رسائی کے لنکس

logo-print

افغانستان میں عبوری حکومت کے قیام کا امکان مسترد


افغان صدر اشرف غنی اور چیف ایگزیکٹو عبداللہ عبداللہ (فائل فوٹو)

افغان قومی سلامتی کے مشیر حمداللہ محب نے کہا ہے کہ افغانستان کے مستقبل کے بارے میں فیصلے کرنے کا اختیار افغان عوام اور ان کے منتخب نمائندوں کے پاس ہے اور منتحب حکومت کا کوئی نعم البدل نہیں ہے۔

افغان حکومت کے ایک اعلیٰ عہدیدار نے افغانستان میں عبوری حکومت کے قیام سے متعلق ہونے والی قیاس آرائیوں پر تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایک "خود مختار ملک ہونے کے ناتے کسی دوسری ملک یا فرد کو یہ حق نہیں پہنچتا کہ وہ افغانستان میں کسی نئی حکومت کی قیام کے بارے میں بات کرے۔"

افغان قومی سلامتی کے مشیر حمد اللہ محب نے یہ بات جمعرات کو سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر اپنے کئی ٹوئٹس میں کہی ہے۔

افغان طالبان اور امریکہ کے درمیان ابوظہبی میں رواں ہفتے ہونے والے مذاکرات میں طالبان ذرائع کے مطابق امریکی وفد نے طالبان پر چھ ماہ کے لیے جنگ بندی اور مستقبل میں افغانستان کی ممکنہ نگران حکومت میں اپنے نمائندے نامزد کرنے پر زور دیا تھا۔

تاہم افغان قومی سلامتی کے مشیر حمداللہ محب نے کہا ہے کہ افغانستان کے مستقبل کے بارے میں فیصلے کرنے کا اختیار افغان عوام اور ان کے منتخب نمائندوں کے پاس ہے اور منتحب حکومت کا کوئی نعم البدل نہیں ہے۔

افغان رہنما نے مزید کہا ہے کہ امن کا حصول ہم سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے اور اس کے لیے سب کوشاں ہیں۔

اپنے ٹوئٹس میں افغان قومی سلامتی کے مشیر نے افغانستان میں قیامِ امن کی حمایت کرنے پر امریکی حکومت کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا ہے کہ افغانستان سے متعلق کی جانے والی بعض گمراہ کن قیاس آرائیوں کو دور کرنا ضروری ہے۔

دریں اثنا امریکہ کے نمائندہ خصوصی برائے افغان مفاہمت زلمے خلیل زادنے جمعرات کو ٹوئٹر پر ایک بیان میں کہا ہے کہ بدھ کی رات انہوں نے کابل میں افغان صدر اشرف غنی اور افغان قیادت سے ملاقاتیں کیں جن میں ابوظہبی میں ہونے والی بات چیت اور مذاکرات کے اگلے مرحلے کے بارے میں تبادلۂ خیال کیا گیا۔

امریکی ایلچی نے کہا ہے کہ وہ کابل میں قیام کے دوران سول سوسائٹی، نوجوانوں اور سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں سے بھی ملاقات کریں گے۔

زلمے خلیل زاد نے کابل پہنچنے سے قبل بدھ کو اچانک اسلام آباد کا مختصر دورہ کیا تھا جہاں انہوں نے پاکستانی قیادت اور پاکستانی فوج کے سربراہ جنرل قمر جاوید باجوہ سے ملاقاتیں کی تھیں۔

دوسری طرف پاکستان نے کہا ہے کہ امریکہ اور طالبان کے درمیان ہونے والے حالیہ مذاکرات کے لیے پاکستان نے اپنا کرادار مشترکہ ذمہ داری سمجھتے ہوئے ادا کیا ہے اور اسلام آباد افغانستان میں قیامِ امن کے لیے اپنی کوششیں جاری رکھے گا۔

پاکستان کے دفترِ خارجہ کے ترجمان محمد فیصل نے یہ بات جمعرات کو معمول کی ہفتہ وار بریفنگ کے دوران کہی۔

یاد رہے کہ پاکستان کے وزیرِ اعظم عمران خان نے گزشتہ ہفتے ایک بیان میں یہ دعویٰ کیا تھا کہ پاکستان نے امریکہ اور طالبان کے درمیان بات چیت میں کلیدی کردار ادا کیا ہے۔

جمعرات کو بریفنگ کے دوران جب ترجمان دفترِ خارجہ سے یہ پوچھا گیا کہ پاکستان کا یہ مؤقف رہا ہے کہ پاکستان کا طالبان پر کسی طرح کا اثر و رسوخ نہیں تو پھر اسلام آباد نے کس طرح افغان طالبان کو بات چیت پر راضی کیا، تو محمد فیصل نے کہا کہ پاکستان نے یہ کھبی نہیں کہا کہ (طالبان پر) اس کا اثر و رسوخ نہیں ہے بلکہ اسلام آباد کا ہمیشہ موقف رہا ہے کہ وہ طالبان پر محدود اثر و رسوخ رکھتا ہے اور حالیہ پیش رفت سے اسی کا اظہار ہوتا ہے۔

ترجمان کا مزید کہنا تھا کہ افغانستان میں قیامِ امن کے لیے پاکستان مذاکراتی عمل میں تعاون کرنے کے عزم پر قائم ہے اور پاکستان افغان قیادت اور بین الاقوامی برداری کو افغانوں کی قیادت اور سرپرستی میں ہونے والے امن عمل کی واضح حمایت کا یقین دلا چکا ہے۔

پاکستان کی وزارتِ خارجہ کے ترجمان کا یہ بیان متحدہ عرب امارات میں امریکہ اور افغان طالبان کے درمیان تین روزہ بات چیت مکمل ہونے کے بعد سامنے آیا ہے۔

بات چیت میں امریکی وفد کی قیادت امریکہ کے نمائندۂ خصوصی برائے افغان مفاہمت زلمے خلیل زاد نے کی تھی جب کہ مذاکرات کے اس عمل میں پاکستان، سعودی عرب اور میزبان ملک کے نمائندے بھی شریک ہوئے تھے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG