رسائی کے لنکس

logo-print

پاک بھارت تنازعات اور بین الاقوامی فورمز


فائل فوٹو

عالمی عدالتِ انصاف بدھ کو مبینہ بھارتی جاسوس کلبھوشن یادیو کیس کا فیصلہ سنا رہی ہے۔

یہ پہلا موقع نہیں ہے کہ دونوں ممالک کسی باہمی تنازع پر بین الاقوامی فورم پر گئے ہوں۔ پاکستان اس سے قبل بھی بھارت کے ساتھ اپنے تنازعات کے حل کے لیے عالمی عدالتِ انصاف سے رجوع کر چکا ہے۔

دس اگست 1998 کو پاکستانی بحریہ کا ایک غیر مسلح طیارہ پاکستان کی سمندری حدود میں سندھ اور گجرات کی انتہائی جنوبی سرحد پر پرواز کر رہا تھا کہ بھارتی فضائیہ نے اسے مار گرایا۔ اس واقعے میں جہاز میں موجود 16 افراد ہلاک ہو گئے تھے۔

اسلام آباد نے 21 ستمبر 1999 کو عالمی عدالتِ انصاف میں یہ مؤقف اختیار کیا کہ طیارہ پاکستان کی حدود میں پرواز کر رہا تھا۔ ایک غیر مسلح طیارے کو نشانہ بنانا جنگی اقدام اور ہوا بازی کے بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی ہے۔

پاکستان نے طیارہ مار گرانے پر بھارت پر چھ کروڑ ڈالر ہرجانے کا دعویٰ دائر کیا تھا۔

اس معاملے پر بھارت کا مؤقف تھا کہ پاکستانی طیارے نے فضائی حدود کی خلاف ورزی کی تھی جس پر اسے مار گرایا گیا۔

عالمی عدالتِ انصاف نے پاکستان کا دعویٰ تسلیم نہیں کیا اور 21 جون 2000 کو عالمی عدالت کے 16 میں سے 14 ججز نے بھارت کے حق میں فیصلہ سنایا۔

پاکستان اور بھارت صرف عالمی عدالت انصاف میں ہی نہیں بلکہ مختلف بین الاقوامی فورمز پر بھی مختلف تنازعات کے حل کے لیے جاتے رہے ہیں۔

پاکستان نے بھارت کی جانب سے سندھ طاس معاہدے کی مبینہ خلاف ورزی پر عالمی بینک سے بھی رجوع کیا تھا۔

سندھ طاس معاہدہ دونوں ممالک کے درمیان 1960 میں ہوا تھا۔ اس معاہدے کی رُو سے پنجاب میں بہنے والے دریاؤں بیاس، راوی اور سُتلج کے پانی پر بھارت جب کہ سندھ، چناب اور جہلم کے پانی پر پاکستان کا اختیار ہے۔

پاکستان کا کہنا تھا کہ بھارت اس معاہدے کی خلاف ورزی کرتے ہوئے کشمیر میں دو دریاؤں چناب اور جہلم پر ڈیم تعمیر کر رہا ہے جس کے نتیجے میں پاکستان کے حصے کا پانی مسلسل کم ہو رہا ہے۔

پاکستان کا اعتراض یہ ہے کہ کشن گنگا اور رٹلی پاور پروجیکٹ پر غیر قانونی ڈیم بننے سے اسے 40 فی صد پانی کم ملے گا۔

بعد ازاں 2016 میں بھارت کے زیرِ انتظام کشمیر کے علاقے اُڑی میں بھارتی فوج کے کیمپ پر علیحدگی پسندوں کے حملے کے بعد دو طرفہ تعلقات مزید خراب ہو گئے تھے جس کے بعد بھارتی وزیرِ اعظم نریندر مودی نے پاکستان کا پانی بند کرنے کا اعلان کیا تھا۔

اسی دوران عالمی بینک نے سندھ طاس معاہدے پر غیر جانب دار ماہر کا تقرر روک دیا تھا۔ پاکستان کی جانب سے ثالثی عدالت کے قیام کے مطالبے پر بھی بھارت کی مخالفت جاری ہے۔

عالمی بینک کے حکام کا کہنا ہے کہ سندھ طاس معاہدے کے تحفظ کے لیے ضروری اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ لیکن، اُن کے بقول، خدشہ ہے کہ معاہدہ غیر فعال ہو رہا ہے۔

بینک نے سندھ طاس معاہدہ پر دائر دو طرفہ درخواستوں پر عمل درآمد روکتے ہوئے دونوں ملکوں سے جنوری 2017 کے اختتام تک کسی پر امن طریقۂ کار پر متفق ہونے کا کہا تھا۔ لیکن، دونوں ممالک اپنے اختلافات دور کرنے میں ناکام رہے تھے۔

پاکستان نے حالیہ عرصے میں سمجھوتہ ایکسپریس کے ملزمان کی بریت کے فیصلے پر مایوسی کا اظہار کرتے ہوئے عالمی عدالتِ انصاف میں جانے کا عندیہ دیا تھا۔ لیکن اب تک پاکستان کی طرف سے اس کیس میں کوئی درخواست جمع نہیں کرائی گئی۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG