رسائی کے لنکس

logo-print

کشمیر: انتظامیہ کا 90 فی صد علاقوں سے دن میں پابندیاں ختم کرنے کا دعویٰ


فائل فوٹو

بھارت کے زیرِ انتظام کشمیر کی انتظامیہ نے دعویٰ کیا ہے کہ وادی میں صورتِ حال تیزی سے بہتر ہو رہی ہے۔ جمّوں اور لدّاخ میں لینڈ لائن اور موبائل سروسز بھی بحال کر دی گئی ہیں۔

پیر کو ذرائع ابلاغ کو وادی کی صورتِ حال پر بریفنگ دیتے ہوئے جمّوں و کشمیر کے پرنسپل سیکریٹری روہت کنسل کا کہنا تھا کہ کشمیر کے حالات میں تیزی سے بہتری آ رہی ہے۔

روہت کنسل نے کہا کہ کشمیر میں 26 ہزار لینڈ لائن ٹیلی فون کنیکشن فعال کر دیے گئے ہیں جب کہ 90 فی صد پولیس اسٹیشنز کے علاقوں میں دن کے اوقات میں پابندیاں ختم کر دی گئی ہیں۔ پابندیوں میں مرحلہ وار مزید نرمی کی جائے گی۔

پرنسپل سیکریٹری کے مطابق جمّوں اور لدّاخ میں لینڈ لائن اور موبائل سروس کو مکمل طور پر بحال کر دیا گیا ہے۔ سرکاری دفاتر مکمل طور پر فعال ہیں جن میں عملے کی حاضری بھی بہتر ہے۔

ان کے بقول پرائمری، مڈل اور ہائی اسکول بھی کھول دیے گئے ہیں۔ چار ہزار سے زائد اسکول اب مکمل طور پر فعال ہیں۔

روہت کنسل نے کہا کہ اسکولوں میں طلبا کی حاضری کم ہے لیکن ان کی تعداد میں بتدریج اضافہ ہو رہا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ وادی میں پرائیویٹ ٹرانسپورٹ بغیر کسی رکاوٹ کے چل رہی ہے جب کہ پبلک ٹرانسپورٹ بھی سڑکوں پر واپس آ رہی ہے۔

پرنسپل سیکریٹری کے مطابق وادی میں ضروریاتِ زندگی کی تمام چیزوں کی بلا رکاوٹ آمد و رفت جاری ہے۔

انہوں نے بتایا کہ ہائی وے پر پھل لے کر جانے والے ٹرکوں کی تعداد میں دن بدن اضافہ ہو رہا ہے اور 300 سے زائد ٹرک یومیہ سامان لے کر روانہ ہو رہے ہیں۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ وادی کے 10 اضلاع میں تمام طبّی سہولیات موجود ہیں اور اسپتال معمول کے مطابق کام کر رہے ہیں۔ اسپتالوں میں تقریباً ڈھائی لاکھ مریض معائنے کے لیے آئے ہیں اور 200 کے قریب آپریشن ہو چکے ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ 90 فی صد علاقوں میں پابندیاں نرم کر دی گئی ہیں۔ اس کے باوجود کچھ عناصر کی طرف سے دھمکیوں کہ سلسلہ جاری ہے جس کے سبب کچھ بازار ابھی بند ہیں۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG