رسائی کے لنکس

logo-print

کراچی: لانڈھی میں فائرنگ، دو سیکورٹی اہل کار ہلاک


وزیر اطلاعات سندھ نے کہا ہے کہ سیکورٹی فورسز دہشتگردوں کے خلاف لڑ رہی ہیں، اور ’جب تک شہر میں دہشتگرد عناصر موجود ہیں، ٹارگٹڈ آپریشن جاری رہے گا‘

کراچی کے علاقے لانڈھی میں اتوار کے روز نامعلوم افراد نے رینجرز کی ایک چوکی کے قریب حملہ کیا، جس واقعے میں سکیورٹی کے دو اہل کار ہلاک ہوئے۔

پولیس کے مطابق، فائرنگ کے اس واقع میں رینجرز کے دو جوان شدید زخمی ہوئے، جنھیں فوری طور اسپتال منتقل کیا گیا، جہاں وہ جانبر نہ ہو سکے۔

پولیس ذرائع کا کہنا ہے کہ رینجرز پر حملے کی تحقیقات کی جا رہی ہے۔

وزیر اعظم نواز شریف نے کراچی میں رینجرز پر حملےکی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے میڈیا کو جاری ایک بیان میں کہا ہے کہ ’کراچی میں امن بحال کرنے والوں پر بزدلانہ حملے قابل مذمت ہیں‘۔

اُنھوں نے مزید کہا کہ کراچی میں قیام امن کے لیے رینجرز نے بیش بہا قربانیاں دی ہیں۔

ادھر، سندھ کے صوبائی وزیر اطلاعات، شرجیل انعام میمن کا کہنا ہے کہ سیکورٹی اداروں کے اہل کاروں کی ہلاکت کے واقعات کراچی میں جاری دہشت گردوں کے خلاف ٹارگٹڈ آپریشن کا ‘ردعمل ہے‘۔

’وائس آف امریکہ‘ کی نمائندہ سے خصوصی گفتگو میں شرجیل میمن نے کہا کہ ’دہشتگردوں کو جب موقع ملتا ہے وہ وردی میں ملبوس سیکورٹی اہلکاروں کو نشانہ بناتے ہیں‘۔

اُنھوں نے کہا کہ، ’گزشتہ کئی روز سے دہشتگرد پولیس اہلکاروں کو نشانہ بنارہے ہیں، جبکہ آج رینجرز کے دو جوانوں کے قتل کا واقعہ سامنے آیا ہے‘۔

وزیر اطلاعات سندھ نے کہ سیکورٹی فورسز دہشتگردوں کے خلاف لڑ رہی ہیں، اور ’جب تک شہر میں دہشتگرد عناصر موجود ہیں ٹارگٹڈ آپریشن جاری رہے گا‘۔

واضح رہے کہ گزشتہ سال ستمبر میں شروع ہونے والے 'کراچی آپریشن' میں رینجرز اور پولیس کی درجنوں چھاپہ مار کاروائیوں میں اب تک کئی دہشتگردوں کو ہلاک و گرفتار کیا گیا ہے، جب کہ سیکورٹی اداروں کو نشانہ بنائے جانے کے واقعات بھی روز بروز سامنے آ رہے ہیں۔

XS
SM
MD
LG