رسائی کے لنکس

logo-print

جان کیسک ری پبلیکن صدارتی امیدوار بننے کی دوڑ سے دستبردار


تریسٹھ برس کے کسیک اپنے آپ کو ریپبلیکن پارٹی کے معتدل امیدوار کے طور پر سامنے لائے، جب کہ میدان میں کٹر قدامت پسندوں کی اکثریت تھی، ایسے امیدوار کے طور پر جو واشنگٹن کے منقسم سیاسی ماحول میں بہتر کارکردگی دکھا سکیں

اوہائیو کے گورنر جان کیسک، جو امریکی ریپبلیکن پارٹی کے امیدوار تھے، نے صدارتی دوڑ سے دستبردار ہونے کا اعلان کیا ہے؛ اور یوں، جائیداد کی دنیا کے مشہور کاروباری، ڈونالڈ ٹرمپ اب سنہ 2016 کی پارٹی کی نامزدگی کے واحد امیدوار ہیں۔

ابتدائی طور پر 17 امیدوار میدان میں تھے، جن میں کسیک بھی شامل تھے، جو نومبر کے قومی انتخابات میں پارٹی کی نامزدگی کے خواہاں تھے۔ وہ صدر براک اوباما کی جگہ لینے کے خواہشمند تھے، جو جنوری میں اپنی میعادِ صدارت مکمل کرنے والے ہیں۔

تریسٹھ برس کے کسیک اپنے آپ کو ریپبلیکن پارٹی کے معتدل امیدوار کے طور پر سامنے لائے، جب کہ میدان میں کٹر قدامت پسندوں کی اکثریت تھی، ایسے امیدوار کے طور پر جو واشنگٹن کے منقسم سیاسی ماحول میں بہتر کارکردگی دکھا سکیں۔ لیکن، قومی حکومت پر ریپبلیکن ووٹروں کی برہمی کے سبب، کسیک کو بہت کم پذیرائی ملی، جب کہ ٹرمپ آگے بڑھتے چلے گئے۔

کسیک نے پارٹی کی جانب سے 40 ریاستوں میں منعقدہ نامزدگی کے مقابلوں میں شرکت کی۔ لیکن وہ صرف ایک ہی بار جیت سکے، اُس وسط مغربی ریاست میں جہاں کے وہ گورنر ہیں۔

جمعرات کو انڈیانا کی ہمسایہ ریاست میں پارٹی کی پرائمری میں ٹرمپ اور ٹیکساس کے سینیٹر ٹیڈ کروز کے مقابلے میں وہ تیسرے نمبر پر رہے۔ نتائج آنے کے فوری بعد، ٹیڈ کروز صدارتی نامزدگی کی دوڑ سے الگ ہوگئے۔

کسیک آج شام اوہائیو کے دارالحکومت، کولمبس میں اخباری کانفرنس سے خطاب کرنے والے ہیں۔ تاہم، اُن کے مشیروں نے ذرائع ابلاغ کے اداروں کو پہلے ہے بتا دیا کہ وہ دوڑ سے دستبردار ہوجائیں گے۔

XS
SM
MD
LG