رسائی کے لنکس

افغانستان میں مہلک حملوں کا ایک سلسلہ جاری رہنے کے بعد، صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ’’امریکہ افغان طالبان سے بات چیت نہیں کرنا چاہتا‘‘۔

ٹرمپ نے یہ بات پیر کے روز دورے پر آئے ہوئے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے ارکان کے ساتھ ملاقات کے دوران کہی ہے۔ اپنے دورے کے دوران متوقع طور پر یہ ارکان مبینہ ایرانی میزائل پُرزوں کا مشاہدہ کر سکیں گے۔

کونسل کے ارکان کو یہ موقع بھی ملے گا کہ وہ قلیل فاصلے تک مار کرنے والے میزائل کے بڑے پُرزہ جات کا مشاہدہ کر سکیں، جس کی سفیر نِکی ہیلی نے دسمبر میں واشنگٹن کے ایک فوجی اڈے پر منعقدہ اخباری کانفرنس میں آویزاں کیا تھا۔

اُس موقع پر ہیلی نے کہا تھا کہ یہ فوجی آلات ’’غیر مبہم‘‘ قسم کا ثبوت پیش کرتے ہیں کہ یمن میں ایران حوثی باغیوں کو غیرقانونی طور پر مسلح کر رہا ہے۔

دسمبر میں ہیلی نے کہا تھا کہ ’’یہ ایرانی ساختہ ہیں، جسے یمن میں حوثی شدت پسندوں کو فراہم کیا گیا، جہاں سے اِسے ایک شہری ہوائی اڈے پر داغا گیا، جس کے نتیجے میں سعودی عرب میں سینکڑوں بے گناہ شہری ہلاک ہوسکتے تھے‘‘۔

امریکیوں نے اس بات کا عندیہ دیا ہے کہ وہ اقوام متحدہ میں ایران کو انصاف کے کٹہرے میں لا کھڑا کریں گے، جو ہتھیاروں پر عائد بین الاقوامی پابندیوں کی خلاف ورزی کرتے ہوئے یمن کو ممنوعہ ہتھیار فراہم کر رہے ہیں۔

یہ ٹرمپ انتظامیہ کی اُس وسیع حکمتِ عملی کا ایک حصہ ہے جس کے تحت 2015ء کے ایران جوہری معاہدے میں رہتے ہوئے، خطے میں ایران کے منفی انداز کی قلعی کھولنے کی کوشش کرتا ہے، جس میں ایران کی جانب سے حوثیوں کے علاوہ لبنان میں حزب اللہ جیسے گروہوں کی مدد کرنا شامل ہے۔

ہیلی نے الزام لگایا تھا کہ ایران جوہری سمجھوتے کی آڑ میں کیا کچھ کر رہا ہے، مزید یہ کہ ’’یہ ایسی باتیں ہیں جو وہ کرتا ہے، جب کہ ہم دیگر خرافات پر اپنی توجہ مرکوز کیے ہوئے ہیں‘‘۔

میزائل کا یہ ملبہ سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات نے فراہم کیا ہے، جو حوثیوں کے خلاف اتحاد کے سرکردہ ملک ہیں۔ اتحاد کی جانب سے تقریباً تین سال سے جاری فضائی لڑائی کے نتیجے میں یمن میں شدید بحران نمودار ہوا ہے۔

صدر ٹرمپ نے گذشتہ سال کی طرح، سلامتی کونسل کے ارکان کو ایک ’ورکنگ لنچ‘ پر مدعو کیا تھا۔

’یو ایس ہولوکاسٹ میموریل میوزئم‘ کے دورے کے دوران، قومی سلامتی کے مشیر، ایچ آر مک ماسٹر کونسل کے ارکان کے ہمراہ ہوں گے۔ اقوام متحدہ میں امریکی مشن کے مطابق، سلامتی کونسل کے ارکان شام کے تنازع پر منعقدہ نمائش کا بھی دورہ کریں گے، جس کا عنوان ’’برائے کرم ہمیں نہ بھولیں‘‘ ہے۔

ادھر، پیر کے روز ’وائس آف امریکہ‘ سے کفتگو کرتے ہوئے، افغانستان کے لیے اقوام متحدہ کے نمائندہٴ خصوصی، تدامتی یاماموتو نے کہا ہے کہ ’’دہشت گردی کی کوئی سرحد نہیں ہوا کرتی‘‘۔ بقول اُن کے، ’’عالمی ادارہ افغانستان میں امن مذاکرات کے لیے راہ ہموار کرنے کی کوشش کر رہا ہے؛‘‘ اور یہ کہ ’’لوگ بخوبی جانتے ہیں کہ دہشت گردی کی کوئی سرحد نہیں ہوتی، جس سے افغانستان کے ہمسایہ ممالک بھی متاثر ہو رہے ہیں‘‘۔

یاماموتو نے کہا کہ ’’میرا خیال ہے کہ سلامتی کونسل انسدادِ دہشت گردی کی اہمیت کو تسلیم کرتی ہے۔ افغانستان میں مذاکرات اور سیاسی حل کے لیے تمام فریقین کی شمولیت ضروری ہے؛ اِس کے لیے پڑوسی ممالک، خصوصاً پاکستان کے ساتھ مل کر کام کرنا ہوگا‘‘۔

اس سلسلے میں، عالمی ادارے کے ایلچی نے کہا کہ فروری میں کابل میں ہونے والے مذاکرات کے لیے افغانستان میں اقوام متحدہ کا مشن حکومت کے ساتھ مل کر کام کر رہا ہے، جس میں تمام معاملات پر بات چیت ہوگی اور خطے کے ممالک بشمول پاکستان اس میں شریک ہوں گے‘‘۔

اُنھوں نے کہا کہ طالبان کے ساتھ بات چیت کے لیے افغانستان کے ہمسایہ ممالک کو بھی اعتماد میں لینا بہت ضروری ہے۔ افغانستان میں امن عمل افغان قیادت میں ہونا چاہیئے کیونکہ وہ اپنے مستقبل کے لیے کام کر رہے ہیں۔ اس میں سب کی کوششیں شامل ہونی چاہئیں۔ باغیوں سے رابطے کی کوشش کی جائے اور حقیقی مذاکرات کے لیے اُن کی بات سنی جائے‘‘۔

بقول ایلچی، ’’طالبان جب بھی مذاکرات کی میز پر آئیں یہ عمل کھلے عام نہیں ہونا چاہیئے۔ افغانستان میں پائیدار امن کے لیے کوششوں میں خطے کے مفادات بھی شامل ہونے چاہئیں، جس کے لیے خطے کے ممالک کے ساتھ مخلصانہ بات چیت ہونی چاہیئے‘‘۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG