رسائی کے لنکس

logo-print

کراچی کی تاریخ کے طاقتور ترین دھماکے کی تحقیقات شروع


کراچی کی تاریخ کے طاقتور ترین دھماکے کی تحقیقات شروع

پاکستان کے سب سے بڑے شہر کراچی میں گزشتہ شب پولیس کے خصوصی شعبے سی آئی ڈی کی ایک عمارت پر طاقت ور بم حملے کی تحقیقات کا آغاز ہو گیا ہے جب کہ تباہ شدہ عمارتوں کا ملبہ ہٹا نے کا کام بھی جاری ہے۔ واقعے میں ہلاک ہونے والوں کی تدفین جمعہ کے روز کی جارہی ہے

جمعرات کی رات تقریباً 8:15 بجے پی آئی ڈی سی کے علاقے میں ہونے والے اس حملے میں خواتین اور بچوں سمیت کم از کم 18 افراد ہلاک اور 125 سے زائد زخمی ہو گئے تھے۔

پولیس کا کہنا ہے کہ پہلے حملہ آوروں نے عمارت میں تعینات محافظوں پر فائرنگ کی جس کے بعد بارود سے لدی ایک گاڑی کے ذریعے دھماکا کیا گیا۔

جمعہ کے روز جائے وقوعہ کا دورہ کرتے ہوئے صوبہ سندھ کے وزیر اعلیٰ قائم علی شاہ نے میڈیا کے نمائندوں کو بتایا کہ کراچی کی تاریخ میں یہ سب سے بڑا دہشت گرد حملہ تھا۔انھوں نے اس واقعہ کے پرزور مذمت کرتے ہوئے کہا کہ اس میں ملوث عناصر کو گرفتار کرکے سخت سزا دی جائے گی۔

حکام کا کہنا ہے کہ دھماکا اس قدر شدید تھا کہ سی آئی ڈی کی عمارت کے علاوہ اس میں ملحقہ پولیس کی رہائشی کالونی میں مکانات اور دیگر عمارتوں کو شدید نقصان پہنچا اور اِن میں موجوددرجنوں افراد ملبے تلے دب گئے۔

ہسپتال ذرائع کے مطابق زخمی ہونے والے درجنوں افراد اب بھی زیر علاج ہیں اور اِن میں سے بعض کی حالت تشویش ناک بتائی جاتی ہے۔

کالعدم تنظیم تحریک طالبان پاکستان نے اس حملے کی ذمہ داری قبول کی ہے۔

سی آئی ڈی نے حالیہ دنوں میں کراچی سے کالعدم تنظیم لشکر جھنگوی سے تعلق رکھنے والے چھ مشتبہ عسکریت پسند کی گرفتاری کا اعلان کیا تھا۔

XS
SM
MD
LG