رسائی کے لنکس

logo-print

کراچی ریپڈ ٹرانسپورٹ سسٹم کے لیے ایشیائی ترقیاتی بینک کا قرضہ


کراچی میں ٹرانسپورٹ کا ایک منظر، فائل فوٹو

ایشیائی ترقیاتی بینک نے کراچی میں بس ریپڈ ٹرانسپورٹ سسٹم کی ترقی کے لیے 23 کروڑ 50 لاکھ ڈالرز کا قرضہ جاری کرنے کی منظور دے دی ہے۔ جس سے ملک کے سب سے بڑے شہر میں لوگوں کو تیز رفتار اور ماحول دوست ٹرانسپورٹ کی سہولت میسر آ سکے گی۔ تاہم ابھی معاہدے کی مزید تفصیلات آنا باقی ہیں۔

ایشیائی ترقیاتی بینک کے قرضے سے کراچی میں بس ریپڈ سسٹم کا ریڈ لائن کوریڈور تعمیر کیا جائے گا۔ ساڑھے 26 کلومیٹر طویل کوریڈور کراچی ایئرپورٹ کے قریب ماڈل کالونی سے نمائش چورنگی تک بنایا کیا جائے گا، جس میں 29 مختلف اسٹاپس اور 6،6 لین کی سڑکیں شامل ہوں گی۔ منصوبے میں پارکنگ اور کم توانائی خرچ کرنے والی اسٹریٹ لائٹس کی تنصیب بھی شامل ہیں۔

ایشائی ترقیاتی بینک کے پرنسپل اربن ڈیولپمنٹ اسپیشلسٹ برائے ٹرانسپورٹ ڈیوڈ مارگونزٹرن کا کہنا ہے کہ بڑھتی آبادی اور تیزی سے ترقی کرتے شہر کراچی کے لیے پائیدار، قابل بھروسا، محفوظ اور ماحول دوست ٹرانسپورٹیشن سسٹم کی ضرورت ہے۔ ان کے مطابق اس منصوبے سے شہریوں کو آمد و رفت میں آسانی ہو گی، ان کا معیار زندگی بلند ہو گا اور آلودگی کے مسئلے پر بھی قابو پانے میں مدد ملے گی۔

بینک حکام کے مطابق اس منصوبے میں کراچی کے بی آر ٹی منصوبے کو جدید خطوط پر استوار کرنے، ٹرانسپورٹ اتھارٹیز کی استعداد کار بڑھانے اور بسوں کی صنعت کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کرنا بھی شامل ہے۔ کوریڈور پر چلنے والی بسوں کو مویشیوں کے فضلے سے حاصل کی جانے والی بائیو گیس پر چلایا جائے گا جس کے لیے منصوبے میں بائیو گیس پلانٹ کی تنصیب بھی شامل ہے۔

حکام کے مطابق اس منصوبے سے تقریباً 15 لاکھ لوگ مستفید ہوں گے جو شہر کی آبادی کا 10 فیصد بنتا ہے۔ جب کہ یہ توقع بھی ظاہر کی جا رہی ہے کہ بس ریپڈ ٹرانسپورٹ سسٹم کے اس اہم کوریڈور کی تعمیر سے روزانہ 3 لاکھ افراد کو سفر کی سہولت حاصل ہو گی۔ اس منصوبے میں ایشیائی ترقیاتی بینک، ایشین انفراسٹرکچر اینڈ انوسیٹمنٹ اور فرانس کی بین الاقوامی ترقی کی ایجنسی کی مدد اور تعاون حاصل کیا جائے گا۔

شہری امور کے ماہرین اس منصوبے لیے ایشائی ترقیاتی بینک کی جانب فنڈز کی فراہمی کو بہت اہم قرار دے رہے ہیں لیکن ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ اس منصوبے کی تکمیل میں کئی سال لگیں گے جس کی وجہ سے کراچی کے ٹرانسپورٹ کے مسائل فوری حل ہوتے نظر نہیں آتے۔

شہری ترقی پر تحقیق سے متعلق ایک غیر سرکاری ادارے اربن ریسورس سینٹر کے ڈائریکٹر محمد یونس کہتے ہیں کہ ریڈ لائن سے قبل گرین لائن اور ییلو لائن پر چار سال سے کام جاری ہے، لیکن اب تک یہ دونوں کوریڈورز مکمل نہیں ہو سکیں۔ ان کا کہنا تھا کہ کراچی کے ٹرانسپورٹ کے مسائل کے حل کے لیے طویل المدتی اور قلیل المدتی دونوں طرح کے منصوبے شروع کرنے کی ضرورت ہے۔

محمد یونس کا مزید کہنا تھا کہ کراچی میں ٹرانسپورٹ کے مسائل سے نمٹنے کے لیے فوری طور پر کم از کم 5 ہزار بڑی بسوں کی ضرورت ہے۔ جب کہ صوبائی حکومت اعلانات اور وعدوں کے باوجود گزشتہ گیارہ سال میں بسیں سڑکوں پر نہیں لا سکیں۔ پبلک ٹرانسپورٹ کی قلت کے باعث لوگوں کی اکثریت موٹرسائیکلوں اور رکشوں پر سفر کرنے پر مجبور ہے۔

بس ریپڈ سسٹم کے ایک اور کوریڈور پر وفاقی حکومت کی فنڈنگ سے کام جاری ہے۔ بی آر ٹی کا 22 کلو میٹر طویل گرین لائن ٹریک سرجانی ٹاؤن سے شروع ہو کر ایم اے جناح روڈ پر ختم ہو گا۔ منصوبے پر کام تو تیزی سے جاری ہے تاہم اس کی تعمیر میں پہلے ہی 6 ماہ کی تاخیر ہو چکی ہے، تاہم حکام کا کہنا ہے کہ یہ پراجیکٹ اس سال کے آخر میں مکمل ہو پائے گا۔

بس ریپڈ سسٹم کے ایک اور کوریڈور اورنج لائن کی تعمیر سندھ حکومت نے کی ہے۔ ساڑھے چار کلو میٹر طویل یہ کوریڈور اورنگی ٹاون سے بورڈ آفس چورنگی پہنچ کر گرین لائن سے جا ملے گی۔ تاہم منصوبے کے ڈیزائن میں تبدیلی، غلط تعمیرات اور دیگر کئی وجوہات کی بناء پر یہ ٹریک گزشتہ کئی سال سے مکمل نہیں ہو سکا ہے۔

ایک تحقیق کے مطابق کراچی کی سڑکوں پر چلنے والی گاڑیوں میں پبلک ٹرانسپورٹ کا حصہ محض ساڑھے چار فی صد ہے، جو زیادہ سے زیادہ 42 فی صد مسافروں کی ضروریات ہی پوری کر سکتا ہے۔ شہریوں کی اکثریت آمد و رفت کے لیے پرائیویٹ گاڑیوں کا استعمال کرتی ہے جو شہر کی کل ٹریفک کا تو 36 فیصد ہے لیکن اس سے صرف 21 فی صد مسافروں کی ضروریات ہی پوری ہوتی ہیں۔

کراچی میں رکشوں اور ٹیکسیوں کی تعداد شہر کی کل ٹریفک کا 10 فی صد بتایا جاتا ہے جو 8 فی صد مسافروں کو سفری سہولیات فراہم کرتی ہیں۔

بسوں کی تعداد 4000 سے بھی کم ہے جن سے 56 لاکھ مسافروں کو سفر کی سہولت حاصل ہوتی ہیں۔ یہ روزانہ سفر کرنے والوں کی تعداد کا 42 فی صد ہے۔ اس طرح کراچی میں ایک بس کے حصے میں یومیہ 257 مسافر آتے ہیں۔ لیکن پبلک ٹرانسپورٹ کی حالت زار دیکھ کر یہ اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ 1980 کی دہائی کے بعد سے اس نظام میں کوئی جدت نہیں لائی جا سکی۔

ماضی میں سرکلر ریلوے کراچی کی پبلک ٹرانسپورٹ کا موثر ذریعہ تھا جس کے ذریعے روزانہ ہزاروں مسافر اپنی منزل مقصود پر پہنچتے تھے۔ لیکن توجہ نہ ملنے کے باعث 43 کلومیٹر طویل ٹریک 1999 میں بند ہو گیا اور کئی مقامات پر تو ریلوے ٹریک کا نام و نشان تک ہی مٹ گیا۔ اب اس منصوبے کو چین پاکستان اقتصادی راہداری کا حصہ بنا دیا گیا ہے۔ تاہم ابھی کسی کو بھی یہ علم نہیں ہے کہ یہ منصوبہ کب شروع ہو گا اور کب پایہ تکمیل کو پہنچے گا۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG