رسائی کے لنکس

logo-print

کراچی: سیاسی کارکن کی موت پر یوم سوگ، معمولات زندگی متاثر


ایم کیو ایم کی اپیل پر شہر میں شام تک ہڑتال کا سماں رہا۔ پبلک ٹرانسپورٹ صبح سے ہی کم تھی۔۔۔۔ پبلک ٹرانسپورٹ معمول سے کم ہونے کے باعث دفاتر اور دیگر امور کے لئے گھر سے نکلنے والوں کو مشکلات کا سامنا

پاکستان کے سب سے بڑے اقتصادی شہر، کراچی میں جمعرات کو معمولات زندگی معطل رہے۔ صوبے اور خاص کر شہر میں گہرا سیاسی اثر و رسوخ رکھنے والی جماعت، متحدہ قومی موومنٹ نے اپنے ایک کارکن کی مبینہ طور پر پولیس کی حراست میں ہلاکت کے خلاف عوام سے یوم سوگ منانے کی اپیل کی تھی۔

اپیل پر شہر میں شام تک ہڑتال کا سماں رہا۔ پبلک ٹرانسپورٹ صبح سے ہی کم تھی۔ البتہ کاریں، رکشا اور دیگر ذرائع آمد و رفت سڑکوں پرآتے جاتے رہے۔

پبلک ٹرانسپورٹ معمول سے کم ہونے کے باعث دفاتر اور دیگر امور کے لئے گھر سے نکلنے والوں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔

بعض علاقوں میں جزوی طور پر دکانے اور دیگر کاروباری مراکز بند رہے۔ کچھ علاقوں میں صبح کے وقت سے ہی سی این جی اسٹیشنز اور پیٹرول پمپس بند رہے جیسے نارتھ ناظم آباد، لسبیلہ، گرومندر؛ جبکہ لیاقت آباد، گولیمار، ناظم آباد سمیت دیگر علاقے بند رہے۔

سہ پہر تین بجے کے قریب ایم کیو ایم نے دکانیں اور کاروباری مراکز کھولنے کی اپیل کی۔ لیکن صدر کے کچھ حصے اور بعض تھوک کی مارکیٹیں پھر بھی بند رہیں۔

سوگ کے باعث، شہر کے تمام تعلیمی ادارے بند رہے جس کے سبب کراچی یونیورسٹی، سرسید یونیورسٹی، این ای ڈی، سندھ ٹیکنیکل بورڈ اور اعلیٰ ثانوی بورڈ کے آج ہونے والے امتحانات ملتوی کردیئے گئے۔

شہر قائد کی طرح ہی سندھ کے دوسرے بڑے شہروں مثلاً حیدرآباد، سکھر، نواب شاہ، میرپور خاص، ٹنڈو الٰہ یار اور ٹنڈو آدم میں بھی سوگ کے باعث اسی طرح کی صورتحال رہی۔

ایم کیو ایم نے ہلاک ہونے والے کارکن وسیم دہلوی کے مبینہ قتل اور اپنے ایک اہم رہنما عامر احمد خان کے خلاف مقدمہ درج کئے جانے کے خلاف جمعرات کو صدر ممنون حسین کے پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے خطاب سے قبل علامتی واک آؤٹ بھی کیا۔

XS
SM
MD
LG