رسائی کے لنکس

logo-print

کراچی اربن فاریسٹ کا تنازع ہے کیا؟


کراچی کے اربن فاریسٹ میں میئر کراچی نے پودا لگا کر اسے دوبارہ انتظامیہ کے حوالے کر دیا۔

کراچی میونسپل کارپوریشن (کے ایم سی) نے شہر کے واحد 'اربن فاریسٹ' کا انتظام پہلے خود سنبھالنے کا اعلان کیا لیکن پھر دوبارہ یہ اس کے منتظم شہزاد قریشی کے سپرد کر دیا گیا۔

یہ اربن فاریسٹ 10 ماہ قبل کے ایم سی نے یہ کہہ کر لیا تھا کہ اس میں کوئی خاطر خواہ کام نہیں کیا جا رہا۔ البتہ مقامی افراد یہ سوال کرتے نظر آئے اگر واقعی اس کے منتظم شہزاد قریشی کام نہیں کر رہے تو میئر کراچی وسیم اختر کو ایسا کیا نظر آیا کہ وہ قائل ہو گئے۔ اور پھر یہ پیش کش بھی کر دی کہ مزید پارک بھی اربن فارسٹ بنائے جائیں۔

اس حوالے سے وائس آف امریکہ نے شہزاد قریشی سے رابطہ کیا جو اس اربن فاریسٹ پارک کو کے ایم سی سے پانچ برس کی مدت کے معاہدے پر لے چکے ہیں۔ یہ فیصلہ انہوں نے 2015 کی ہیٹ ویو کے بعد کیا تھا کہ شہر میں بھی جنگل اگا کر درجہ حرارت کو کم کرنے کا تجربہ کیا جاسکتا ہے۔

کام کی سست روی ہے یا اداروں کی غلط فہمی؟

شہزاد قریشی کے مطابق کے ایم سی کے ساتھ ان کا پانچ سال کا معاہدہ ہے جس کی رو سے وہ اس پارک میں 50 ہزار درخت اگا کر اسے جنگل بنا دیں گے۔ لیکن کے ایم سی پارکس ڈپارٹمنٹ کو ایسا لگتا ہے کہ اتنی بڑی تعداد میں درخت نہیں لگائے گئے کام سستی روی کا شکار ہے۔

شہزاد قریشی کہتے ہیں کہ 50 ہزار درخت ایک ساتھ لگا کر گھاس کی طرح نہیں اگ سکتے۔ اس سارے کام کے لیے زمین کے ساتھ کام کرنا پڑتا ہے جس کے لیے میاواقی طریقہ کار سے زمین کو قدرتی اعتبار سے زرخیز بنایا جاتا ہے تاکہ اس پر ہر طرح کا درخت لگایا جاسکے۔

انہوں نے بتایا کہ اس کام کو کرتے ہوئے ہم اب تک 15 ہزار درخت لگا چکے ہیں جن میں سے بیشتر تیزی سے بڑھ رہے ہیں۔ پارکس ڈپارٹمنٹ میں کچھ لوگ ایسے ہیں جو آگے غلط معلومات دے رہے ہیں۔ جس کے سبب پچھلے برس بھی پارک ہم سے لے لیا گیا تھا۔

ان کا کہنا تھا کہ لوگوں کے سمجھانے پر پارک واپس ملا۔ پھر 10 ماہ گزرنے کے بعد دوبارہ اس کے کے ایم سی کی تحویل میں لیے کے احکامات آ گئے۔

انہوں نے کہا کہ مئی 2017 میں ہم نے پارک ڈپارٹمنٹ سے اس کام کی اجازت لی۔ تین مہینے ہمیں اس کا نقشہ اور ڈیزائن بنانے میں لگے۔ معاہدے کو ہوئے ڈھائی برس ہوئے لیکن شروع کے ایک سال تک مجھے اس کا پائلٹ پروجیکٹ اور نقشے منظور کروانے کے لیے دفاتر کے چکر لگانے پڑے۔

شہزاد قریشی کے مطابق ارب فاریسٹ پارک میں مارچ 2018 سے باقاعدہ پودے لگانا شروع کیے گئے۔

اس معاملے پر وائس آف امریکہ نے ڈائریکٹر جنرل پارکس آفاق مرزا سے رابطہ کرنے کی کوشش کی لیکن ان کا کوئی جواب موصول نہیں ہوا۔

یہ مسئلہ اجاگر کیسے ہوا؟

سوشل میڈیا پر چار ستمبر سے سول سوسائٹی اور شہزاد قریشی کی جانب سے پارک کی بندش کے حوالے سے مہم چلائی گئی۔

مہم میں کے ایم سی کی جانب سے شہزاد کو جاری کردہ نوٹس بھی شئیر کیا گیا۔

ویڈیو پیغامات اور ٹوئٹس کے ذریعے عوام کو بتایا گیا کہ ان کی مدد سے لگائے جانے والے پودوں اور درختوں پر 'اربن فارسٹ' کام نہیں کر پا رہا۔

اس کے کچھ ہی دن بعد ایک ویڈیو وائرل ہوئی جس میں کے ایم سی کے کچھ مالیوں کی جانب سے پارک میں لگائے جانے والے پودے اور درختوں کو اکھاڑنے کا کام ہوتا دکھائی دیا جس پر شہریوں نے شدید احتجاج کیا۔

مختلف لوگوں نے پارک میں جاکر اس عمل کے خلاف آواز اٹھائی۔

صوبائی مشیر برائے ماحولیات مرتضی وہاب نے ٹوئٹ میں کہا کہ وہ اس مسئلے کو دیکھیں گے۔

مرتضیٰ وہاب کی ہدایت پر حکام نے ارب فاریسٹ پارک کا دورہ کیا۔

معاملہ آگے بڑھتا گیا اور اس دوران شہزاد قریشی بھی کوشش کرتے ہوئے میئر کراچی وسیم اختر سے ملاقات کرنے میں کامیاب ہوگئے۔

یہ پارک کس کی ملکیت ہے؟

مبینہ طور پر ایسے پارکس کا ڈی ایم سی سے کوئی تعلق نہیں۔ شہر کے تمام پارکس کے ایم سی کی ملکیت ہیں اور اس کا ایک شعبہ جو صرف پارکس سے متعلق ہے، وہ اس کام کو دیکھتا ہے۔

شہزاد قریشی نے 2017 میں اسی محکمے سے اس پارک کو لینے کی اجازت طلب کی تھی اور اسی نے دو بار پارک واپس لیا۔

یہ پارک کلفٹن میں نہر خیام کے پاس ہے اور کئی برس سے غیر آباد اور اجاڑ تھا۔

میئر کراچی نے فیصلہ کیسے واپس لیا؟

شہزاد قریشی کی میئر کراچی سے ملاقات اور ان کو معاملے پر بریفنگ دینے کے بعد جو نیا موڑ سامنے آیا وہ وسیم اختر کا 12 ستمبر کو اربن فاریسٹ کا دورہ تھا۔

میئر کراچی وسیم اختر کے اس دورے میں کے ایم سی کا عملہ بھی ہمراہ تھا۔ جنہوں نے وسیم اختر کو بتایا کہ کس طرح پودے لگائے جاتے ہیں ان پر کیا خرچہ آتا ہے۔ کتنے مالی یہاں ان کی دیکھ بھال کر رہے ہیں۔

تفصیل جاننے اور دیکھنے کے بعد میئر کراچی نے پارک میں خود بھی ایک پودا لگایا اور پارک شہزاد قریشی کو واپس دے دیا۔

میئر کراچی کی اربن فاریسٹ کی حمایت

میئر کراچی وسیم اختر کا کہنا ہے کہ میں ڈھائی برس سے اس انتظار میں تھا کہ یہ کام کہاں تک پہنچا ہے یہ کون سا پارک ہے جو ابھی تک نہیں بن پا رہا کیونکہ باغ ابن قاسم ہم نے ایک سال میں بنا دیا تھا جبکہ وہ 130 ایکٹر کا باغ ہے اور یہ تین ایکڑ کا ہے۔

اربن فاریسٹ کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ خود دیکھنے پر سمجھ آیا کہ اس کے بننے کا طریقہ ہی ایسا ہے کہ اس کے لیے وقت درکار ہے۔

اربن فاریسٹ کی انتظامیہ کا ذکر کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ کے ایم سی ان کے ساتھ ہے اور ان کی مدد بھی کرے گی ۔

ان کا کہنا تھا کہ میں کسی کے دباو میں یہ نہیں کر رہا۔ یہ منصوبہ اچھا لگا۔ میرے شہر کے مفاد میں ہے۔ اس لیے کر رہا ہوں۔ لوگ چاہتے ہیں کہ ان کا شہر بہتر ہو۔

کیا یہ معاملہ پیسے ا ور فنڈز کا ہے؟

وسیم اختر کا کہنا تھا کہ سول سوسائٹی اور کارپوریٹ سیکٹر کی شمولیت کے بغیر یہ کام نہیں ہوسکتا تھا۔ وفاق بھی اس شہر کو قبول نہیں کرتی نہ سندھ حکومت قبول کر رہی ہے۔

فنڈنگ کے حوالے سے انہوں نے مزید کہا کہ اس میں کوئی شک نہیں کہ معاہدے میں ایک شق ہے جس کی رو سے انہیں ہمیں بھی آن بورڈ لینا چاہیے کہ جو پیسہ مل رہا ہے وہ کہاں اور کیسے خرچ کیا جا رہا ہے۔

دوسری جانب فنڈنگ کے حوالے سے شہزاد قریشی نے بتایا کہ یہ منصوبہ پیسوں کے بغیر مکمل نہیں ہوسکتا۔ جو لوگ ہمیں پیسے دیتے ہیں ان کے اکاونٹس کی تفصیلات ہمارے پاس موجود ہے جو کبھی بھی آڈٹ کروائی جاسکتی ہیں۔

شہزاد قریشی نے بتایا کہ 12 ہزار پودوں کے پیسے ہمیں ملے ہیں ایک پودے کے لئے ہم 950 روپے لیتے ہیں جس کو آپ بارہ ہزار سے ضرب دے کر حساب لگا سکتے ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ ان ہی پیسوں میں سے اس کی دیکھ بھال ہوتی ہے جبکہ اسی میں پانی، مالی، پانی کی موٹریں، لائن اور یہاں موجود جھیل بنائی گئی ہے۔

کراچی کا پہلا ہرابھرا جنگل
please wait

No media source currently available

0:00 0:02:03 0:00

اربن فاریسٹ کا ہدف اور مستقبل

اربن فاریسٹ کا ہدف 50 ہزار درخت لگانا ہے جس کے لیے شہری پیسے بھی دے رہے ہیں اور خود آکر درخت بھی لگا رہے ہیں۔

وسیم اختر کا کہنا ہے کہ کراچی شہر کے بیشتر پارکس ویران اور اجاڑ اس لیے ہیں کہ انییں بنانے کے لیے فنڈز نہیں ہیں۔

انہوں نے سول سوسائٹی اور اربن فاریسٹ کی انتظامیہ سے درخواست کی کہ عوام کے تعاون سے اسی طرح کے دیگر منصوبے شہر کے دیگر پارکس میں بھی شروع کیے جائیں۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG