رسائی کے لنکس

برہان وانی کی برسی پر بھارتی کشمیر میں ہڑتال


مبصرین کے مطابق برہان وانی کشمیری نوجوانوں کو بندوق کی طرف مائل کرنے کی ایک بڑی علامت کے طور پر ابھرے تھے۔ اُن کی ہلاکت سے کشمیر میں 1989 سے جاری مسلح جدوجہد مزید تیز ہوئی ہے۔۔ (فائل فوٹو)

بھارت کے زیرِ انتظام کشمیر میں معروف عسکری کمانڈر برہان مظفر وانی کی چوتھی برسی پر بُدھ کو عام ہڑتال کی جا رہی ہے۔ ہڑتال کی وجہ سے مسلم اکژیتی علاقوں میں کاروبارِ زندگی مفلوج ہے جب کہ بعض مقامات پر بازار جزوی طور پر کھلے ہوئے ہیں۔

حکام نے جنوبی کشمیر کے چار اضلاع۔ پلوامہ، شوپیاں، کُلگام اور اننت ناگ جب کہ شمال مغربی شہر سوپور میں انٹرنیٹ سروس بند کر دی ہے۔

جموں کے بعض مسلم اکثریتی علاقوں میں امن و امان کو برقرار رکھنے کے لیے غیر معمولی حفاظتی انتظامات کیے گئے ہیں۔ حساس علاقوں میں مسلح سیکیورٹی اہلکاروں کی اضافی نفری تعینات کی گئی ہے۔ جموں میں عام زندگی معمول پر ہے۔

ماضی کے برعکس ہڑتال کے لیے کسی تنظیم یا رہنما نے اپیل جاری نہیں کی تھی۔

منگل کو برہان وانی کی برسی کے حوالے سے سوشل میڈیا پر آزادی پسند رہنما سید علی شاہ گیلانی سے منسوب ایک خط وائرل ہوا تھا لیکن پولیس نے سید علی گیلانی کے خاندانی ذرائع کا حوالہ دیتے ہوئے اسے جعلی قرار دیا۔

پولیس کے مطابق اس سلسلے میں مقدمہ بھی درج کر لیا گیا ہے۔

پولیس نے خبردار کیا ہے کہ امن و امان میں رخنہ ڈالنے کی کوشش کرنے والے عناصر کے ساتھ سختی سے نمٹا جائے گا۔

سید علی گیلانی کے نام سے منسوب خط میں لوگوں سے 8 اور 13 جولائی کو عام ہڑتال کرنے کی اپیل کی گئی تھی۔ 13 جولائی کو کشمیر میں مسلم اکثریتی علاقوں میں یومِ شہدائے کشمیر منایا جاتا ہے۔​

خود سید علی گیلانی کی طرف سے، جو سرینگر کے حیدر پورہ علاقے میں واقع اپنے گھر میں نظر بند ہیں، تاحال کوئی بیان سامنے نہیں آیا۔

واضح رہے بھارت کے زیرِ انتظام کشمیر میں جاری تحریک مزاحمت کے 91 سالہ رہنما سید علی گیلانی نے گزشتہ ہفتے غیر متوقع طور پر کُل جماعتی حریت کانفرنس سے علیحدہ ہونے کا اعلان کیا تھا۔

بھارت کی فورسز نے 8 جولائی 2016 کو جنوبی ضلع اننت ناگ کے کُکر ناگ علاقے میں مبینہ جھڑپ کے دوران 22 سالہ برہان وانی اور اُن کے دو قریبی ساتھیوں کو ہلاک کیا تھا۔ اس کے بعد وادئ کشمیر اور جموں کے بعض مسلم اکثریتی علاقوں میں چھ ماہ تک بدامنی جاری رہی تھی۔ اس دوران 80 افراد ہلاک ہوئے تھے۔

برہان وانی کشمیر کی سب سے بڑی عسکری تنظیم حِزبُ المجاہدین کے کمانڈر تھے۔ وہ سوشل میڈیا پر خاصے سرگرم ہونے کی وجہ سے کشمیری نوجوانوں میں مقبول تھے۔

خود بھارت کے فوجی عہدیدار اعتراف کر چکے ہیں کہ برہان وانی کشمیری نوجوانوں کو بندوق کی طرف مائل کرنے کی ایک بڑی علامت کے طور پر ابھرے تھے۔ اُن کی ہلاکت سے کشمیر میں 1989 سے جاری مسلح جدوجہد غیر معمولی طور پر تیز ہوئی ہے۔

بعض تجزیہ کاروں کی رائے ہے کہ بھارت کے زیرِ انتظام کشمیر میں جاری تحریکِ مزاحمت کو دبانے کے کام پر مامور حفاظتی دستوں اور دوسری سرکاری ایجنسیوں کے لیے مردہ برہان وانی زندہ برہان وانی سے زیادہ خطرناک ثابت ہوا کیوں کہ برہان وانی کی ہلاکت کے ساتھ ہی ان سے متاثر ہونے نوجوان، جن میں اکثریت نو عمر لڑکوں اور نوجوانوں کی تھی، عسکریت پسندوں کی صف میں شامل ہونے لگے۔ یہ سلسلہ اب بھی جاری ہے۔

برہان وانی کی ہلاکت کے بعد گزشتہ چار برس کے دوران بھارت کی فوج اور دوسرے سیکیورٹی اداروں کی شورش مخالف مہم میں 1000 کے قریب مبینہ عسکریت پسندوں کو ہلاک کیا جا چکا ہے۔ اس دوران 400 سے زائد سیکیورٹی اہلکار بھی مارے گئے جب کہ 300 عام شہری بھی تشدد کا شکار ہوکر ہلاک ہوئے۔

سیکیورٹی فورسز نے حالیہ ہفتوں میں عسکریت پسندوں کے خلاف کارروائیوں میں مزید تیزی کی ہے۔ کشمیر کی پولیس کے سربراہ دلباغ سنگھ نے گزشتہ دنوں کہا تھا کہ یہ کارروائیاں مسلسل کامیاب ہو رہی ہیں۔

انہوں نے کہا تھا کہ یہ خوشی کا مقام ہے کہ ﴿عسکریت پسندوں کے خلاف﴾ آپریشنز اب باقاعدگی کے ساتھ ہو رہے ہیں۔ فورسز امن کے قیام کو یقینی بنانے کے لیے کوشش کر رہی ہیں۔

بھارت کی مرکزی حکومت نے 5 اگست 2019 کو جموں و کشمیر کی خصوصی آئینی خود مختاری کو ختم کر دی تھی جب کہ ریاست کو دو حصوں میں تقسیم کرکے براہِ راست وفاق کے زیرِ کنٹرول علاقہ بنا دیا تھا۔ اس کے ساتھ ہی سابقہ ریاست کا سیاسی منظر نامہ یکسر تبدیل ہو گیا ۔

تجزیہ کار کہتے ہیں کہ عسکریت پسندوں کے خلاف سخت مہم چلانے، مقامی سیاسی رہنماؤں کو گرفتار اور نظر بند کرکے غیر مؤثر بنانے کے بھارتی حکومت کے اقدامات کے باوجود کشمیر کی سیاسی اور زمینی صورتِ حال میں کوئی بڑی تبدیلی رونما نہیں ہوئی۔

کیا برہان وانی کی ہلاکت نوجوانوں میں عسکریت پسندی کی وجہ بن رہی ہے؟
please wait

No media source currently available

0:00 0:02:47 0:00

بھارت کی حکمران جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی ﴿بی جے پی﴾ اس سے اتفاق نہیں کرتی۔ اس کا اصرار ہے کہ بھارت کے آئینِ کی دفعہ 380 کو منسوخ کرنے کے بعد کشمیر میں سیکیورٹی اہلکاروں پر پتھراؤ اور تشدد کے واقعات میں نمایاں کمی ہوئی ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG