رسائی کے لنکس

logo-print

پاکستان سے اپنی فوج کشمیر بھیجنے کا مطالبہ


فائل فوٹو

کشمیر کے عسکریت پسند کمانڈر کا کہنا ہے کہ اقوام متحدہ اگر جموں و کشمیر کو حاصل خصوصی درجے کی منسوخی کے بعد وادی میں قیام امن کے لیے نمائندے نہیں بھیجتا تو پاکستان کشمیریوں کی حفاظت کے لیے فوج بھیجے۔

جموں و کشمیر میں ایک درجن سے زیادہ عسکری گروہوں کے اتحاد 'یونائیٹڈ جہاد کونسل' کی سربراہی کرنے والے حزب المجاہدین کے کمانڈر سید صلاح الدین کا کہنا ہے کہ پہلی اسلامی جوہری طاقت پاکستان کی فوج کی ذمہ داری ہے کہ وہ بھارت کے زیر انتظام کشمیر میں لوگوں کی مدد کرے۔

خبر رساں ادارے 'رائٹرز' کے مطابق پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے دارالحکومت مظفر آباد میں ہونے والی ایک تقریب میں سید صلاح الدین کا کہنا تھا کہ موجودہ صورت حال میں سفارتی اور سیاسی کوششیں کار آمد نہیں ہو رہیں۔

حزب المجاہدین کے کمانڈر سید صلاح الدین کا مزید کہنا تھا کہ پاکستان کی حکومت کی طرف سے لیے گئے سخت اقدامات کی وجہ سے ان کا گروہ کوئی انتقامی کارروائی کرنے سے گریزاں ہے۔

ان کا مزید کہنا ہے کہ پاکستانی حکومت کے اقدام انھیں بھارت کے خلاف مسلحہ مذاحمت کرنے سے روکتے ہیں۔ جو کہ غیر منصفانہ ہیں۔

سید صلاح الدین کون ہے؟۔

کشمیر کی علیحدگی پسند عسکری تنظیم 'حزب المجاہدین' کے سربراہ سید صلاح الدین بھارتی افواج کے خلاف سرگرم گروہ ‘یونائیٹڈ جہاد کونسل’ کے سربراہ ہیں۔ جس کا مقصد بھارت کے زیر انتظام جموں و کشمیر کو آزاد کرنا ہے۔

حزب المجاہدین 1989 سے کشمیر میں سرگرم ہے جبکہ اس تنظیم نے مسئلہ کشمیر کو قوم پرستی سے نکال کر ایک مذہبی مسئلہ بنانے میں بھی اہم کردار ادا کیا ہے۔

سید صلاح الدین کی سربراہی میں ‘یونائیٹڈ جہاد کونسل’ کا مقصد بھارت کے خلاف سرگرم مختلف عسکریت پسند گروپس کو جموں و کشمیر میں جاری علیحدگی تحریک میں متحد اور منظم رکھنا ہے۔

بھارت کے زیر انتظام کشمیر کے علاقے بڈگام سے تعلق رکھنے والے سید صلاح الدین کو 2017 میں واشنگٹن کی طرف سے عالمی دہشت گردوں کی فہرست میں شامل کیا گیا تھا۔

پاکستانی حکومت کی طرف سے واشنگٹن کے اقدام کو بلا جواز قرار دیا گیا تھا۔

حزب المجاہدین کو بھارت، یورپی یونین اور امریکہ کی طرف سے بھی دہشت گرد گروہ قرار دیا جا چکا ہے۔

خیال رہے کہ بھارتی حکومت کی طرف سے 5 اگست کو جموں و کشمیر سے متعلق آرٹیکل 370 ختم کیے جانے کے بعدسے وادی میں حالات معمول پر نہیں آسکے ہیں اور لاک ڈاؤن کی فضا قائم ہے۔

وادی میں بازار، بیشتر بینک اور دیگر ادارے بھی بند ہیں۔

حکام نے پرائمری اور مڈل سطح کے تقریباً 2500 اسکول کھول دیے ہیں لیکن اسکولوں میں طالب علموں کی حاضری نہ ہونے کے برابر ہے۔

پاک بھارت کشیدگی

بھارتی حکومت کی طرف سے جموں و کشمیر سے متعلق آرٹیکل 370 میں تبدیلی کے بعد پاکستان اور بھارت کے درمیان حالات کشیدہ ہیں اور کنٹرول لائن پر آئے روز جھڑپوں کا سلسلہ جاری ہے۔

مسئلہ کشمیر پر اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کا بند کمرہ اجلاس بھی منعقد ہوا۔ جس میں چین کی طرف سے پاکستانی مؤقف کی بھرپور حمایت کی گئی۔

اس کے علاوہ فرانس میں ہونے والے دنیا کی سب سے ترقی یافتہ معیشتوں کے اجلاس میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کے درمیان ہونے والی ملاقات میں بھی مسئلہ کشمیر پر بات چیت کی گئی۔

یاد رہے کہ امریکی صدر ٹرمپ متعدد بار تنازع کشمیر پر ثالثی کی پیش کش کرچکے ہیں۔

بھارت کی جانب سے کسی تیسرے فریق کی ثالثی کی پیش کش کو رد کرتے ہوئے تنازع کشمیر کو پاکستان اور بھارت کے درمیان دوطرفہ تصفیہ طلب تنازع قرار دیا تھا۔

واضح رہے کہ بھارت کے زیرِ انتظام کشمیر میں مسلسل 29 روز بھی کرفیو جیسی پابندیاں برقرار ہیں۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG