رسائی کے لنکس

پان کے بیڑے اور گلوریاں!! کچھ دلچسپ حقائق، کچھ داستانیں


پان کے بیڑے اور گلوریاں!! کچھ دلچسپ حقائق، کچھ داستانیں
پان کے بیڑے اور گلوریاں!! کچھ دلچسپ حقائق، کچھ داستانیں

پاکستان میں سب سے زیادہ جو چیز کھائی جاتی ہے اس میں' قسم' کے بعد سب سے بڑا نام "پان" کا ہے۔ چھوٹا 'پان کا بیڑا' یا ' ننھی سی پان کی گلوری' کی صحیح صحیح تاریخ کے بارے میں تو معلوم نہیں البتہ جب سے ہندوستان میں نوابوں، مہاراجوں اور راج واڑوں کا دورشروع ہوا غالباً اسی وقت سے یہاں پان کھانے کا رواج ملتاہے۔ لکھنو کے تہذیبی پس منظررکھنے والی فلموں میں کنیزوں کے ہاتھوں پان کی گلوری پیش کرنے کا تذکرہ بھی موجود ہے جبکہ کوٹھوں پر طوائفوں کو نائیکاوٴں کے ہاتھوں گلوریاں پروسنے کے سین بھی کئی پرانی بھارتی فلموں میں ملتے ہیں۔

فلم 'تیسری قسم' میں راج کپور اور وحیدہ رحمن پر پکچرائز کیا جانے والا اپنے دور کا ہٹ گانا "پان کھائیں سنیاں ہمارو۔۔۔" اورستر کی دہائی میں بننے والی فلم مثلاً "ڈان" کے گانے "کھائی کہ پان بنارس والا ۔۔۔" کی شہرت نے تو ا ن لوگوں میں بھی پان کھانے کا شوق جگا دیا جن لوگوں نے کبھی اس کا ذائقہ بھی نہیں چکھا تھا۔

کہنے کے لئے تو پان بہت چھوٹا سا آئٹم ہے مگر کراچی میں اس پان سے کیا کیادلچسپ کہانیوں وابستہ ہی ، یہ بھی اپنے آپ میں ایک دلچسپ داستان ہے۔

عام طور پر پان کی قیمت پاکستان بھر میں پانچ روپے سے شروع ہوتی ہے اور دس بارہ روپے پر ختم ہوجاتی ہے مگر شہر قائد کے کچھ علاقے ایسے بھی ہیں جہاں کے پان مشہور تو ہیں ہی، ان کی انفرادیت یہ بھی ہے کہ ان علاقوں کے علاوہ کہیں اور نہیں ملتے۔ مثلا ً وی آئی پی پان، وی وی آئی پی پان، سہاگ پوڑا، پان بیڑا اور ڈسکو گلوری۔۔۔ اورسینئے ان پانوں کی قسمیں ۔۔ سانچی پان، گولٹا پان، سیلون پان، بنگلا پان، بنارسی پان ۔۔ شاید آپ کے لئے بھی یہ نام نئے ہوں کیوں کہ جو پان کھانے کی حددرجہ شوقین ہیں وہ بھی ان قسموں سے کم ہی آشنا ہیں۔

پان کی قسموں سے زیادہ ان کی قیمتیں حیران کن ہیں۔ مثلاً وی آئی پی پان کی قیمت تین سو روپے ہے۔ اس میں چاندی کے اصلی ورق، تازہ گلاب کے پھولوں کی تیار کردہ گلقند ڈالی جاتی ہے ۔ وی وی آئی پی پان کا اندازہ آپ خود لگالیجئے کیوں کہ اس میں اصل شہداور پھولوں کی گلقند ڈالی جاتی ہے۔ سہاگ پوڑا چار سو روپے میں ملتا ہے اور اسے ایک بار میں کوئی بھی نہیں کھاسکتا لہذا تھوڑا تھوڑا اور رکھ رکھ کر کھایا جاتا ہے ۔ ایک پان کا وزن ایک پاوٴ ہوتا ہے ۔ اس میں چھوٹی الائچی اور میوے ڈالے جاتے ہیں ۔ پستا خاص کر ڈالا جاتا ہے اور چونکہ الائچی کی قیمت اس وقت تین ہزار روپے اور پستہ 2400 روپے کلو ہے لہذا بقول دکاندار محمد عرفان کے پان پوڑا اگر چار سوروپے میں مل رہا ہے توبھی سستا ہے۔ آخری قسم بچتی ہے 'پان بیڑے' کی تو اس کی قیمت ایک سو روپے ہے ۔ اس میں رنگی برنگی پھول پتیاں اور رنگ دار کھوپرا ڈالا جاتا ہے۔

کراچی میں کریم آباد پر واقع دکان پر یہ قسمیں موجود ہیں۔ رنچھوڑلائن، پان منڈی، کھارادر، میٹھادر اور لسبیلہ پر بھی مخصوص دکانوں پر یہ پان دستیاب ہیں۔ گارڈن کے علاقے کی سب سے مشہور اور پرانی دکان گولڈن پان شاپ ہے۔ یہ دکان اس قدر مشہور و معروف ہے کہ کہا جاتا ہے جس نے گولڈن پان شاپ نہیں دیکھی اس نے پان کھانا ہی نہیں سیکھا۔ اس کی کئی شاخیں ہیں جو گارڈن، گلستان جوہر، طارق روڈ، کلفٹن اور ڈیفنس میں واقع ہیں۔ یہاں پانوں کو کچھ قسمیں ایسی بھی ہوتی ہیں جن کے بارے میں دعویٰ کیا جاتا ہے کہ اگر دیوار پر کھینچ کر مار دیا جائے تو شیشے کی طرح کرچی کرچی ہوکر بکھر جاتا ہے۔

ایک قسم 'چھوئی موئی پان' کی بھی ہے جس کے بارے میں مشہور ہے کہ یہ منہ میں رکھتے ہیں چھوئی موئی کے پھول کی طرح سکڑتا اور منہ میں گھلتا چلا جاتا ہے۔

کراچی میں خود پان کھانے کا تو رواج ہے ہی، مہمان نوازی بھی پان کے بغیر بعض جگہ ادھوری سمجھی جاتی ہے ۔ اکثر گلہ بھی کیا جاتا ہے کہ ’فلاں کے گھر گئے تھے اس نے تو چائے پانی چھوڑو ۔۔پان کو بھی نہیں پوچھا‘۔ شاید یہی وجہ ہے کہ اکثر شادیوں میں میزبان کی جانب سے شادی ہالوں پر پان کے باقاعدہ اسٹال لگائے جاتے ہیں جہاں ہر مہمان جی بھر کر مفت پان کھاتا اور گھر لے جاتا ہے۔

پان کی تعریف اور قدردانی اپنی جگہ مگر پان میٹھا زہر بن کر جو نقصانات پہنچاتا ہے اب کچھ اس کا تذکرہ بھی ہوجائے۔

کولکتہ کے تاریخی ہاوڑہ برج سے تو آپ واقف ہوں گے ہی۔ یہ 26,500 ٹن ہائی ٹینسل اسٹیل کا بنا ہے اور تقریباً ایک لاکھ گاڑیاں یومیہ اس پر سے گزرتی ہیں۔ دو صدیاں ہونے کو ہیں یہ سردی، گرمی، برسات، طوفان، آندھی سب کچھ برداشت کرتا ہے مگر اب اسے سب سے زیادہ نقصان پان کی پیک سے پہنچ رہاہے۔ جسے پان کھانے والے جب چاہیں جہاں چاہیں تھوک دیتے ہیں۔ پان کی پیک اس اس تاریخی شاہکار کی جڑوں کو کھوکھلا کررہی ہے۔

پان۔۔۔ یعنی ایک مخصوص قسم کا پتہ جس کی بیل ہوتی ہے، درخت نہیں۔ چھالیہ، چونا اور تمباکو۔۔ سب ملاکر پان کی گلوری بنتی ہے اور بھارت ، پاکستان، بنگلہ دیش اوردنیا کے ان تمام ممالک میں جہاں یہ لوگ مقیم ہیں وہاں پابندی کے باوجود ، صحت کو پہنچنے والے سخت نقصان کے باوجود اور اس سے بھی بڑھ کر تمام نقصانات جاننے کے باوجود پان چبایا جاتا ہے۔

عالمی ادارہ صحت کے جاری کردہ اعدادوشمار کے مطابق دنیا بھر میں جن بیماریوں سے سب سے زیادہ لوگ مرتے ہیں ان میں کینسر بھی سرفہرست ہے۔ ایک محتاط اندازے کے مطابق 2005 سے 2015 تک کینسر سے 80 لاکھ سے زائد افراد ہلاک ہوسکتے ہیں۔ سول اسپتال کراچی کے کینسر یونٹ کے جاری کردہ اعداد وشمار اس سے بھی زیادہ بھیانک ہیں۔ کراچی اوراندرون سندھ سے تعلق رکھنے والے 23 فیصد کینسر کے مریض پان اور تمباکو کے سبب بیمار ہوئے ۔

منہ کا کینسر، گلے کا کینسر، دانتوں کا کینسر، حلق کا کینسر، گال کا کینسر۔۔۔ اور اس جیسی متعدد خطرناک بیماریوں کا 'موجد' پان جنوبی ایشیائی ممالک کی معیشت کو سہارا دینے کے لئے ہر قسم کی پابندی سے مستثنیٰ ہے۔ پاکستان ہی کی مثال لے لیجئے یہاں ماہانہ لاکھوں ٹن پان بھارت ، بنگلہ دیش اور سری لنکا سے درآمد ہوتا ہے۔ سمجھوتا ایکسپریس ہو یا تھر ایکسپریس، دوستی بس ہو یا ہوائی سفر سب سے زیادہ پان ہی غیر قانونی طور پر پاکستان آتا ہے۔ یہ پان ہی کی 'برکت' ہے کہ دونوں جانب کے حکام لاکھوں اور کروڑوں روپوں سے کھیل رہے ہیں۔

لاہور کا انار کلی بازار ہو یا دوسری چھوٹی بڑی مارکیٹیں آپ کو بھارتی ، بنگلہ دیشی اور سری لنکن پان، چھالیہ ، گٹکا اور تمباکو کی دکانیں کی دکانیں لدی ہوئی ملیں گی۔ لطف کی بات یہ ہے کہ مقامی سامان کے مقابلے میں یہ سامان مہنگا ہے لیکن اس کے باوجود لوگ اسے ہی ترجیح دیتے ہیں۔

خلیجی ممالک خصوصاً متحدہ عرب امارات اور سعودی عرب میں پان کھانے پر پابندی ہے لیکن وہاں بھی وہ چوری چھپے مل جاتا ہے۔ متحدہ عرب امارات کی ریاست ابو ظہبی میں پان کھانے والے پر دس ہزار درہم جرمانے کی سزا ہے ۔ سعودی عرب میں پان کھانے والے پر مقدمہ درج کردیا جاتا ہے جہاں اسے جیل میں قید و بند کی سزائیں دی جاتی ہیں اور بسا اوقات سزا کے بعد اسے ڈیپورٹ بھی کردیا جاتا ہے۔

سخت قانون کے سبب وہاں پان نہ کھاسکنے والے جتنے دن بھی اپنے وطن میں گذارتے ہیں دانستہ اوربہانے بہانے سے پان چباتے رہتے ہیں ۔ ایسے میں قریبی رشتے داروں کی ہمدریاں بھی ان کے ساتھ ہوجاتی ہیں اور گھر کے بڑے بوڑھے تک کہہ اٹھتے ہیں۔۔ ’چلو بھئی کھانے دو پان جی بھر کے۔۔ واپس جاکر آزادانہ پان کھانے کو کہاں ملیں گے۔۔‘یا پان کھانے والا خود رشتے داروں کی ہمدریاں سمیٹتے ہوئے کہتا ہے ۔۔’بس یہیں تک کی بات ہے۔۔۔پھر اگلے سال جب آئیں گے تو ہی پان کھانے کو ملے گا۔۔۔‘

حالانکہ کہ ذرا سا غور کیا جائے تو محسوس ہوگاکہ ۔۔ پان کھانے والا پیسے دے کر اپنے ہی لئے موت خرید تا ہے۔

XS
SM
MD
LG