رسائی کے لنکس

logo-print

کراچی ہلاکتوں میں اضافہ کشیدگی بدستور موجود


کراچی ہلاکتوں میں اضافہ کشیدگی بدستور موجود

کراچی کے علاقے اورنگی ٹاؤن اور قصبہ کالونی میں پولیس اور رینجرز کی اضافی نفری کی تعیناتی کے باوجود پیر اور منگل کی درمیانی شب وقفے وقفے سے فائرنگ کی اطلاعات ملی ہیں اور شہر کے مختلف علاقوں میں کم از کم چھ مزید افراد کی ہلاک ہو گئے ہیں جس کے بعد گذشتہ چارروز کے دوران فائرنگ کے ان واقعات میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد 23 ہو گئی ہے جب کہ متعدد افراد زخمی بھی ہوگئے ہیں۔ ملک کے اس اقتصادی مرکزتشدد کے ان حالیہ واقعات کے باعث شہر میں کشیدگی بدستور موجود ہے ۔

اورنگی ٹاؤن کے سپرنٹنڈنٹ پولیس غیاث قریشی نے گذشتہ شام وائس آف امریکہ کو بتایا تھا کہ ہلاک ہونے والوں میں اکثریت عام لوگوں کی ہے اور اس سلسلے میں گرفتاریاں بھی عمل میں لائی گئی ہیں ۔ اُن کا یہ بھی کہنا تھا کہ فائرنگ اور پتھراؤ کے باعث علاقے میں کاروبار بند ہے اور لوگ گھر وں میں محصور ہیں۔

کراچی پولیس کے سربراہ وسیم احمد کا کہنا ہے کہ اورنگی ٹاؤن میں جاری کشیدگی دو لسانی گروپوں کے درمیان تصادم کا نتیجہ ہے اور اُن کے بقول پولیس کی نفری میں اضافہ اور شہر کو اسلحے سے پاک کیے بغیر ان واقعات پر قابو پاناممکن نہیں۔

شہر میں امن وامان برقرار رکھنے کے لیے پیر کی شام حکمران پیپلزپارٹی اور متحدہ قومی موومنٹ کے رہنماؤں کے مذاکرات ہوئے جس کے بعد دونوں جماعتوں کے رہنماؤں نے میڈیا کو بتایا تھا کہ کچھ سازشی عناصران جماعتوں کے اتحاد کو توڑنے اور شہر میں عدم استحکام کی کوششوں میں مصروف ہیں۔

XS
SM
MD
LG