رسائی کے لنکس

کراچی میں لوڈشیڈنگ کے خلاف ہڑتال


کراچی میں لوڈشیڈنگ کے خلاف ہڑتال

کراچی الیکٹرک سپلائی کمپنی کے چار ہزار سے زائد ملازمین اپنی ممکنہ برطرفی کے خلاف گذشتہ کئی دنوں سے ہڑتال پر ہیں جس کے باعث شہر میں جاری بجلی کی لوڈشیڈنگ کے دورانیے میں غیر معمولی اضافہ ہو گیا ہے۔

جمعہ کو مختلف سیاسی جماعتوں اور مزدور تنظمیوں کی کال پر شہر میں طویل دورانیے کی لوڈ شیڈنگ اور کے ای ایس کے ملازمین سے اظہار یکجہتی کے لیےشہر میں جزوی ہڑتال رہی۔ کاروباری حلقوں اور ٹرانسپورٹروں اور کاروباری برادری نے بھی ہڑتال کی حمایت کی۔

ہڑتال کی کال دینے والی جماعتوں نے حکومت سے لوڈشیڈنگ کے خاتمے اور کے ای ایس سی کے ساڑھے چار ہزار کے لگ بھگ ملازمین کی ممکنہ برطرفی کے معاملات پرتوجہ دینے کا مطالبہ کیا ۔

شہر کے مختلف علاقوں میں کاروباری مراکز جزوی طور پر بند رہے جب کہ ٹریفک بھی معمول سے کم رہی۔ ہڑتال کے باعث جامعہ کراچی سمیت شہر کے کئی تعلیمی اداروں میں جمعہ کے روز ہونے والے امتحانی پرچے بھی منسوخ کردیے گئے۔

دریں اثناء جمعرات کی شب شہر کے مختلف علاقوں میں فائرنگ، جلاؤ گھیراؤ اور پرتشدد واقعات میں متعدد افراد زخمی ہو گئے ہیں جب کہ 10 گاڑیوں کو بھی نذر آتش کیا گیا۔ اطلاعات کے مطابق تشدد کے بعض واقعات میں سکیورٹی اہلکاروں سمیت کم از کم چار افراد ہلاک ہوئے۔ تاہم یہ واضح نہیں کہ ان ہلاکتوں کا ہڑتال سے تعلق ہے یا نہیں۔

پولیس حکام کے مطابق شہر کے کئی علاقوں بشمول سہراب گوٹھ، سپر ہائی وے، لیاری، اورنگی ٹاؤن اور گلستانِ جوہر کے کچھ حصوں میں صورتِ حال اب بھی کشیدہ ہے۔

ادھر کے ای ایس سی کے ترجمان نے الزام لگایا ہے کہ ادارے کے ملازمین کو کام کرنے سے روکا جارہا ہے۔ ترجمان کے مطابق ادارے کے ہڑتالی ملازمین کی جانب سے احتجاج ختم ہونے تک کوئی مذاکرات نہیں کیے جائیں گے۔

کے ای ایس سی کے چار ہزار سے زائد ملازمین گزشتہ کئی ہفتوں سے احتجاج کر رہے ہیں۔ ملازمین کا موقف ہے کہ وہ کام کرنا چاہتے ہیں تاہم ادارے کی انتظامیہ نے انہیں 'سرپلس' قرار دیتے ہوئے ان سے پیشہ وارانہ ذمہ داریاں واپس لے لی ہیں۔

XS
SM
MD
LG