ کی بعض تجاویز پر عمل نہیں کیا۔

جسٹس قیوم کی رپورٹ کے حوالے سے لگائے گئے الزامات سے قطع نظر وسیم اکرم دنیائے کرکٹ کے عظیم ترین کھلاڑیوں میں شمار ہوتے ہیں۔ تاہم، سوال یہ ہے کہ اگر اُن کے خلاف الزامات میں کسی بھی حوالے سے کوئی صداقت موجود ہے تو کیا اُن کی بورڈ کے معاملات میں براہ راست شمولیت اس بات کی طرف اشارہ کرتی ہے کہ پی سی بی کی طرف سے کرکٹ میں بدعنوانی کو قطعی طور پر ناقابل قبول قرار دینے کے بیان کو سنجیدگی سے نہیں لیا جانا چاہئیے؟ یہ یقیناً ایک سوالیہ نشان ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG