رسائی کے لنکس

logo-print

پاکستانیوں کے بینک اکاؤنٹس سے رقم چوری کرنے والے چینی شہری کو چھ سال قید


فائل فوٹو

کراچی کی ایک عدالت نے چین کے باشندے کو شہریوں کا ڈیٹا چُرا کر ان کے بینک اکاؤنٹس سے لاکھوں روپے چوری کرنے کے الزام میں سزا سنائی ہے۔

ملزم لی لیون کو عدالت نے پریونیشن آف الیکٹرانک کرائمز ایکٹ اور پاکستان پینل کوڈ کی مختلف دفعات کے تحت کل چھ سال قید اور 12 لاکھ روپے سے زائد کا جرمانہ بھی عائد کیا ہے۔

لی لیون پر الزام تھا کہ انہوں نے اپنے ایک اور ساتھی کی مدد سے بینکوں کی مختلف شاخوں میں قائم اے ٹی ایم مشینوں میں اسکمنگ مشینیں اور خفیہ کیمرے نصب کیے تھے، جس کے ذریعے وہ شہریوں کا ڈیٹا چوری کرکے اپنے پاس موجود خالی اے ٹی ایم کارڈز پر منتقل کرتے تھے اور پھر انہیں استعمال کرکے لوگوں کے اکاؤنٹس سے رقم نکال لیتے تھے۔

ملزم کے دوسرے ساتھی کو اب تک قانون نافذ کرنے والے ادارے گرفتار نہیں کر سکے ہیں۔ عدالت نے مفرور ملزم کو اشتہاری قرار دینے کے ساتھ اس کے دائمی وارنٹ گرفتاری جاری کیے جب کہ کیس داخل دفتر کرنے کے احکامات جاری کیے ہیں۔

عدالت نے فریقین کے دلائل سننے کے بعد گرفتار ملزم کے خلاف فیصلہ سناتے ہوئے قرار دیا کہ ملزم کے خلاف جرم ثابت ہو گیا ہے۔ ایف آئی اے کے لا افسر مرزا تنویر ایڈووکیٹ نے اسے ایک اہم کامیابی قرار دیا ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ ملزم کے جرم کے باعث بڑی تعداد میں کھاتے داروں کو لاکھوں روپوں سے محروم ہونا پڑا۔

دوسری جانب سائبر سیکیورٹی سے وابستہ افراد کا کہنا ہے کہ اے ٹی ایم فراڈ کے ذریعے لوگوں کی رقم ہتھیانے والے ملزم کو سزا ملنا تو یقینا خوش آئند ہے مگر اس کے لیے بینکوں کی بھی ذمہ داری ہے کہ وہ الیکٹرانک ٹرانزیکشنز کو محفوظ بنائیں۔

نیشنل انکیوبیشن سینٹر کے پروگرام مینجر سید اظفر حسین نے وائس آف امریکہ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ مرکزی بینک کو ماتحت بینکوں کو اپنے سسٹم محفوظ بنانے کا پابند کرنا ہوگا تا کہ لوگوں کا آن لائن بینکنگ پر اعتماد قائم ہو۔

ان کا کہنا ہے کہ کسی بھی بینک اکاونٹ سے کھاتے دار کی مرضی کے برخلاف رقم نکالنے کا عمل بینکنگ چینل ہی میں موجود سیکیورٹی خامیوں کے ذریعے ممکن ہوتا ہے جس کو فول پروف بنانے کے لیے بینکوں کو اپنا نظام مضبوط بنانے کے ساتھ صارفین کو اس کا فوری مداوا بھی ممکن بنانے کی ضرورت ہے۔

ان کے بقول اسی طرح لوگوں کا اعتماد بھی بحال ہوگا اور لوگوں کی بڑی تعداد کیش ٹرانزیکشنز کے بجائے بینکنگ چینل کے ذریعے رقوم کی منتقلی زیادہ کریں گے جس سے قومی معیشت کو دستاویزی بنانے میں مدد مل سکتی ہے۔

پاکستان میں اے ٹی ایم فراڈ کے ذریعے رقوم ہتھیانے کے کئی کیسز سامنے آچکے ہیں جس میں کراچی ، اسلام آباد، راولپنڈی اور دیگر شہروں میں درجنوں شہریوں کے اکاؤنٹس ہیک کرکے ان کی خفیہ معلومات چوری کی گئیں اور پھر ان کے اکاونٹس سے پیسے نکال لیے گئے۔

ایسے ہی ایک کیس میں دو چینی باشندوں کو ایک سال قید کی سزا پہلے بھی سنائی جا چکی ہے۔

اسی طرح اکتوبر 2018 میں سائبر حملوں کے ذریعے کچھ ہیکرز نے پاکستان کے بینک اسلامی کے مختلف کھاتے داروں کے اکاؤنٹ سے سیکیورٹی حصار توڑ کر 60 لاکھ ڈالرز سے زائد کی ادائیگیاں کرنے کی کوشش کی تھی۔ لیکن عالمی ادائیگیوں کے سسٹم سے لاگ آف ہونے سے ہیکرز کو اس میں ناکامی کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ جس کے بعد اسٹیٹ بینک نے تمام بینکوں کو اپنا الیکٹرانک سسٹم مزید محفوظ بنانے کے احکامات بھی جاری کیے تھے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG