رسائی کے لنکس

logo-print

کرتارپور راہداری مذاکرات، پاکستانی وفد 14 مارچ کو نئی دہلی جائے گا


سکھوں کے مقدس مقام گوردارہ صاحب کرتارپور کا ایک منظر۔ 28 نومبر 2018

پاکستان کی وزارت خارجہ نے اپنے منگل کو جاری ہونے والے ایک بیان میں کہا ہے کہ پاکستان کا ایک اعلیٰ سطحی وفد 14 مارچ کو نئی دہلی جا رہا ہے جہاں وہ نئی دہلی میں کرتار پور راہداری سے متعلق مذاکرات میں شرکت کرے گا۔

بعد ازاں ایک بھارتی وفد اسلام آباد کا دورہ کرے گا۔

بھارتی کنڑول کے کشمیر میں 14 فروری کو پلوامہ کے مقام پر ایک خودکش حملے میں بھارتی فورسز کے 49 اہل کاورں کی ہلاکت کے بعد تعلقات انتہائی کشیدہ ہو گئے تھے کیونکہ اس کی ذمہ داری ایک کالعدم گروپ جیش محمد نے قبول کرنے کا دعویٰ تھا۔ بھارت یہ الزام لگاتا ہے کہ اس گروپ کی قیادت اور تربیتی کیمپ پاکستان میں ہیں اور وہاں کے خفیہ ادارے مبینہ طور پر اس گروپ کی سرپرستی کرتے ہیں۔

کرتار پور پاکستان کی سرحد کے اندر سکھ برادری کا ایک مقدس مقام ہے،، وزیر اعظم عمران خان نے خیر سگالی کے اظہار کے طور پر کرتار پور میں سکھوں کو ویزہ فری انٹری دینے کا اعلان کرتے ہوئے سرحد تک راہداری بنانے کا اعلان کیا تھا۔

کرتار راہداری کا باضابطہ آغاز اگلے سال ہو گا۔ یہ مقام پنجاب کے دارالحکومت لاہور سے 120 کلومیٹر شمال میں واقع ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG