رسائی کے لنکس

کراچی : لوڈ شیڈنگ کے باعث روشنیوں کے بجائے اندھیرے کا شہر بن گیا


کراچی : لوڈ شیڈنگ کے باعث روشنیوں کے بجائے اندھیرے کا شہر بن گیا

روشنیوں کا شہر کراچی ان دنوں عجیب اور مشکل ترین صورتحال سے دوچار ہے۔ شہر کے بیشتر علاقے تین تین دن اور کہیں کہیں چار چار دن سے بجلی کو ترس رہے ہیں۔ لوڈ شیڈنگ نے اسے روشنیوں کا نہیں اندھیروں کے شہر میں بدل دیا ہے۔شہر کو بجلی فراہم کرنے والے ادارے کراچی الیکٹرک سپلائی کارپوریشن کی انتظامیہ اور یونین میں نااتفاقیوں کی وجہ سے ترسیل کے نظام میں خرابیوں کے ساتھ ساتھ انہیں ٹھیک کرنے کا کام بھی سست روی کا شکار ہے ۔ شدید گرمی میں لوڈ شیڈنگ کے عذاب کے سبب شہریوں کا احتجاج دن بدن بڑھتا جارہا ہے۔

گزشتہ روز متعدد علاقوں میں لوگوں نے ادارے کے خلاف مظاہرہ کیا گیا۔ٹائر جلائے گئے ، سڑکیں بلاک کردی گئیں جس سے شہرکے نصف سے زائد علاقے میں بدترین ٹریفک جام ہوگیا۔ جمعرات کو ناظم آباد نمبر دو اور چار میں بھی کم و بیش یہی صورتحال رہی۔ یہاں منگل کی شب آٹھ بجے سے دوپہر12 بجے تک لائٹ نہیں تھی ۔اس سے قبل گل بائی ،ڈینسو ہال، ایم اے جناح روڈ، گھانس منڈی، بھیم پورہ ، عظیم پورہ سولجر بازار ، صدر راجہ غضنفر علی خان روڈ ، لکی اسٹار ، گلستان جوہر ، پہلوان گوٹھ ، صفورہ گوٹھ ، گودھرا کالونی ، نیو کراچی اور سرجانی ٹاؤن سے بھی بجلی کی فراہمی بند ہونے اور بندش کے خلاف عوام کی ہنگامہ آرائی کی اطلاعات ملیں۔ اس موقع پر بعض افراد مشتعل بھی ہوگئے۔ انہوں نے علاقے میں توڑ پھوڑ شروع کردی جس پر پولیس کو طلب کرلیا گیا۔

ٹریفک جا م کا فائدہ اٹھاتے ہوئے مسلح افراد نے لوگوں کو لوٹنا شروع کردیا ۔ کئی افراد کے موبائل، نقدی ، دیگر قیمتی سامان اور متعدد خواتین سے سونے کے زیورات تک چھین لئے گئے۔ صورتحال پر قابو پانے کے رینجرز کو بھی طلب کرنا پڑا۔

علاوہ ازیں شہر کے تقریبا تمام علاقوں میں جزوی طور 25 سے 48 گھنٹے گزر جانے کے باوجود بجلی کی فراہمی بحال نہیں ہو سکی ۔ صدر ،برنس روڈ ، آرام باغ ، ڈیفنس ، کلفٹن ، اختر کالونی ، پی ای سی ایچ ایس ، گلشن اقبال ، گلستان جوہر اور دیگر علاقوں میں بجلی کی بحالی کا کام تعطل کا شکار رہا ۔

اس سنگین صورتحال کی اہم وجہ کے ای ایس سی انتظامیہ اور ملازمین کے درمیان تنازع ہے ۔ کے ایس ای ایس سی انتظامیہ کی تمام تر توجہ ملازمین کے احتجاج کے خلاف تشہری مہم چلانے پر مرکوز ہے جبکہ ادارے کے ہزاروں ملازمین روزانہ احتجاجی ریلیاں نکلانے میں مصروف ہیں ۔

شہر کے مختلف علاقوں سے ملنے والی اطلاعات کے مطابق طارق روڈ ، پی ای سی ایچ ایس ، سعدی ٹاؤن ، ملیر ، کالا بورڈ ، ماڈل کالونی ، کورنگی بھٹائی کالونی ، لانڈھی اسپتال چورنگی ، ڈرگ روڈ ، شاہ فیصل کالونی ، ڈیفنس ،فیز ٹو ، کلفٹن ، کیماڑی ، شیریں جناح کالونی ، سلطان آباد ، کھارادر ، ٹاور ، برنس روڈ ، صدر ، لسبیلہ ، پی آئی بی کالونی ، گلستان جوہر ، نیو کراچی ، ناظم آباد ، لیاقت آباد ، سہراب گوٹھ ، ماری پور ، شہیر شاہ ، میٹروول ، بنارس اور دیگر علاقوں میں گزشتہ دو سے تین روز سے بجلی کی سپلائی جزوری طور معطل رہی۔ کئی علاقوں میں تین روز جبکہ بعض علاقوں میں بجلی دو دن سے مکمل طور پر غائب ہے جس کے باعث شہر میں ہنگامے معمول بن گئے ہیں۔

مبصرین کا کہنا ہے کہ حیران کن طور پر اب تک صوبائی یا وفاقی حکومت نے اس صورتحال کا ابھی تک کوئی سخت نوٹس نہیں لیا ہے۔ حکام ایران، چین اور بھارت کی جانب سے سستی ترین بجلی فراہم کرانے کی یقین دہانی کے باوجود اس پیشکش سے فائدہ اٹھانے سے قاصر ہیں ۔ ارباب اختیار اور انتظامیہ ماضی قریب میں اس مسئلے کو حل کرنے کے لئے کوئی موثر حکمت عملی بھی نہیں رکھتی۔

پاکستان میں متعین ایرانی سفیر ماشاء اللہ شاکری کا کہنا ہے کہ ایران نے پاکستان کو گیس اور بجلی کی فراہمی کیلئے تیاریاں مکمل کررکھی ہیں تاہم پاکستانی حکام کی غیر سنجیدگی کے باعث پاکستان کو گیس اور بجلی کی فراہمی کے معاہدوں پر عملدرآمدمیں تاخیر ہورہی ہے۔

شاکری کے مطابق 2008ء میں پاکستان اور ایران کے درمیان ایک ہزار میگاواٹ بجلی کی فراہمی کامعاہدہ ہوا تھاجبکہ گوادر پورٹ کے لئے سو میگاواٹ اور بلوچستان کے ساحلی علاقوں کیلئے مزیدپچاس میگاواٹ بجلی کی فراہمی کے منصوبوں پردونوں ممالک کے درمیان اتفاق بھی ہوچکا ہے ۔ایران نے پاکستان کو بجلی اور گیس کی فراہمی کیلئے اپنی سرحد کے اندر تمام انتظامات مکمل بھی کرلئے ہیں تاہم پاکستانی حکام کی غیر سنجیدگی کے باعث ابھی تک ان منصوبوں پر عملدرآمد شروع نہیں ہوسکا۔ان کا کہنا تھا کہ اگر جلد اس جانب کوئی پیش رفت نہ ہوئی تو پاکستانیوں کی مشکلات میں مزید اضافہ ہوجائے گا۔

پانچ سال میں بجلی صارفین میں 52لاکھ کا اضافہ
نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) کے مطابق سال 2003ء سے 2008ء تک بجلی کے گھریلو صارفین کی تعداد میں 52 لاکھ اور صنعتی صارفین میں 45 ہزار کا اضافہ ہوگیا ہے ۔اس اضافے کے باعث ملک بھر میں بجلی کی طلب بھی بڑھ گئی تاہم اس عرصہ کے دوران بجلی کی پیداوار میں نمایاں اضافہ نہ ہو سکا۔ رپورٹ کے مطابق 2003ء سے 2008ء کے عرصے میں پن بجلی کی پیداوار میں 19 میگاواٹ کی کمی آگئی تاہم بجلی کی مجموعی پیداوار میں 884 میگاواٹ اضافہ ہوا ۔

پاکستان میں بجلی بھارت سے 60 اور بنگلہ دیش سے 40 فیصد مہنگی
عالمی بینک نے پاکستان کے توانائی کے شعبے کی انتہائی افسوسناک تصور پیش کی ہے جو بدعنوانی اور نااہلی سے نہایت خراب ہوچکی ہے لیکن عوام کو بھارت کے مقابلے میں 60 فیصد اور بنگلہ دیش کے مقابلے میں 40 فیصد زیادہ قیمت بجلی فروخت کی جاتی ہے۔ پاکستان میں سرمایہ کاری کے مسئلے پر اس سال مارچ میں عالمی بینک کی رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ پاکستان بجلی کا نیا کنکشن لینے کیلئے انتظار کے معاملے میں مصر کے بعد بدترین ملک بن چکا ہے۔

XS
SM
MD
LG