رسائی کے لنکس

logo-print

کراچی میں پر تشدد واقعات کے دوران مزید 8 افراد ہلاک


جمعہ کو شہر کے زیادہ تر کاروباری مراکز کھلے رہے تاہم جن مراکز میں جمعہ کی ہفتہ وار چھٹی ہوتی ہے وہ بند رہے۔ ادھر ایک دن کی ہڑتال کے بعد پبلک ٹرانسپورٹ بھی سڑکوں پر رواں دواں رہا جس سے معمولات زندگی پھر بحال ہوتے نظر آئے

کراچی میں جمعہ کوبھی مختلف علاقوں سے حالات کشیدہ ہونے ، فائرنگ اور ٹارگٹ کلنگ کی اطلاعات موصول ہوئیں جبکہ کچھ علاقوں میں پولیس نے جرائم پیشہ افراد کے خلاف آپریشن بھی کیا۔ آج ہونے والے پر تشدد واقعات میں 8 افراد ہلاک ہوئے جس کے بعد چار دنوں کے دوران مرنے والوں کی تعداد 30سے زائد ہوگئی۔

جمعہ کی صبح بنارس میں حالات اس وقت کشیدہ ہو گئے جب دوگروپوں کے درمیان تصادم میں ایک شخص ہلاک ہو گیا ۔ واقعہ کے بعد پولیس او ررینجرز نے علاقے کا محاصرہ کر لیا اور آپریشن کے دوران متعدد افراد کو گرفتار کر لیا ۔تاہم گرفتاریوں کے خلاف خواتین کی جانب سے احتجاج کیا گیا ۔

بنارس کے علاوہ منگھوپیر ، شریف آباد ، گارڈن ، کورنگی بلال کالونی ، لانڈھی کی کنواری کالونی ، جیکسن اوربنارس میں اے این پی کے عہدیدار ہدایت اللہ اور ایک پولیس اہلکار سمیت سات افراد ہلاک ہو گئے جس کے باعث مذکورہ علاقوں میں کشیدگی دیکھی گئی ۔

جمعہ کو شہر کے زیادہ تر کاروباری مراکز کھلے رہے تاہم جن مراکز میں جمعہ کی ہفتہ وار چھٹی ہوتی ہے وہ بند رہے۔ ادھر ایک دن کی ہڑتال کے بعد پبلک ٹرانسپورٹ بھی سڑکوں پر رواں دواں رہا جس سے معمولات زندگی پھر بحال ہوتے نظر آئے۔

کراچی جمعہ کو بھی قتل و غارت کا سلسلہ جاری رہا مزید آٹھ افراد لقمہ اجل بن گئے ، شہر میں جلاؤ گھیراؤ کے واقعات میں کمی دیکھی گئی جس سے چند علاقوں کے علاوہ شہر بھر میں کاروباری مراکز کھلے رہے اور پبلک ٹرانسپورٹ کی دستیابی سے معمولات زندگی دوبارہ بحال ہو گئے ۔

شہر میں منگل کو ایم کیو ایم کے ایک عہدیدار کی ہلاکت کے بعد شیدیدفائرنگ ، جلاؤ گھیراؤ اور پرتشدد واقعات رونماہوئے ۔ان کے نتیجے میں چار دنوں میں مجموعی طور پرسیاسی کارکنان او رقانون نافذ کرنے والے اداورں کے اہلکاروں سمیت 31 افراد کو لقمہ اجل بنایا گیا اور 58 گاڑیاں نذر آتش کی گئیں ۔

جمعہ کو کئی روز کی کشیدگی کے بعد شہر کی تمام بڑی مارکیٹیں کھلی رہیں اور شہریوں کی بڑی تعداد نے روز مرہ ضروریات زندگی کی خریداری کی ۔ اس کے علاوہ دفاتر اور اسکولوں میں بھی حاضری معمول کے مطابق رہی ۔

ادھر شہر میں سب سے بڑی جماعت کے قائد الطاف حسین نے ایک بیان میں شہریوں سے اپیل کی ہے کہ وہ اپنی حفاظت کیلئے محلوں اور مارکیٹوں میں حفاظتی کمیٹیاں تشکیل دیں۔ انہوں نے کہا حفاظتی ٹیم کے پاس تیز آواز والا الارم سسٹم بھی موجو د ہو تاکہ کسی خطرے ، چور یا ڈاکو کی آمد پر اسے بجا کر ہر گلی اور محلے کے لوگوں کو بیدار کیاجاسکے۔

XS
SM
MD
LG