رسائی کے لنکس

logo-print

کراچی میں ٹارگٹ کلنگ : شکر ہے ہم بچ گئے


1987 کا ایک منظر

رات کے 9بجے ہیں۔ مقام نیوکراچی کا سیکٹر فائیو ایف۔یہ چھوٹا سا سیکٹر ہے جہاں گنجان آبادی کے ساتھ ساتھ ایک چھوٹی سی مارکیٹ بھی ہے۔ مقامی افراد اسے لال مارکیٹ کے نام سے پکارتے ہیں۔ پی ٹی وی سے پیش ہونے والے مشہور ڈرامے کی قسط ابھی ختم ہی ہوئی ہے ، لوگوں کے گھروں میں معمول کے مطابق رات کے کھانے کے لئے دسترخوان لگے ہی ہیں۔ ادھر مارکیٹ میں لوگوں کی گہماگہمی ہے۔ چائے کے ہوٹل پر بیٹھے افراد دن بھر کی تھکن اتارنے کے لئے دوستوں کے ساتھ محو گفتگو ہیں۔ یہ لوگ ابھی ابھی ڈرامہ دیکھ کر گھروں سے باہر نکلے ہیں اور موضوع بحث ڈرامے کے پیچ و خم ، کہانی کے نئے موڑ اور اداکاروں کی محنت پر تبصرے ہیں۔

اچانک مارکیٹ کے ایک کونے سے خودکار ہتھیاروں سے اندھا دھند اور خوفناک فائرنگ کی آوازیں بلند ہوتی ہیں جنہیں سن کر لوگوں نے آناً فاناً بھاگنا شروع کردیا، کوئی کہیں تو کوئی کہیں جان بچانے کے لئے بھاگ کھڑا ہوا۔ طوفانی اسپیڈ سے دکانوں کے شٹر بند ہونے لگے۔ ہوٹل والے کا دودھ گرا، مٹھائی والے کا شوکیس چٹخا، تندورکی دیوارسے چپکی روٹی جل گئی، پیو، شبن، محمود، ضیاء کسی کا کچھ پتہ نہیں۔ موٹرسائیکل پر سوار نامعلوم افراد فائرنگ کرتے اور دندناتے ہوئے مارکیٹ کے ایک کونے سے دوسرے کونے تک آئے اور پھر رات کے اندھیرے میں نہ جانے کہا ں گم ہوگئے ۔

۔۔۔اورپیچھے رہ گئے مردہ جسم ، زخمی افراد، ان کے عزیز و اقارب کی آہ و بقا۔۔۔چھلنی در و دیوار ۔۔۔اسپتالوں کو بھاگتے ماں باپ اور۔۔۔سسکیاں!!!

فائرنگ کرنے والے کون تھے؟ کچھ پتہ نہیں!مرنے والوں کا قصور کیا تھا ، معلوم نہیں، کیوں مارا، جانتا کوئی نہیں۔۔خوف کے مارے سارے علاقے میں سناٹا چھا گیا، لوگوں نے خوف کے مارے ٹی وی ہی نہیں ، سارے گھر کی لائٹیں بھی بند کردیں، اور جہاں چند منٹوں پہلے رونق لگی تھی، وہاں اب رات کی سیاہی، خوف، سناٹا اور اندھیرا چھا گیا۔ غالباً صبح تک یہی حال رہے گا، کشیدگی صبح بھی برقرار رہ سکتی ہے۔۔۔واقعہ بہت بڑا ہے، جانے کتنے مرے ہوں گے، مرنے والوں کے گھروں میں لوگوں کی بھیڑ اکھٹا ہوگی۔۔۔ پولیس آئے گی۔۔شہادتیں جمع ہوں گی، بیان مانگے گی۔۔کتنے گرفتار اور کتنوں کو مزید تفتیش کے لئے تھانے بلایا جائے گا۔۔۔۔ڈھیروں خوف اور بہت سارے انجانے خدشات تھے۔۔رات بھی شاید انہیں خدشات میں گزرے۔ گھر کے بڑے بوڑھوں نے نوجوانوں کو سمجھاناشروع کردیا۔۔۔کسی سے کچھ مت کہنا، کوئی بیان نہ دینا۔۔کہہ دینا میں بیمار تھا۔۔۔وقت سے پہلے سو گیا تھا۔۔کام پر سے واپس نہیں آیا تھا۔۔۔ورنہ پولیس خواہ مخواہ تنگ کرے گی۔۔۔

ایک خدشہ یہ بھی تھا کہ علاقے میں اتنی بڑی واردات ہوئی ہے جانے کتنے دن بازار بند رہیں گے۔ ہوا بھی یہی! اگلے دن کچھ دکانیں کھلیں،کچھ نہیں کھلیں۔مارکیٹ میں دن بھر خوف چھایا رہا لہذا مغرب کی اذان کے ساتھ ہی جو دکانیں کھلی تھیں وہ بھی بند ہوگئیں۔محلے میں کئی دن تک افسوس، خوف اور ڈر کی فضاء قائم رہی۔

2010کا ایک منظر

شام کا جھٹپٹا شروع ہی ہوا تھا کہ شہر کے مختلف علاقوں سے ٹارگٹ کلنگ کی خبریں آگئیں۔ ٹی وی کھولا تو دیکھاجتنے نیوز چینل تھے سب کے سب ٹارگٹ کلنگ کی خبریں دے رہے تھے۔ کہیں مرنے والوں کی تعداد درجن بھر تھی تو کہیں اس سے بھی زیادہ۔ساتھ ہی اینکرز یہ بھی کہہ رہے تھے کہ شہر کے فلاں فلاں علاقوں میں مشتعل افراد نے کئی گاڑیوں کی آگ لگا دی ہے۔ کچھ بینک ، پیٹرول پمپس اور سرکاری املاک کو بھی نقصان پہنچایا گیا ۔ ۔۔۔

رات ہوتے ہوتے پریشان ہو کر متاثرہ علاقوں میں موجود اپنے رشتے داروں کو فون کیا تو معلوم ہوا معاملہ تھم گیا ہے۔ علاقہ کچھ دیر تو بند ہوا پھر سب کچھ نارمل ہوگیا۔ علاقے کے کچھ لوگ مارے ضرور گئے مگر باقی لوگوں پر اس کا کوئی فرق نہیں پڑا۔ بازار پھر سے کھل گئے، لوگوں کی گہما گہمی پہلے ہی طرح ہی ہوگئی جیسے کچھ ہوا ہی نہ ہو۔ نہ کسی کو مرنے والوں کا غم تھا ، نہ زخمیوں کی پروا۔ نہ پولیس آنے کا خوف تھا نہ پوچھے جانے کا ڈر۔۔۔!!

کسی کو یہ بھی پروا نہ تھی کہ آئندہ دنوں میں کیا ہوگا ، گھر میں راشن کی فکر تھی نہ کرفیو لگنے کا اندیشہ۔ کسی کو پکڑے جانے کا بھی خوف نہیں تھا۔ سب کی سوچ یہی تھی کہ ۔۔۔شکر ہے ہم بچ گئے۔۔۔

بدلتی دنیا ،بدلتے لوگ

1987سے 2010ء تک کے 23درمیانی سالوں میں اتنا کچھ بدل گیا کہ گنوانا مشکل ہے۔ فائرنگ کا نام ٹارگٹ کلنگ کیا ہوا ۔۔سب کے دل سے خوف نکل گیا۔ کراچی کے ایک پرانے باسی شبیر علی کہتے ہیں، "ٹارگٹ کلنگ روز کا معمول ہوگیا۔۔۔اب کہاں تک ڈریں۔۔۔کتنا ڈریں۔۔! اب تو دس بیس لوگ ویسے ہی لوٹا ماری میں مرجاتے ہیں، کہاں تک غم کریں"۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اس بیان سے ظاہر ہوتا ہے لوگوں میں بے حسی عود کرآئی ہے۔ روز روز کے واقعات معمول بن جائیں تو ایسا ہونا لازمی ہے۔ماہرین نفسیات کہتے ہیں کہ اب پر تشدد واقعات لوگوں کا بلڈ پریشر ہائی نہیں کرتے۔

ایک اور کراچی واسی علی شیرکا کہنا ہے کہ کراچی والوں نے اتنے ہنگامے ، کرفیو، گولا بارود اور جلاوٴ گھیراوٴ دیکھ لیا ہے کہ اب کسی چیز سے ڈر نہیں لگتا۔ پہلے پہل چاقو یا چھری سے لوگوں کو کوئی لوٹ لے تو خوف چھا جا تا تھا۔۔محلے میں ایک قتل ہوتا تو لوگ محلہ چھوڑ کر نئی جگہ جابستے تھے۔ اب ٹارگٹ کلنگ نئی بات نہیں رہی، اب تو بم دھماکے ، خون، لاشیں، گولیاں، بارود سب اس شہر کا روٹین ہوگئے ہیں۔

ایک بڑے سرکاری اسپتال کے ایک شعبے کے سربراہ ڈاکٹر سلیم صدیقی کہتے ہیں کہ کم وسائل اور زیادہ مسائل ہونے کی وجہ سے لوگوں میں ایک دوسرے کو برداشت کرنے کا مادہ نہیں رہا۔ بحیثیت قوم ہمیں اپنے مخالفین دشمن نظر آتے ہیں۔یا تو ہم اپنا فیصلہ دوسروں پر تھوپنا چاہتے ہیں ورنہ اسے ماردینے کے درتک جاپہنچتے ہیں۔ انتہاپسندی اسی سوچ کا نتیجہ ہے۔ کراچی کے ٹارگٹ کلنگ کے واقعات بڑھنے کی وجہ یہی سوچ ہے۔

ایک پرائیویٹ کالج کے پروفیسر احمد قادری کہتے ہیں: آج کا انسان خانوں میں بٹ گیا ہے ااور ایک خانے والے دوسرے خانے والے کو بزور طاقت اپنے خانے میں کھینچےن پر آمادہ ہے۔ کہیں مذہب کے نام پر، کہیں فرقے کے نام پر، کہیں سیاسی جماعتوں ، کہیں نظریات تو کہیں نسل کے نام پر خانوں میں تقسیم ہونے کا سلسلہ جاری ہے۔

ایک الزام یہ بھی ہے کہ حد سے زیادہ سیاسی شعور کی بیداری کا فائدہ اٹھاکر سیاسی جماعتوں نے ذہنوں پر اجارہ داری قائم کرلی ہے ۔ کراچی یونیورسٹی کے ایک عہدیدار حفیظ الرحمن کا کہنا ہے کہ تعلیمی اداروں میں سیاسی جماعتیں کچے ذہنوں کو اپنی طرف کرلیتی ہیں اور رفتہ رفتہ محلے اور پھر دفتر ہو یا بازار ہر جگہ سیاست ابھرنے لگتی ہے۔ سیاسی نظریات کا ٹکراوٴ بھی ایک دوسرے سے الجھاوٴ کا سبب بنا ہے۔

کراچی یونیورسٹی کی ہی ایک طالبہ کلثوم کا کہنا ہے کہ ملک میں اسلحہ کی خریداری پرکوئی روک ٹوک نہیں، بلکہ اسلحہ کی نمائش عام ہے۔ عام آدمیوں تک اسلحے کی دسترس بہت آسان ہے اسی لئے ٹارگٹ کلنگ کے واقعات بڑھ رہے ہیں۔کراچی کے بہت سے علاقے ایسے ہیں جہاں پولیس اور رینجرز تک داخل نہیں ہوسکتی۔سیاسی کارکنوں اور بھتہ مافیا کے پاس قانون نافذ کرنے والوں کے مقابلے میں جدید اور زیادہ اسلحہ ہے ۔

کچھ مبصرین کا کہنا ہے کہ امن و امان کی صورتحال خراب ہے۔ قانون کی عمل داری کمزور ہے اس کی وجہ سے ٹارگٹ کلنگ کے واقعات بڑھ رہے ہیں۔ ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ جرائم عام ہونے کی وجہ کرپشن کی بڑھتی ہوئی وجوہات ہیں۔ لوگ جرم کرتے ہیں یہ سوچ کر کہ اگر کچھ ہوگیا تو پیسہ دے کر چھو ٹ جائیں گے۔

بعض ناقدین یہ نظریہ بھی رکھتے ہیں کہ حکام کی جانب سے سیاسی ناراضگیوں کے سبب حتمی اقدامات نہیں اٹھائے جاتے۔ نہ کرفیولگایا جاتا ہے نہ فوج بلائی جاتی ہے۔ لہذا واقعات بڑھتے چلے جارہے ہیں۔

XS
SM
MD
LG