رسائی کے لنکس

logo-print

بھارتی کشمیر میں ڈومیسائل کا نیا قانون، کیا خدشات جنم لے رہے ہیں؟


فائل فوٹو

بھارت کی حکومت اور مقامی انتظامیہ نے گزشتہ ایک سال میں جموں و کشمیر میں متعدد نئے قوانین متعارف کرائے ہیں جب کہ کئی قوانین کو تبدیل بھی کیا گیا ہے جس پر حزبِ اختلاف کی جماعتوں نے تحفظات کا اظہار کیا ہے۔

حزب اختلاف کا مؤقف ہے کہ کشمیر میں عوامی حکومت موجود نہیں ہے اور نہ ہی منتخب نمائندوں پر مشتمل اسمبلی ہے جو ایک جمہوری نظام میں قانون سازی کے مجاز ہوتے ہیں۔

مقامی لوگ بھی اضطرابی کیفیت کا شکار ہیں کیوں کہ انہیں خدشہ ہے کہ نئے قوانین اور ضابطوں میں رد و بدل، بالخصوص نئے اقامتی قانون (ڈومیسائل لا) کا نفاذ، مسلم اکثریتی ریاست کی آبادیات کو تبدیل کرنے کا بھارتی حکومت کا مبینہ منصوبہ ہے۔

غیر مقامی افراد کو شہریت کی اسناد کا اجرا

نئے قانونِ اقامت کے تحت غیر مقامی افراد کو بھی کشمیر کی شہریت کی سند دی جا رہی ہے۔

سرکاری ذرائع سے حاصل ہونے والے اعداد و شمار کے مطابق اس قانون کے تحت اب تک چار لاکھ کے قریب شہریت کی سندیں جاری کی جا چکی ہیں۔ مبینہ طور پر ان میں ایک بڑی تعداد ان لوگوں کی ہے جو ریاست کے مستقل باشندے نہیں ہیں۔

رپورٹس کے مطابق دہائیوں قبل سابقہ مغربی پاکستان سے ہجرت کر کے جموں کے مختلف سرحدی علاقوں میں سکونت اختیار کرنے والے ہزاروں ہندو پناہ گزینوں کو بھی مستقل رہائشی ہونے کی اسناد جاری کی جا رہی ہیں۔

بھارت کی سول سروسز آئی اے ایس میں شامل بعض افسران، ان کے اہلِ خانہ، بالمیکی سماج ﴿خاکروبوں﴾ اور گورکھا برادری کے اراکین کو بھی ڈومسائل سرٹیفیکیٹ جاری کیے گئے ہیں۔

جموں کشمیر میں آئینی تبدیلی کا ایک سال مکمل
please wait

No media source currently available

0:00 0:03:44 0:00

بھارت کی حکومت نے گزشتہ سال اگست میں کشمیر کی خصوصی آئینی حیثیت ختم کر کے ریاست کو براہِ راست مرکز کے کنٹرول والے دو حصوں میں تقسیم کیا تھا۔ اس کے بعد جموں اور وادیٴ کشمیر جو اب یونین ٹریٹری آف جموں اینڈ کشمیر کہلاتے ہیں، کے لیے نیا قانونِ اقامت تشکیل دیا گیا ہے۔

نئے قانونِ اقامت نے 1927 سے لاگو 'اسٹیٹ سبجیکٹ لا' کی جگہ لے لی۔ اسٹیٹ سبجکٹ لا کے تحت کشمیر کے پشتنی یا مستقل باشندے ہی ریاست میں غیر منقولہ جائیدار خرید سکتے تھے۔ جب کہ سرکاری ملازمتیں بھی مستقل باشندوں کے لیے مخصوص تھیں۔ اس قانون کے تحت ریاست کے مستقل باشندوں کو ایک خصوصی دستاویز جاری کی جاتی تھی جو 'اسٹیٹ سبجیکٹ سرٹیفیکیٹ' کہلاتی تھی۔

حکام نے کچھ عرصہ قبل 'اسٹیٹ سبجیکٹ سرٹیفیکیٹ' جاری کرنا بند کر دیے تھے۔ تاہم پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر میں 'اسٹیٹ سبجیکٹ لا' اب بھی نافذ ہے۔

دفعہ 370 کی منسوخی سے نئے قوانین کے لیے راہ ہموار

کشمیر کو بھارت کے آئین کی دفعہ 370 کے تحت خصوصی حیثیت حاصل تھی جسے 1950 میں ایک صدارتی فرمان کے ذریعے آئین میں شامل کیا گیا تھا۔

بھارت کے آئین کی دفعہ 370 کی منسوخی کے ساتھ ہی اس کی ایک ذیلی شق دفعہ 35-اے بھی ختم ہو گئی تھی۔ دفعہ 35-اے کے تحت بھارت کے زیرِ انتظام کشمیر میں زمینیں اور دوسری غیر منقولہ جائیداد خریدنے، سرکاری نوکریاں اور وظائف حاصل کرنے، ریاستی اسمبلی کے لیے ووٹ ڈالنے اور دوسری مراعات کا قانونی حق صرف اس کے مستقل باشندوں کو حاصل تھا۔

دفعہ 370 اور دفعہ 35-اے کی منسوخی کے بعد نہ صرف ریاست کا اپنا آئین، جھنڈا اور ترانہ ختم ہو گئے ہیں بلکہ اب بھارت کے آئین کے ساتھ ساتھ پارلیمان سے پاس کیے جانے والے قوانین کا ریاست پر مکمل اور براہِ راست اطلاق ہو رہا ہے۔

نیا قانونِ اقامت کیا کہتا ہے؟

نئے قانونِ اقامت کے تحت کشمیر میں سات سے 15 سال تک رہنے والا کوئی بھی شخص ڈومیسائل سرٹیفیکیٹ یعنی مستقل اقامت کی سند حاصل کرنے کا حق دار ہے۔

یہ سند متعلقہ شخص کو جموں و کشمیر میں غیر منقولہ جائیداد کا مالک بننے، سرکاری نوکری اور دوسری مراعات حاصل کرنے کا اہل بناتی ہے۔

رواں برس اپریل میں بھارت کی مرکزی حکومت کے جاری اعلامیے کے مطابق کوئی بھی شخص جو جموں و کشمیر میں 15 سال تک رہا ہو یا جس نے یہاں سات برس تک تعلیم حاصل کی ہو اور 10ویں اور 12ویں جماعت کے امتحانات میں یہاں قائم کسی ادارے سے حصہ لیا ہو۔ وہ ڈومیسائل سرٹیفیکیٹ کا حق دار اور جموں و کشمیر میں سرکاری نوکری کے لیے درخواست دینے کا اہل ہوگا۔

اعلامیے کے مطابق مرکزی حکومت کے وہ عہدیدار، افسران، بینک ملازمین، قومی سطح کی جامعات کے وہ عہدیدار وغیرہ جنہوں نے کشمیر میں 10 برس تک ملازمت کی ہو کشمیر کا ڈومیسائل حاصل کر سکتے ہیں۔ علاوہ ازیں مذکورہ افراد کے بچے بھی اقامتی سند حاصل کرنے کے اہل ہوں گے۔

جموں و کشمیر ریلیف اینڈ ری ہیبلٹیشن کمشنر کے ذریعے تارکینِ وطن کے طور پر رجسٹرڈ افراد کو بھی اس شامل کیا گیا ہے۔

'خدشات بے بنیاد ہیں'

استصوابِ رائے کا مطالبہ کرنے والی جماعتیں الزام لگاتی ہیں کہ بھارت کشمیر کے مسلمانوں کے ساتھ وہی دہرانا چاہتا ہے جو اسرائیل نے فلسطینیوں کو اُن کے گھروں اور زمینوں سے بے دخل کرنے کے لیے کیا ہے۔

بھارت کی حکومت کی اہم شخصیات جن میں وزیرِ داخلہ امیت شاہ بھی شامل ہیں، ان خدشات کو بے بنیاد قرار دے چکے ہیں۔

حکومت کہہ چکی ہے کہ ڈومیسائل کا یہ قانون شناخت پر مبنی رہائش کے بجائے ایک انتظامی معاملہ ہے۔

جموں و کشمیر کے سابق وزیر اور 'جموں کشمیر اپنی پارٹی' کے لیڈر سید الطاف بخاری نے، جن کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ حکمران بھارتیہ جنتا پارٹی ﴿بی جے پی ﴾ کی قیادت کے انتہائی قریب ہیں، کہا ہے کہ انہیں وزیرِ اعظم نریندر مودی نے یقین دلایا ہے کہ سابقہ ریاست میں آبادیات کو تبدیل کرنے کا حکومت کا کوئی ارادہ نہیں ہے۔

جموں و کشمیر میں بے روزگاری کی نئی لہر
please wait

No media source currently available

0:00 0:04:00 0:00

لیکن حکومت کی یقین دہانیوں کے باوجود اس نئے قانونِ اقامت کی وجہ سے مقامی لوگوں میں اضطرابی کیفیت برقرار ہے۔

مقامی سطح پر بھی حکومتی عہدیدار لوگوں میں پائے جانے والے خدشات اور حزبِ اختلاف کی جماعتوں کے اعتراضات کو بے بنیاد قرار دیتے ہیں اور کہتے ہیں کہ لوگوں کو یہ بات اب تسلیم کرنی چاہیے کہ جموں و کشمیر کا خصوصی درجہ ختم ہو چکا ہے اور نئے قوانین بھارت کے آئین کی روح کے مطابق ہیں۔ اور ان کا مقصد جموں و کشمیر میں بد عنوانی اور مختلف طبقات کے ساتھ دہائیوں سے روا امتیازی سلوک کا خاتمہ کرنا ہے۔

تاہم ناقدین استفسار کرتے ہیں کہ لداخ میں، جہاں بدھ مت کے پیروکاروں کی بڑی تعداد آباد ہے اور جو اب ایک الگ مرکز کے زیرِ انتظام علاقہ ہے، اس طرح کے قوانین کیوں متعارف نہیں کرائے جا رہے۔

کشمیر میں اسرائیلی ماڈل نافذ کرنے کا الزام

مسلم اکثریتی وادیٴ کشمیر کے حوالے سے بعض تجزیہ کار کہتے ہیں کہ ایسی مثالیں موجود ہیں جن سے یہ واضح طور پر ظاہر ہوتا ہے کہ بھارت کی حکومت اسرائیل کے نقش قدم پر چل رہی ہے تاکہ وہ جموں و کشمیر کی آبادی کے تناسب کو تبدیل کر سکے اور مسلم اکثریتی کردار میں رد و بدل کے بعد اسے معاشرتی اور ثقافتی طور بھارت میں مکمل طور پر ضم کر دے۔

کشمیر یونیورسٹی کے شعبۂ سیاسیات کے سابق پروفیسر نور احمد بابا کہتے ہیں کہ لوگ اس پر تشویش میں مبتلا ہیں۔ ان کی تشویش بےجا یا بے بنیاد نہیں ہے۔

جموں و کشمیر کی سیاسی جماعتوں نیشنل کانفرنس، پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی، پیپلز کانفرنس کے علاوہ بھارت کی مارکس وادی کمیونسٹ پارٹی اور علیحدگی پسند تنظیموں نے بھی غیر مقامی افراد کو ڈومیسائل سرٹیفیکیٹ کے اجرا کو آبادی کے تناسب میں تبدیلی کی طرف پہلا بڑا اقدام قرار دیا ہے۔

جموں کی بڑی سیاسی جماعت نیشنل پینتھرس پارٹی نے بھی نئے ڈومیسائل قانون کی سختی سے مخالفت کی ہے۔

تمام سیاسی جماعتوں نے غیر مقامی افراد کو ڈومیسائل سرٹیفیکیٹ جاری کرنے کو غیر مجوزہ، صوابدیدی اور بے ایمانی پر مبنی اقدام قرار دیا ہے۔ کیوں کہ سپریم کورٹ نے آرٹیکل 370 اور 35-اے کو منسوخ کرنے کو چیلنج کرنے والی درخواستوں کے سلسلے کا ابھی فیصلہ نہیں سنایا۔

نئے قانونِ اقامت کی حمایت و توثیق

کشمیری پنڈتوں ﴿برہمن ہندووٴں﴾ کے نمائندہ گروہ ہونے کا دعویٰ کرنے والے 'پنن کشمیر' سمیت چند سیاسی جماعتوں نے، جن میں حکمران بی جے پی پیش پیش ہے، اس بنیاد پر نئے ڈومیسائل قانون کا خیر مقدم اور تائید کی ہے کہ اس سے جموں و کشمیر میں مقیم اور کام کرنے والے لوگوں کے ساتھ دہائیوں کے امتیازی سلوک کا خاتمہ ہو گا۔

اس موقف کی تائید کرتے ہوئے جموں کے ڈویژنل کمشنر سنجیو ورما کہتے ہیں کہ بہت سارے لوگوں کو جو گزشتہ 70 سال سے جموں و کشمیر میں مقیم ہیں لیکن ان کو جائز شہریت سے محروم رکھا گیا ہے، نئے قانونِ اقامت سے فائدہ ہوگا۔

ان کے بقول سب کو اس قانون کا خیر مقدم کرنا چاہیے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG