رسائی کے لنکس

مظفرآباد: زلزلہ متاثرہ علاقوں کی تعمیر نو میں تاخیر کے خلاف احتجاج

  • روشن مغل

مظاہرین نے کتبے اور بینر اٹھا رکھے تھے جن پر زلزلہ زدہ علاقوں کی تعمیر نو میں تاخیر اور مبینہ بدعنوانی کے خلاف نعرے درج تھے۔ انہوں زلزلے سے بحالی و تعمیر کے وفاقی ادارے (ایرا) اور ریاستی ادارے (سیرا) کے خلاف سخت نعرے بازی کی۔

پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں اتوار کے روز بارہ برس قبل آنے والے تباہ کن زلزلے کی برسی کے موقع پر زلزلہ متاثرہ علاقوں کی تعمیر میں تاخیر کے خلاف احتجاجی دھرنا دیا گیا۔

کشمیر کی خود مختاری کی حامی تنظیموں کی طرف سے دارالحکومت مظفرآباد میں پریس کلب کے سامنے احتجاجی دھرنا دیا گیا۔

مظاہرین نے کتبے اور بینر اٹھا رکھے تھے جن پر زلزلہ زدہ علاقوں کی تعمیر نو میں تاخیر اور مبینہ بدعنوانی کے خلاف نعرے درج تھے۔ انہوں زلزلے سے بحالی و تعمیر کے وفاقی ادارے (ایرا) اور ریاستی ادارے (سیرا) کے خلاف سخت نعرے بازی کی۔

مظاہرین سے خطاب کرتے ہوئے، مقررین نے تعلیمی اداروں، اسپتالوں، یونیورسٹیوں کی تعمیر کا کام جلد از جلد مکمل کرنے کا مطالبہ کیا۔

مظاہرے میں شامل کشمیر کی خودمختاری کی سابقہ حامی تنظیم کے مرکزی راہنما افضل سلہریا نے وائس آف امریکہ کو بتایا کہ وفاقی حکومت اور زلزلے سے بحالی و تعمیر نو اتھارٹی ایرا کو ''متاثرہ علاقوں کی بحالی میں کوئی دلچسبی نہیں''۔ بقول اُن کے، ''ادارے کا حکام زلزلہ متاثرین کے لئے دی جانے والی مالی امداد سے بھاری تنخواہیں اور مراعات حاصل کر رہے ہیں''۔

انہوں نے کہا کہ متاثرین کے 55 ارب روپے جو وفاقی حکومت لے گئی تھی تاحال واپس نہیں کئے گئے، جس کی وجہ سے متاثرہ علاقوں کی تعمیر نو تاخیر کا شکار ہے۔

بقول اُن کے، مایوس کن بات یہ ہے کہ آزاد کشمیر میں 8 اکتوبر کے زلزلے سے 125 بلین روپے کا نقصان سروے کے مطابق ڈکلیئر کیا گیا تھا، جبکہ پوری دنیا سے آنے والی 166 بلین روپے جو اِمداد کی صورت میں وفاقی اور حکومتِ پاکستانی زیر انتظام کشمیر کو ملے، باقی 41 بلین روپے کہاں گئے، کوئی پتا نہیں''۔ انہوں نے مطالبہ کہ کہ متاثرین کے 55 ارب روپے فوری طور پر واپس کئے جائیں۔

قوم پرست راہنماوں نے اپنے خطاب میں کہا کہ وزیر اعظم آزاد کشمیر راجہ فاروق حیدر خان جب حکومت میں نہیں تھے تو ہر دوسرے دن وفاق سے 55 ارب روپے واپسی کیلئے احتجاج اور دھرنے دینے کی دھمکی دیتے تھے؛ مگر، مسلم لیگ (ن) کو حکومت کو ایک سال سے زائد کا عرصہ گزر گیا ہے ابھی تک متاثرین کے 55ارب روپے واپس نہیں کئے گئے۔

زلزلے کی برسی کے موقع پر پاکیستانی زیر انتظام کشمیر کے متاثرہ اضلاع باغ اور راولاکوٹ کے علاوہ علاقے سے ملحقہ صوبی خیبر پختونخوا کے شہر بالاکوٹ میں بھی زلزلے میں شہید ہونے والوں کو خراج تحسین پیش کرنے کے لیے دعائیہ تقاریب منعقد کئی گئیں۔

زلزلے میں ہلاک ہونے والوں کو خراج عقدت پیش کرنے کے لئے دارالحکومت مظفراباد میں دعائیہ تقریب منعقد کی گئی، جس میں پاکستانی کشمیر کے قائم مقام وزیر اعظم راجہ نثار خان اور دیگر حکومتی عہداروں نے بھی شرکت کی۔

متاثرہ علاقوں میں لوگ زلزلے میں شہید ہونے والوں کی قبروں پر گئے۔ بھول چڑھائے اور شہدا کے درجات کی بلندی کے لئے دعائین کیں۔

واضع رہے کہ پاکستان اور اس کے زیر انتظام کشمیر میں بارہ برس قبل آج ہی کے روز آنے والے سات اعشاریہ چھ شدت کے تباہ کن زلزلے میں 75 ہزار افراد موت کا شکار ہوئے اور کئی سو ارب روپے کا مالی نقصان ہوا۔ پاکستان کی اپیل پر عالمی برادری نے متاثرہ علاقوں کی بحالی کے لئے چھ ارب ڈالر کی امداد مہیا کی۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG