رسائی کے لنکس

logo-print

کراچی: امام بارگاہوں کے قریب 3 دھماکے، 10 افراد زخمی


ایس ایس پی سینٹرل کا کہنا ہے کہ دوسرے دھماکے کی جگہ پر پانی جمع تھا جس کی وجہ سے وہ جگہ چیک ہونے سے رہ گئی تھی۔

کراچی میں بدھ کی رات دو مختلف امام بارگاہوں کے قریب دھماکوں اور دستی بم حملوں میں مجموعی طور پر دس افراد زخمی ہو گئے۔ زخمیوں میں پولیس اور رینجرز اہلکاروں سمیت میڈیا کے نمائندے بھی شامل ہیں۔ پہلا واقعہ نارتھ ناظم آباد میں جبکہ دوسرا واقعہ نارتھ کراچی میں پیش آیا۔

پہاڑ گنج نارتھ ناظم آباد میں واقع امام بارگاہ ابوالفضل کے قریب 2 دھماکوں میں8 افراد زخمی ہوئے۔ زخمیوں کو فوری طور پر قریبی اسپتال میں منتقل کر دیا گیا جہاں ان کی حالت خطرے سے باہر بتائی جارہی ہے۔

سینئر سپرنٹنڈنٹ آف پولیس عامر فاروقی نے زخمیوں سے متعلق تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ زخمیوں میں پولیس اوررینجرز کے 2، 2 اہلکاروں سمیت نجی ٹی وی کے 2 رپورٹرز اور ایک کیمرہ مین شامل ہے۔

پولیس کے مطابق پہلا دھماکا بدھ کی رات ساڑھے نو بجے امام بارگاہ کے گیٹ کے باہر ہوا جس کی لپیٹ میں آکر ایک بچہ زخمی ہو گیا جبکہ ایک گاڑی کو بھی نقصان پہنچا۔ دھماکا اس وقت ہوا جب مجلس ختم کرکے لوگ اپنے اپنے گھروں کی جانب جارہے تھے۔

دھماکے کے فوری بعد بم ڈسپوزل اسکواڈ، پولیس اور امدادی ٹیمیں جائے وقوعہ پر پہنچ گئیں۔ بم ڈسپوزل اسکواڈ نے جائے وقوعہ کے معائنے کے بعد اسے کلیئر قرار دیا۔

بی ڈی ایس اور پولیس کے جانے کے کچھ ہی دیر بعد ایک اور دھماکا ہو گیا۔ پولیس، رینجرز اور میڈیا کے نمائندے اس جگہ موجود تھے۔ ایس ایس پی سینٹرل کا کہنا ہے کہ دوسرے دھماکے کی جگہ پر پانی جمع تھا جس کی وجہ سے وہ جگہ چیک ہونے سے بچ گئی۔

پولیس کا یہ بھی کہنا ہے کہ دھماکا خیز مواد میں نٹ اور بال بیرنگ استعمال کیے گئے۔ عامر فاروقی کے مطابق دھماکے میں آدھا کلو گرام مواد استعمال کیاگیا،دھماکاریموٹ کنٹرول کے ذریعے کیا گیا۔

ایس پی نارتھ ناظم آباد چوہدری اختر نے واقعہ کو دہشت گردی قرار دیا۔

نارتھ ناظم آباد سانحے کے کچھ ہی دیر بعد نارتھ کراچی سیکٹر الیون بی میں واقعہ ایک اور امام بارگاہ کے قریب دستی بم حملہ ہوا جس کے نتیجے میں دو پولیس اہلکار زخمی ہوگئے۔
XS
SM
MD
LG