رسائی کے لنکس

logo-print

کرتارپور راہداری کی تقریب کے لیے بھارتی وفد کی پاکستان آمد


وفد میں بھارتی پنجاب کے وزیرِ بلدیات اور سابق بھارتی کرکٹر نوجوت سنگھ سدھو، صحافی برکھا دت اور بھارتی پنجاب کی ریاستی اسمبلی کے رکن گرجیت سنگھ اوجلا شامل ہیں۔

پاکستان اور بھارت کے درمیان مجوزہ کرتار پور راہداری کا سنگِ بنیاد رکھنے کی تقریب میں شرکت کے لیے بھارت کا ایک وفد پاکستان پہنچ گیا ہے۔

وفد کے ارکان منگل کو واہگہ بارڈر کے راستے پاکستان پہنچے جہاں انہیں پنجاب رینجرز کے حکام نے خوش آمدید کہا۔

وفد میں بھارتی پنجاب کے وزیرِ بلدیات اور سابق بھارتی کرکٹر نوجوت سنگھ سدھو، صحافی برکھا دت اور بھارتی پنجاب کی ریاستی اسمبلی کے رکن گرجیت سنگھ اوجلا شامل ہیں۔

اس موقع پر شلوار قمیض پہنے نوجوت سنگھ سدھو خاصے خوش دکھائی دیے اور اپنے مخصوص انداز میں شاعری کرتے رہے۔

صحافیوں سے گفتگو میں سدھو نے کہا کہ 12 کروڑ سکھوں کے لیے کرتارپور راہداری کے قیام کے اعلان سے بڑھ کر خوشی کی اور کوئی خبر نہیں ہوسکتی اور اس پر وہ پاکستان کے وزیرِ اعظم اور حکومت کا شکریہ ادا کرتے ہیں۔

سدھو نے کہا کہ کرتارپور راہداری امن کا راستہ ثابت ہوگا۔ امن کی راہداری کھلنے سے 60 سال کے بجائے چھ ماہ میں خوش حالی آسکتی ہے اور ان کے بقول یہ راہداری دونوں ممالک کی سرحدیں کھلنے کا باعث بھی بن سکتی ہے۔

ایک سوال کے جواب میں نوجوت سنگھ سدھو کا کہنا تھا کہ مذہب کو سیاست کی نگاہ سے نہیں دیکھنا چاہیے۔ خود پر تنقید کرنے والوں سے میرا انتقام یہی ہے کہ جاؤ معاف کیا۔

واہگہ پر وائس آف امریکہ سے گفتگو میں بھارتی صحافی برکھا دت کا کہنا تھا کہ کرتار پور راہداری کا کھلنا امن کی علامت ہے۔

انہوں نے کہا کہ بھارت اور پاکستان کے تعلقات بہت پیچیدہ ہیں۔ دونوں ملکوں کے درمیان بہت سے مسائل ہیں جو اتار چڑھاؤ کا شکار رہتے ہیں۔

ان کے بقول دونوں ملکوں کے درمیان تعلقات بظاہر آگے جا رہے ہیں اور دعا ہے کہ تعلقات جلد پیچھے نہ آئیں۔

بھارتی پنجاب کی ریاستی اسمبلی کے رکن گرجیت سنگھ اوجلا جو ننگے پیر اور ہاتھ میں امرت جل لیے واہگہ کے راستے پاکستان میں داخل ہوئے۔
بھارتی پنجاب کی ریاستی اسمبلی کے رکن گرجیت سنگھ اوجلا جو ننگے پیر اور ہاتھ میں امرت جل لیے واہگہ کے راستے پاکستان میں داخل ہوئے۔

وفد میں شامل بھارتی پنجاب کی ریاستی اسمبلی کے رکن گرجیت سنگھ اوجلا واہگہ کے راستے احتراماً ننگے پاؤں پاکستان میں داخل ہوئے۔

وائس آف امریکہ سے بات کرتے ہوئے گرجیت سنگھ اوجلا نے کہا کہ وہ مقدس پانی لے کر پاکستان آئے ہیں کیونکہ یہاں کی دھرتی دنیا بھر میں بسنے والی سکھ برادری کے لیے بہت مقدس ہے۔

"میں امرت جل لے کر آیا ہوں۔۔۔ کل گرو نانک صاحب کا جو راستہ کھلنے جا رہا ہے اس کی بنیادوں میں یہ امرت جل ڈالوں گا تاکہ دونوں ملکوں کے درمیان امن اور دوستی مزید بڑھے۔"

پاکستان کے وزیرِ اعظم عمران خان بدھ کو پاکستان کے صوبہ پنجاب کے ضلع نارووال واقع کرتار پور راہداری کا سنگِ بنیاد رکھیں گے۔

تقریب میں بھارتی وفد سمیت پاکستان میں موجود سکھ یاتری بھی شرکت کریں گے۔

پاکستان کے علاقے کرتارپور میں واقع گوردوارہ دربار صاحب سکھوں کے مقدس مقامات میں سے ایک ہے جہاں روایات کے مطابق بابا گرو نانک نے اپنا آخری وقت گزارا تھا۔

پاکستان نے راہداری کا سنگِ بنیاد رکھنے کی تقریب میں بھارتی وزیرِ خارجہ سشما سوراج اور بھارت پنجاب کے وزیرِ اعلیٰ امریندر سنگھ کو بھی دعوت دی تھی لیکن دونوں رہنماؤں نے شرکت سے معذرت کرلی تھی۔

گزشتہ روز بھارتی حکومت نے بھی پاک بھارت سرحد کے نزدیک واقع ضلع گورداس پور کے مان گاؤں میں راہداری کے قیام کا سنگِ بنیاد رکھا تھا۔ تقریب میں اعلیٰ بھارتی حکام شریک ہوئے تھے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG