رسائی کے لنکس

سید علی گیلانی کے اہلِ خانہ کے خلاف مقدمے کا اندراج، پاکستان کی مذمت


بھارت کے زیرِ انتظام کشمیر کی پولیس نے حال ہی میں وفات پانے والے علیحدگی پسند رہنما سید علی گیلانی کے اہلِ خانہ کے خلاف بھارت مخالف نعرے لگانے اور اُن کی میت کو پاکستانی پرچم میں لپیٹنے کے الزام میں انسدادِ دہشت گردی کی دفعات کے تحت مقدمہ درج کر لیا ہے۔

اکیانوے سالہ سید علی گیلانی کو بھارتی کشمیر میں نئی دہلی کی پالیسیوں کا بڑا ناقد سمجھا جاتا تھا جب کہ وہ بھارتی کشمیر کے پاکستان کے ساتھ الحاق کے داعی تھے۔

خبر رساں ادارے 'ایسوسی ایٹڈ پریس' کے مطابق سید علی گیلانی کے صاحبزادے نسیم نے الزام لگایا تھا کہ پولیس نے اُن کے والد کی میت کو زبردستی گھر سے لے جا کر اہلِ خانہ کی موجودگی کے بغیر ہی ایک مقامی قبرستان میں دفن کر دیا تھا۔

البتہ بھارتی پولیس نے ان الزامات کی تردید کرتے ہوئے کہا تھا کہ چند عناصر جھوٹی افواہیں پھیلا کر اپنے مقاصد حاصل کرنا چاہتے ہیں۔

سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی ایک ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ سیکیورٹی اہل کار سید علی گیلانی کے گھر میں موجود ہیں، تاہم خواتین اُنہیں اس کمرے میں جانے سے روکنے کی کوشش کر رہی ہیں جہاں گیلانی کی پاکستانی پرچم میں لپٹی میت موجود ہے۔

اس دوران خواتین چیخ و پکار کر رہی ہیں اور سیکیورٹی اہل کار سید علی گیلانی کے اہلِ خانہ کو ایک کمرے میں لاک کر کے میت وہاں سے لے جاتے ہیں۔

پولیس کا یہ مؤقف تھا کہ پولیس نے میت کو گھر سے قبرستان تک لے جانے کو آسان بنایا کیونکہ یہ خدشہ تھا کہ شر پسند عناصر صورتِ حال کا ناجائز فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔

بھارتی پولیس کے مطابق ہفتے کو غیر قانونی سرگرمیوں میں ملوث ہونے کے قانون کے تحت سید علی گیلانی کے بعض اہلِ خانہ اور دیگر افراد کے خلاف مقدمہ درج کر لیا گیا ہے۔ البتہ کوئی گرفتاری میں عمل میں نہیں لائی جا سکی۔

اس متنازع قانون میں 2019 میں ترمیم کرتے ہوئے کسی بھی شخص کو بغیر شواہد سامنے لائے چھ ماہ سے سات برس تک قید میں رکھا جا سکتا ہے۔

انسانی حقوق کی تنظیمیں اس قانون کو انسانی حقوق سے متصادم قرار دیتی رہی ہیں۔

پاکستان کے وزیرِ اعظم عمران خان نے سید علی گیلانی کے اہلِ خانہ کے خلاف مقدمے کے اندراج کی مذمت کی ہے۔

عمران خان نے اپنے ٹوئٹ میں کہا ہے کہ پہلے سید علی گیلانی کی میت کی زبردستی تدفین اور اب اُن کے اہلِ خانہ کے خلاف مقدمہ کا اندراج شرمناک ہے۔

خیال رہے کہ اسی اور نوے کی دہائی میں کشمیر میں علیحدگی پسند تنظیم منظم ہوئی تھی جس کے بعد کشمیر میں مزید بھارتی فوجیوں کو تعینات کیا گیا تھا۔

دریں اثنا حکام نے سید علی گیلانی کی وفات کے بعد نقل و حرکت پر عائد پابندیاں بحال کرنے کا عمل شروع کر دیا ہے جس کے بعد سری نگر میں پرائیویٹ گاڑیوں کو سڑکوں پر آنے کی اجازت کے علاوہ بعض کاروبار بھی کھولنے کی اجازت دے دی گئی ہے۔

حکام نے جمعے کو بھارتی کشمیر میں موبائل فون سروس بحال کر دی تھی البتہ بعض پابندیاں برقرار رکھی گئی تھیں۔

اس خبر کے لیے بیشتر معلومات خبر رساں ادارے 'ایسوسی ایٹڈ پریس' سے لی گئی ہیں۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG