رسائی کے لنکس

بھارتی کشمیر کے پنڈتوں کی واپسی کی قرار داد


سری نگر میں سیکیورٹی فورسز مظاہرین کے خلاف کارروائی کر رہی ہیں۔ (فائل فوٹو)

پناہ گزینوں  کی وطن واپسی کے لئے قرارداد سابق وزیرِ اعلیٰ اور حزبِ اختلاف کی سب سے بڑی جماعت نیشنل کانفرنس کے کار گزار صدر عمر عبد اللہ نے اسمبلی میں پیش کی۔

یوسف جمیل

نئی دِلی کے زیرِ انتظام کشمیر کی قانون ساز اسمبلی نے جمعرات کو ایک قرار داد کے ذریعے اُن تارکینِ وٖطن ہند وؤں کی فوری وطن واپسی کا مطالبہ کیا جو 27 برس پہلے عسکری تحریک کے آغاز پر وادیِ کشمیر کو چھوڑ کر بھارت کے مختلف علاقوں میں چلے گئے تھے۔

قرار داد میں حکومت سے کہا گیا کہِ ہندؤ پناہ گزینوں کے ساتھ ساتھ اُن اقلیتی سکھ اور اکثریتی مسلمان خاندانوں کی وطن واپسی کو بھی یقینی بنایا جائے جو تشدُد سے بچنے کے لیے وادی کشمیر میں اپنے گھر بار چھوڑ کر بھارت کے مختلف علاقوں میں پناہ لینے پر مجبور ہو گئے۔

غیر سرکاری اعدادوشمار کی مُطابق تقریبا ڈیڑھ لاکھ کشمیری ہندؤ جو عرفِ عام میں کشمیری پنڈت کہلاتے ہیں اور چند سو سکھ اور مسلمان کنبے وادیؑ کشمیر سے نقل مکانی کر گئے تھے۔ لیکن عہدیداروں کا کہنا ہے کہِ اس وقت ساٹھ ہزار کے قریب ایسے پناہ گزین خاندانوں کے نام صوباٰئی محکمہ مال میں درج ہیں جواب جموں، دِلی اور بھارت کی دوسری رِیاستوں میں رہ رہے ہیں اور حکومت اُن کی مالی معاونت کر رہی ہے۔

پناہ گزینوں کی وطن واپسی کے لئے قرارداد سابق وزیرِ اعلیٰ اور حزبِ اختلاف کی سب سے بڑی جماعت نیشنل کانفرنس کے کار گزار صدر عمر عبد اللہ نے اسمبلی میں پیش کی جس کا بجٹ اجلاس سرمائی دارالحکومت جموں میں ہورہا ہے۔

اُنہوں نے کہا کہ کشمیری پنڈتوں کے ساتھ ساتھ سکھوں اور دوسرے مذہبی فرقوں سے تعلق رکھنے والے پناہ گزینوں کو بھی واپس کشمیر لا یا جائے۔ ایوان ایک قرار داد پاس کرے تاکہ یہ سب لوگ جلد از جلد اپنے گھروں کو لوٹ سکیں۔

اسپیکر کویندر گپتا نے اُن سے اِتفاق کرتے ہوئے زور دیا کہِ پناہ گزینوں کی بحفاظت وطن واپسی کے کیے سازگار ماحول پیدا کیا جائے۔

پارلیمانی امور کے صوبائی وزیر عبدالرحمان ویری نے کہاکہ ہمیں اس مُطالبے کی اہمیت اور ضرورت سے اتفاق ہے اس لیے یہ ایوان ایک قرار داد پاس کر رہا ہے۔

ایوان میں آزاد اُمیدوار اور علاقائی عوامی اتحاد پارٹی کے لیڈر انجینئر شیخ عبد الرشید نے قرارداد کی شدید مُخالفت کرتے ہوئے کہا کہ وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی ، عبداللہ اور اسمبلی کے دوسرے ارکان کو اُن ہزاروں مسلمان خاندانوں کی بھی بات کرنی چاہئے جو بھارتی مُسلح افواج کے ظلم و ستم سے بچنے کے لیے کنٹرول لائن پار کرکے پاکستانی کشمیر میں پناہ لینے پر مجبور ہو گئے-

بھارت کے زیرِ انتظام کشمیر کی کوئی بھی سیاسی یا غیرسیاسی جماعت پنڈتوں کی وطن واپسی کے خلاف نہیں ہے تاہم استصواب رائے کا مطالبہ کرنے والی جماعتوں اور عسکری تنظیموں نے حکومت کے اُس منصوبے کی شدید مُخالفت کی ہے جس کے تحت وطن لوٹنے والے پنڈتوں وغیرہ کو الگ بستیوں میں بسایا جائے گا۔

وفاقی حکومت کی ہدایت پر صوبائی حکومت نے ان کے لیے کالونیاں قائم کرنے کے لیے کشمیر کے سات اضلاع میں سات سات الگ الگ مقامات پر اراضی کا انتخاب کر کے خطیر رقم مختص کر دی ہے-

حکمران اتحاد میں شامل بھارتیہ جنتا پارٹی کے رکنِ اسمبلی رویندر رینہ نے ایوان کے باہر نامہ نِگاروں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ قرارداد کی منظوری خوشی کی بات ہے۔ مخالفت کرنے والوں کو جیلوں میں ڈالا جائے اور جنگجوؤں سے آہنی ہاتھوں سے نمٹا جائے۔

مبصرین کا کہنا ہے کہ پنڈتوں کو الگ کالونیوں میں بسانے سے اُن کے اور اکثریتی مسلمانوں کے درمیان موجود فاصلے مزید بڑھ جائیں گے۔

XS
SM
MD
LG