رسائی کے لنکس

logo-print

طالبان سے بات نہ کرنے کی امریکی پالیسی درست نہیں: کرزئی


فائل

سابق افغان صدر، حامد کرزئی نے کہا ہے کہ امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کی جانب سے طالبان سے بات چیت نہ کرنے کی پالیسی کے نتیجے میں، بقول اُن کے، ’’افغانستان کی لڑائی طول پکڑے گی‘‘۔

جمعرات کے روز ’وائس آف امریکہ‘ کی افغان سروس کے ساتھ ایک انٹرویو میں اُنھوں نے دعویٰ کیا کہ ’’دہشت گردی کی جڑیں افغانستان میں نہیں بلکہ پاکستان میں ہیں‘‘، اور یہ کہ ’’پاکستان کے خلاف اقدام کیا جائے‘‘۔

کرزئی نے امریکہ کی جانب سے پاکستان کے خلاف ’’دباؤ ڈالنے کی پالیسی‘‘ کی حمایت کی۔ اُنھوں نے کہا کہ وہ صدر ٹرمپ کے بیان کی حمایت کرتے ہیں جس میں الزام لگایا گیا ہے کہ پاکستان ’’غلط بیانی اور دھوکہ دہی سے کام لیتا رہا ہے‘‘۔

ٹرمپ کے اس بیان پر کہ افغانستان میں لڑائی جاری رہ سکتی ہے، سابق افغان صدر نے کہا کہ ’’یہ پالیسی سریحاً غلط ہے، جس کی میں سختی سے مخالفت کرتا ہوں‘‘۔

اُنھوں نے کہا کہ ’’ہمیں افغانستان میں امن کی ضرورت ہے اور ہم مزید جنگ و جدل نہیں چاہتے‘‘۔

رحیم گل ساروان کو دیے گئے انٹرویو میں، حامد کرزئی نے کہا کہ صدر اشرف غنی اور دیگر افغان قیادت کے پاس اختیارات کا فقدان ہے، جبکہ اگر اقتدار طالبان کے پاس ہوتا ’’تو وہ افغان عوام کے ساتھ امن قائم کرنے میں ضرور کامیاب ہوتے‘‘۔

بقول اُن کے، ’’طالبان کی نچلی سطح امن کی حامی ہے، جب کہ اُن کی قیادت اور اس کا اصل کنٹرول بیرون ملک سے ہوتا ہے‘‘۔

اُنھوں نے کہا کہ ’’افغانستان کی موجودہ صورت حال کے ذمہ دار خود ہم بھی ہیں، جب کہ ہمارے برے حالات کے ذمہ دار امریکہ اور پاکستان بھی ہیں‘‘۔ اُنھوں نے تجویز دی کہ ’’ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم امریکہ کے ساتھ ایک جب کہ پاکستان کے ساتھ دوسرا انداز اپنائیں‘‘۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG