رسائی کے لنکس

logo-print

آرٹیکل 149: کراچی کے مسائل کے حل کے لیے جادو کی چھڑی؟


فائل فوٹو

پاکستان کے وفاقی وزیرِ قانون بیرسٹر فروغ نسیم کی جانب سے کراچی کو آئین کے آرٹیکل 149 کے تحت وفاق کے کنٹرول میں لینے کے بیان نے سندھ اور وفاقی حکومت کے درمیان کشمکش کو مزید عیاں کر دیا ہے۔

سیاسی مبصرین یہ کھوج لگانے میں مصروف ہیں کہ ملک کے سب سے بڑے شہر کراچی کے مسائل حل کرنے کے لیے وفاقی حکومت آنے والے دنوں میں کیا اقدامات کرنے جا رہی ہے۔

کراچی کا کچرا اٹھانے کے معاملے پر بھی گزشتہ دنوں صوبائی و وفاقی حکومت اور بلدیاتی حکومت کے درمیان بیانات کا سلسلہ جاری رہا (فائل فوٹو)
کراچی کا کچرا اٹھانے کے معاملے پر بھی گزشتہ دنوں صوبائی و وفاقی حکومت اور بلدیاتی حکومت کے درمیان بیانات کا سلسلہ جاری رہا (فائل فوٹو)

آرٹیکل 149 کیا کہتا ہے؟

پاکستان کے آئین کا آرٹیکل 149 صوبوں اور وفاق کے درمیان تعلقات سے متعلق ہے۔ آرٹیکل 149 کے مطابق وفاقی حکومت کسی بھی صوبے کو کوئی خاص ہدایت جاری کر سکتی ہے۔

آرٹیکل 149 کے مطابق صوبائی حکومت کی جانب سے استعمال کی جانے والی انتظامی اتھارٹی وفاقی حکومت کی انتظامی اتھارٹی کو کسی بھی طرح کم نہیں کر سکتی۔ یعنی وفاقی حکومت کے انتظامی اختیارات صوبائی حکومت کے اختیارات سے کہیں زیادہ ہوں گے۔

وفاقی حکومت جہاں مناسب سمجھے، وہ اس آرٹیکل کے تحت صوبائی حکومت کو ہدایات جاری کر سکتی ہے۔

بلدیاتی حکومت مسائل کا خاتمہ نہ ہونے کی وجہ فنڈز اور اختیارات کی کمی کو قرار دیتی رہی ہے (فائل فوٹو)
بلدیاتی حکومت مسائل کا خاتمہ نہ ہونے کی وجہ فنڈز اور اختیارات کی کمی کو قرار دیتی رہی ہے (فائل فوٹو)

آرٹیکل 149 کی تیسری ذیلی شق میں مزید کہا گیا ہے کہ وفاقی حکومت کے انتظامی اختیارات کے تحت صوبوں کو قومی اور اسٹریٹیجک اہمیت کے معاملات، ذرائع نقل و حمل کی تعمیر یا اس کی مرمت وغیرہ سے متعلق بھی ہدایات دی جا سکتی ہیں۔

اسی آرٹیکل کی چوتھی شق کے تحت وفاقی حکومت کو یہ اختیار بھی حاصل ہے کہ وہ ملک کے امن کو لاحق سنگین خطرات یا معاشی حالات کے پیشِ نظر کوئی خاص ہدایت جاری کر سکتی ہے۔

قانونی ماہرین کا مؤقف

سابق ایڈووکیٹ جنرل سندھ اور معروف قانون دان بیرسٹر ضمیر گھمرو وفاقی وزیرِ قانون کی اس رائے سے متّفق دکھائی نہیں دیتے۔

ان کے مطابق آئین کا آرٹیکل 149 وفاقی حکومت کو لامحدود اختیارات نہیں دیتا بلکہ اس شق کے تحت وفاقی حکومت صرف ان معاملات پر ہی صوبوں کو کوئی ہدایت جاری کر سکتی ہے جن کا تعلق وفاقی حکومت سے بنتا ہو۔

بیرسٹر ضمیر گھمرو نے مثال دیتے ہوئے کہا کہ اگر بالفرض کسی بندرگاہ کی جانب جانے والے راستے بند ہیں اور انہیں کھولنا ملکی معیشت کے لیے ناگزیر ہے تو ایسی صورتِ حال میں وفاق، صوبائی حکومت کو راستے کھلوانے کے لیے ہدایات جاری کر سکتا ہے۔

کراچی میں 13 سے 14 ہزار ٹن کچرا یومیہ پیدا ہوتا ہے جس میں سے 9 ہزار ٹن تک ٹھکانے لگایا جاتا ہے (فائل فوٹو)
کراچی میں 13 سے 14 ہزار ٹن کچرا یومیہ پیدا ہوتا ہے جس میں سے 9 ہزار ٹن تک ٹھکانے لگایا جاتا ہے (فائل فوٹو)

انہوں نے مزید کہا کہ وفاق جن اکائیوں پر مشتمل ہے وہ صوبے ہیں اور وفاقی حکومت کے کنٹرول میں دفاع، بندرگاہ، بینکنگ سسٹم اور دیگر اہم تنصیبات بھی صوبوں میں ہی واقع ہیں۔ ایسے میں اگر وفاقی حکومت کے کاموں میں کوئی رکاوٹ پیدا ہو رہی ہے تو صرف اسے دور کرنے کے لیے آرٹیکل 149 استعمال کیا جا سکتا ہے۔

بیرسٹر ضمیر گھمرو کے مطابق کراچی کے مسائل کا حل آرٹیکل 149 میں تلاش کرنا نا ممکن ہے۔ ان کے خیال میں قانون کے تحت کراچی میں وفاقی حکومت براہِ راست مداخلت نہیں کر سکتی۔

بیرسٹر گھمرو کا کہنا ہے کہ کراچی کے مسائل حل کرنا صوبائی حکومت کی ہی ذمّہ داری ہے۔ جس کے لیے صوبائی حکومت کو ضروری اقدامات کرنے ہوں گے۔

انہوں نے کہا کہ وفاق میں برسر اقتدار جماعت اگر کراچی کے مسائل حل کرنے کے لیے خود کوئی کردار ادا کرنا چاہتی ہے تو اس کے لیے بات چیت سے ہی کوئی راہ نکالنا ہوگی۔

قانونی ماہرین کی رائے میں آرٹیکل 149 کے تحت گورنر راج کے نفاذ کا بھی کوئی امکان نہیں ہے۔ بلکہ 18ویں آئینی ترمیم میں یہ لازمی قرار دیا جا چکا ہے کہ جس صوبے میں گورنر راج لگایا جارہا ہو، وہاں صوبائی اسمبلی کی دو تہائی اکثریت اس بات کی اجازت دے۔

اگر جنگ یا ایمرجنسی کی صورت میں کسی صوبے میں گورنر راج لگانا ضروری ہو تو اس کے لیے بھی حکومت کے بجائے پارلیمان سے اجازت لینا ہو گی۔

گزشتہ دنوں میئر کراچی وسیم اختر نے مصطفیٰ کمال کو کچرا اٹھانے میں مدد کے لیے ڈائریکٹر گاربیج کے عہدے پر تعینات کیا تھا لیکن اگلے ہی روز انہیں معطل کردیا گیا (فائل فوٹو)
گزشتہ دنوں میئر کراچی وسیم اختر نے مصطفیٰ کمال کو کچرا اٹھانے میں مدد کے لیے ڈائریکٹر گاربیج کے عہدے پر تعینات کیا تھا لیکن اگلے ہی روز انہیں معطل کردیا گیا (فائل فوٹو)

اگرچہ وفاقی وزیرِ قانون آرٹیکل 149 کے تحت کراچی کا کنٹرول وفاقی حکومت کے حوالے کرنے کو اپنی ذاتی رائے قرار دے رہے ہیں لیکن اسی قسم کے مطالبات ان کی جماعت متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم) کے رہنما بھی کر چکے ہیں۔

ماضی قریب میں ایم کیو ایم کے رہنما کراچی کے مسائل کے حل کے لیے وفاقی حکومت سے مداخلت کا مطالبہ کر چکے ہیں۔ جب کہ پیپلز پارٹی نے اسے گورنر راج کے مطالبے سے تعبیر کیا تھا۔

معاملے کا پسِ منظر کیا ہے؟

وفاقی وزیرِ قانون کی جانب سے آرٹیکل 149 کے نفاذ کی تجویز اس وقت سامنے آئی ہے جب وزیرِ اعظم عمران خان نے کراچی کے مسائل کے حل سے متعلق قانونی رکاوٹیں دور کرنے کے لیے ’کراچی اسٹریٹجی کمیٹی‘ قائم کر دی ہے۔

اس کمیٹی میں تحریکِ انصاف اور ایم کیو ایم کے اراکین تو شامل ہیں لیکن صوبۂ سندھ میں برسر اقتدار جماعت پیپلز پارٹی کو شامل نہیں کیا گیا۔

پیپلز پارٹی نے اس کمیٹی کو غیر آئینی قرار دیتے ہوئے سخت ردِّ عمل کا اظہار کیا ہے اور اسے صوبے میں غیر متوازی نظام سے تعبیر کیا ہے۔

سندھ حکومت کا دعویٰ ہے کہ وہ کراچی کی بہتری کے لیے اپنے حصے سے زیادہ کام کر رہے ہیں۔ (فائل فوٹو)
سندھ حکومت کا دعویٰ ہے کہ وہ کراچی کی بہتری کے لیے اپنے حصے سے زیادہ کام کر رہے ہیں۔ (فائل فوٹو)

سندھ کے وزیرِ اطلاعات سعید غنی نے کہا ہے کہ صوبائی حکومت اس بات کی اجازت نہیں دے سکتی کیوں کہ صوبے پر حکومت کرنے کا مینڈیٹ عوام نے پیپلز پارٹی کو دیا ہے۔

ایسے میں بیرسٹر فروغ نسیم نے یہ بیان دیا ہے کہ وفاقی حکومت کراچی میں آرٹیکل 149 کے نفاذ پر غور کر رہی ہے جو ان کے خیال میں کراچی کے دیرینہ مسائل کا واحد حل ہے۔

دوسری جانب یہ اطلاعات بھی ہیں کہ وزیرِ اعظم عمران خان 14 ستمبر کو کراچی کا ایک روزہ دورہ کریں گے جس میں آرٹیکل 149 سے متعلق کوئی اعلان کیا جا سکتا ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG