رسائی کے لنکس

logo-print

کراچی کو دوبارہ دارالحکومت بنائیں، پیر صاحب پگارا


مزار قائد کا ایک فضائی منظر، فائل فوٹو

پیر صاحب پگارا نے وفاقی وزیر قانون فروغ نسیم کو مشورہ دیا ہے کہ وہ کراچی کو وفاق کے حوالے کرنے کے بجائے دارالحکومت یہاں منتقل کرنے کا مطالبہ کریں۔

قیام پاکستان کے وقت دارالحکومت کراچی کو بنایا گیا تھا لیکن ایوب دور میں اسے منتقل کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔ عبوری طور پر دارالحکومت راولپنڈی منتقل کیا گیا جہاں جی ایچ کیو یعنی پاک فوج کا جنرل ہیڈکوارٹرز تھا۔ ایک نئے شہر اسلام آباد کی تعمیر کے بعد 14 اگست 1967 کو اسے دارالحکومت بنا دیا گیا۔

پیر صاحب پگارا نے ایم کیو ایم سے تعلق رکھنے والے فروغ نسیم کے بیان پر حیرت کا اظہار کیا جنھوں نے کہا تھا کہ آئین کے آرٹیکل 149 کے تحت وفاقی حکومت کراچی کا انتظام سندھ حکومت سے لے سکتی ہے۔ انگریزی روزنامے ڈان کے مطابق پیر پگارا نے کہا کہ ایسا اقدام کراچی کو الگ کرنے کی کوشش ہو گا اور کسی کے لیے قابل قبول نہیں ہو گا۔

استاد، صحافی اور محقق اختر بلوچ نے وائس آف امریکہ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ان کی سمجھ میں پیر صاحب پگاڑا کا بیان نہیں آیا۔ سندھ کراچی ہے اور کراچی سندھ ہے۔ قیام پاکستان کے وقت بھی کراچی کو دارالحکومت بنانے کی مخالفت کی گئی تھی۔ ان میں دین محمد وفائی پیش پیش تھے۔ بہت مشکل سے تو کراچی سندھ کو واپس ملا ہے۔ اسے دوبارہ کیسے اسے وفاق کے حوالے کیا جا سکتا ہے۔

اختر بلوچ نے کہا کہ ایوب خان دارالحکومت کراچی سے اس لیے لے گئے تھے کہ یہ باشعور شہر تھا۔ ہر تحریک یہاں سے اٹھتی تھی۔ طلبہ متحرک تھے اور بائیں بازو کی تنظیموں کا مرکز ہوتا تھا۔

ممتاز دانشور غازی صلاح الدین کہتے ہیں کہ کراچی کی ڈیموگرافی مقتدر حلقوں کے لیے پریشان کن رہی ہے۔ یہ شہر مرکزی دھارے کی سیاست سے بھی ہمیشہ مخالف چلا ہے۔ دارالحکومت یہاں سے منتقل کرنے کے اصل اسباب یہ تھے۔ کچھ لوگ یہ بھی کہتے ہیں کہ ایوب خان اپنے گاؤں کے قریب دارالحکومت بنانا چاہتے تھے۔

انھوں نے کہا کہ اب دارالحکومت منتقل کرنا ممکن نہیں ہے لیکن یہ ہیلو ٹیسٹنگ ون ٹو تھری ہو رہی ہے۔ وہ پیپلز پارٹی کو کسی طرح سے غیر مستحکم کرنا چاہتے ہیں۔ پہلے یہ خبر اڑی تھی کہ کہیں سندھ کے وزیراعلیٰ کو گرفتار نہ کر لیا جائے۔ پھر کراچی کی گورننس کا معاملہ اٹھایا گیا کہ یہ کسی کے قابو میں نہیں ہے۔ کبھی علی زیدی کچرا اٹھانے آ جاتے ہیں۔ کبھی مصطفیٰ کمال خم ٹھونک کے سامنے آتے ہیں۔

غازی صلاح الدین نے کہا کہ سندھیوں کا کراچی کے بارے میں جذباتی ہونا جائز ہے۔ کراچی بہرحال ہمیشہ سے سندھ کا شہر ہے اور سندھیوں کی ملکیت ہے۔ قیام پاکستان سے پہلے اس شہر کی مڈل کلاس ہندو تھی۔ اس کے جانے سے یہاں خلا پیدا ہوا جو ہجرت کرنے والوں نے پر کیا۔ اس کے بعد ہجرت کی ایک کے بعد ایک لہر آتی رہی۔ جنوبی ایشیا کا کوئی اور شہر اس طرح تبدیل نہیں ہوا، جیسے کراچی ہوا۔ آپ سوچیں کہ لاہور پنجابی اکثریت کا شہر نہ رہے، ممبئی مہاراشٹر کے لوگوں کی اکثریت کا شہر نہ رہے، کلکتہ بنگالی اکثریت کا شہر نہ رہے۔

اختر بلوچ نے اس خیال کو مسترد کیا کہ قیام پاکستان کے وقت بھی کراچی میں سندھیوں کی آبادی کم تھی۔ انھوں نے کہا کہ یہ بہت بڑی غلط فہمی ہے۔ آج بھی پرانے شہر کے کسی علاقے میں چلے جائیں، پرانی عمارتیں دیکھ لیں کہ ان پر کیا نام لکھے ہوئے ہیں۔ رام چند بلڈنگ، رتن داس بلڈنگ، یہ کون لوگ تھے؟ ہندو سندھی ہی تو تھے۔ قیام پاکستان کے بعد ہجرت ہوئی تو اس شہر کی آبادی تبدیل ہوئی۔ اسے وفاقی دارالحکومت بنانے کی وجہ سے بڑی تعداد میں سرکاری ملازمین بھی آئے۔

انھوں نے کہا کہ کراچی کو صوبہ بنانے کی بات کی جاتی ہے لیکن کہاں بنائیں گے؟ یہاں بہت سے پشتون، سندھی اور بلوچ علاقے ہیں۔ کیا صرف ضلع وسطی کو صوبہ بنائیں گے؟ کراچی کو صوبہ بنائیں گے تو سندھ کے دوسرے شہروں کے اردو بولنے والے کہاں جائیں گے؟ کیا وہ ایک اور ہجرت کریں گے؟

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG