رسائی کے لنکس

logo-print

کرتار پور راہداری کے دو ہیرو: عمران اور سدھو


نوجوت سنگھ سدھو نے کرتار پور راہداری کھلنے میں اہم کام کیا ہے اور سکھ برادری میں ان کی وقعت میں اضافہ ہوا ہے۔

سکھ برادری کے مذہبی پیشوا بابا گرو نانک دیو کی آخری آرام گاہ کرتار پور صاحب کے لیے ایک راہداری یا کوریڈور کی تعمیر سے نہ صرف بھارت اور پاکستان بلکہ پوری دنیا کے سکھوں میں زبردست جوش و خروش پایا جاتا ہے۔

پاکستان کے وزیر اعظم عمران خان نے ہفتے کو راہداری کا افتتاح کیا تو اس موقع پر سابق بھارتی وزیرِ اعظم ڈاکٹر من موہن سنگھ اور بھارتی پنجاب کے وزیرِ اعلیٰ کیپٹن امریندر سنگھ کے علاوہ سابق کرکٹر اور موجودہ کانگریس رہنما نوجوت سنگھ سدھو بھی موجوود تھے۔

جس طرح پاکستان میں اس راہداری کو کھولنے کا ہیرو عمران خان کو قرار دیا جا رہا ہے اسی طرح بھارت میں نوجوت سنگھ سدھو کوریڈور کے کھلنے کے ہیرو ہیں۔

سدھو اپنے کیریئر میں تین مختلف محاذ پر سرگرم رہے ہیں۔ انہوں نے 82-1981 میں بھارت کی ٹیسٹ کرکٹ ٹیم کی نمائندگی کی اور 19 سال تک کرکٹ کھیلنے کے بعد سیاست میں آگئے۔

انہوں نے 2004 میں بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) میں شمولیت اختیار کی۔ امرتسر سے الیکشن لڑا اور کامیاب ہوئے۔ وہ 2014 تک اس سیٹ سے پارلیمنٹ میں نمائندگی کرتے رہے۔ انہیں 2016 میں پارلیمنٹ کے ایوان بالا یعنی راجیہ سبھا کے لیے نامزد کیا گیا۔

مگر 2017 میں انہوں نے بی جے پی چھوڑ دی اور کانگریس میں شمولیت اختیار کر لی۔

کہا جاتا ہے کہ انہوں نے بی جے پی کی جانب سے اہلیہ کو اسمبلی کا ٹکٹ نہ دیے جانے کی وجہ سے پارٹی چھوڑی۔

سدھو نے 2017 میں امرتسر سے اسمبلی کا الیکشن لڑا اور کامیاب ہوئے۔ انہیں وزیرِ اعلیٰ امریندر سنگھ کی حکومت میں سیاحت اور بلدیاتی اداروں کا وزیر بنایا گیا۔ اس قلم دان کو سنبھالنے کے بعد انہوں نے کئی اہم کام کیے۔

کرتار پور راہداری کا افتتاح
please wait

No media source currently available

0:00 0:00:37 0:00

وزیرِ اعلیٰ کیپٹن امریندر سنگھ کے ساتھ بعض اختلافات کے بعد سدھو نے جولائی 2019 میں کابینہ سے استعفیٰ دے دیا۔ اس سے قبل انہوں نے پارلیمانی انتخابات میں بی جے پی کے خلاف جم کر انتخابی مہم چلائی تھی۔

نوجوت سنگھ سدھو ایک سیاست دان کے علاوہ ٹیلی ویژن پرسنالٹی بھی ہیں۔ وہ انڈیاز لافٹر چیلنج، کامیڈی نائٹس وِد کپل، کپل شرما شو، بگ باس اور 'کیا ہوگا نمو کا' جیسے مقبول ٹی وی شوز میں میزبانی کے فرائض انجام دے چکے ہیں۔

جب وہ بی جے پی چھوڑ کر کانگریس میں شامل ہوئے تو بعض بی جے پی رہنماوؑں کی جانب سے ان کے ٹی وی شوز کی مخالفت کی گئی اور کہا گیا کہ وہ یا تو حکومت میں وزیر ہی رہ سکتے ہیں یا پھر ٹی وی شوز ہی کر سکتے ہیں۔ دونوں جگہوں سے مالی فائدہ اٹھانا عوامی نمائندگی ایکٹ کے منافی ہے۔

اس پر اُن کے خلاف مقدمہ بھی قائم ہوا مگر عدالت نے ان کے حق میں فیصلہ سنایا۔

نوجوت سنگھ سدھو کی پاکستان کے موجودہ وزیر اعظم عمران خان کے ساتھ کافی پرانی دوستی ہے۔ اگست 2018 میں عمران خان کی بحیثیت وزیرِ اعظم حلف برداری کی تقریب میں انہیں مدعو کیا گیا تو بھارت میں بعض حلقوں کی جانب سے ان کی شرکت کی مخالفت کی گئی لیکن انھوں نے کہا کہ وہ اپنے دوست کی حلف برداری میں ضرور جائیں گے۔

سدھو نے اس تقریب میں شرکت کی۔ انہوں نے پاکستان کے آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کو گلے لگایا جس پر بھارت میں دائیں بازو کی جماعتوں کی جانب سے شدید تنقید کی گئی اور الزام عائد کیا گیا کہ پاکستان کے جس آرمی سربراہ کی قیادت میں پاکستانی فوج بھارت کے خلاف کارروائی کرتی ہے، سدھو نے اس آرمی چیف کو گلے لگا کر ملک سے بغاوت کی ہے۔

لیکن سدھو نے اپنے اس اقدام کی حمایت کی اور وہ اس پر ڈٹے رہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ قمر جاوید باجوہ نے انہیں یقین دہانی کرائی ہے کہ بابا گرو نانک کے 550 ویں یوم ولادت پر کرتارپور سرحد کو کھول دیا جائے گا۔

اسی دوران جب فروری 2019 میں پلوامہ میں بھارتی سیکیورٹی اہلکاروں کے قافلے پر دہشت گردانہ حملہ ہوا تو سدھو نے کپل شرما شو کے دوران اس حملے کی مذمت کی لیکن یہ بھی کہا کہ مٹھی بھر لوگوں کی کارستانی کی وجہ سے کیا آپ پورے ملک کو ذمہ دار ٹھرا سکتے ہیں اور کیا ایک شخص (عمران) کو ہدف بنا سکتے ہیں۔

اُن کے اس بیان پر بی جے پی کی جانب سے شدید رد عمل ظاہر کیا گیا اور بی جے پی رہنما گری راج سنگھ نے کہا کہ سدھو کو پاکستان بھیج دیا جانا چاہیے۔

کپل شرما شو کے خلاف بھی بی جے پی کارکنوں کی جانب سے ہنگامہ کیا گیا۔ جس کے نتیجے میں انہیں شو کی میزبانی سے ہٹا کر ارچنا پورن سنگھ کو نیا میزبان مقرر کر دیا گیا۔

حکومت پاکستان کی جانب سے نوجوت سنگھ سدھو کو کرتارپور راہداری کی افتتاحی تقریب میں شرکت کی باضابطہ دعوت دی گئی تو اس پر بھی بھارت میں شور مچایا گیا کہ انہیں پاکستان جانے کے لیے حکومت سے اجازت لینا ہوگی۔

انہوں نے وزارت خارجہ میں پاکستان جانے کی اجازت کے لیے درخواست جمع کرائی لیکن اس پر کوئی فیصلہ نہیں ہوا۔ اس کے بعد انہوں نے دوسری درخواست دی اور تقریب سے ایک روز قبل انہیں پاکستان جانے کی اجازت دی گئی۔

اس تقریب میں شرکت کے موقع پر انہوں نے اپنے دوست عمران خان کی زبردست ستائش کی اور راہداری کھولنے پر اُن کا شکریہ ادا کیا۔

نئی دہلی میں مقیم سکھ گوردوارہ مینجمنٹ کمیٹی کے سابق سکریٹری کرتار سنگھ کوچر کا کہنا ہے کہ یہ راہداری بہت پہلے کھل جانی چاہیے تھی۔ لیکن اب جا کر اس کا کھولا جانا بھی قابل ستائش اور لائق خیرمقدم ہے۔

انہوں نے پاکستان کے وزیرِ اعظم عمران خان کی ستائش کے ساتھ نریندر مودی حکومت کی بھی تعریف کی اور کہا کہ بعض اختلافات کے باوجود بھارتی حکومت نے تعاون کیا۔

ایک سوال پر کرتار سنگھ کوچر نے کہا کہ نوجوت سنگھ سدھو نے بھی کرتار پور راہداری کھلنے میں اہم کام کیا ہے اور سکھ برادری میں ان کی وقعت میں اضافہ ہوا ہے۔ لیکن ابھی یہ کہنا قبل از وقت ہوگا کہ اس سے بالخصوص پنجاب کی سیاست میں ان کے کیریئر پر کیا اثر پڑے گا۔

عام لوگوں کا خیال ہے کہ کرتار پور راہداری کھولنے کے لیے سدھو کی سرگرمیوں سے سکھوں میں ان کی قدر و منزلت میں اضافہ ہوا ہے اور ممکن ہے کہ اس سے ان کے مستقبل کی سیاست پر کوئی مثبت اثر پڑے۔

نوجوت سنگھ سدھو کا تنازعات سے پرانا رشتہ ہے اس لیے ان کی باتیں عام طور پر متنازع ہو جاتی ہیں۔ ایسے میں بی جے پی اور آر ایس ایس کا ٹرول بریگیڈ ان کے پیچھے پڑ جاتا ہے۔ دیکھنا یہ ہے کہ وہ اس ماحول میں اپنی سیاست کی گاڑی کس طرح آگے لے جاتے ہیں۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG