رسائی کے لنکس

logo-print

مزید چار ریاستوں میں ووٹنگ، ٹرمپ کی مقبولیت میں کمی: رپورٹ


اِن ریاستوں میں مشی گن شامل ہے جو ملک میں کارسازی کا مرکز ہے؛ دور دراز جنوبی ریاست، مسی سیپی جو قدامت پسند ہونے کا شہرہ رکھتی ہے؛ کم آبادی والی مغربی ریاست، اِڈاہو اور بحرالکاہل کی جزیدہ نما ریاست، ہوائی

امریکہ میں ہونے والی نئی عام جائزہ رپورٹوں سے پتا چلتا ہے کہ ریپبلیکن پارٹی کے سرکردہ صدارتی امیدوار، ڈونالڈ ٹرمپ کی مقبولیت میں فرق آ رہا ہے، ایسے میں جب ووٹر منگل کو چار مزید ریاستوں میں نامزدگی کے مقابلے میں حصہ لے رہے ہیں۔

’واشنگٹن پوسٹ/اے بی سی نیوز‘ کے سروے سے معلوم ہوتا ہے کہ اب بھی 34 فی صد ریپبلیکن جائیداد کے ارب پتی کاروبای کے حامی ہیں، ٹیکساس کے سینیٹر ٹیڈ کروز کو 25 فی صد، فلوریڈا کے سینیٹر مارکو روبیو اور اوہائیو کے گورنر جان کسیک کو 13 فی صد پسند کرتے ہیں۔

ٹرمپ کے حوالے سے یہ کم درجے کی سبقت ہے، جب کہ اِسی اخبار اور ٹیلی ویژن نیٹ ورک کی جانب سے کی جانے والی سابقہ جائزہ رپورٹوں میں اُنھیں کافی سبقت حاصل رہ چکی ہے۔ اِسی جائزہ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ کروز اور روبیو دونوں کے مقابلے میں ٹرمپ کی مقبولیت میں فرق پڑ رہا ہے، جب کہ کچھ وقت قبل پارٹی کے امیدواروں کی تعداد 17 تھی جو گھٹ کر چار رہ گئی ہے۔

’اے بی سی نیوز/سروے منکی پول‘سے معلوم ہوتا ہے کہ کروز، روبیو اور کسیک کے مقابلے میں ٹرمپ تقریباً ایک کے مقابلے میں دو (39 فی صد کے مقابلے میں 20 فی صد) سے نیچے آرہی ہے۔ تاہم، یہ فرق بڑھتا جا رہا ہے۔

عوامی جائزے کی یہ نئی رپورٹ ایسے وقت سامنے آئی ہے جب اسٹیبلشمنٹ سے تعلق رکھنے والے ریبپلیکنز، جن میں سنہ 2012میں پارٹی کے ناکام امیدوار، مِٹ رومنی بھی شامل ہیں، کوشش کررہے ہیں کہ صدارتی امیدوار کے طور پر ٹرمپ، جو کسی وقت ٹیلی ویژن کے ریلٹی شو کے میزبان تھے، نامزد نہ ہوں۔

اُنھیں اِس بات کا ڈر ہے کہ وہ ناقابل اعتبار ہیں اور سابق وزیر خارجہ اور ڈیموکریٹک پارٹی کی امیدوار کی حیثیت سے نومبر کے صدارتی انتخابات میں ہیلری کلنٹن کا مقابلہ نہیں کر پائیں گے، جب کہ جنوری 2017ء میں صدر براک اوباما کی میعاد پوری ہونے والی ہے۔

منگل کو چار ریاستوں میں ہونے والی رائے دہی میں ریپبلیکن پارٹی سے تعلق رکھنے والے باقی چار امیدوار بھرپور شرکت کر رہے ہیں، اِن مختلف ریاستوں میں مشی گن شامل ہے جو ملک میں کارسازی کا مرکز ہے؛ دور دراز جنوبی ریاست، مسی سیپی جو قدامت پسند ہونے کا شہرہ رکھتی ہے؛ کم آبادی والی مغربی ریاست، اِڈاہو اور بحرالکاہل کی جزیدہ نما ریاست، ہوائی ۔

جائزوں سے معلوم ہوتا ہے کہ ٹرمپ مشی گن اور مسی سیپی میں آگے ہیں۔ تاہم، باقی دو ریاستوں میں سروے مکمل نہیں ہوپائے۔

اس ووٹنگ کے دوران ڈیلیگیٹس کا چناؤ ہوگا، جو جولائی میں ہونے والے ریپبلیکن پارٹی کے قومی کنویشن میں فیصلہ کُن کردار ادا کرتے ہوئے پارٹی کے امیدوار کی نامزدگی کریں گے۔ اب تک مقابلوں میں ٹرمپ کو سبقت حاصل ہے، لیکن مہینوں تک جاری رہنے والی اس مہم میں وہ ابھی اکثریت حاصل نہیں کرپائے۔

منگل کے روز کی ووٹنگ میں مشی گن میں 59 ڈیلیگیٹس کا چناؤ ہوگا۔ امیدواروں کو پڑنے والے ووٹوں کی شرح کے اعتبار سے ڈیلیگیٹس کا حصہ ملے گا؛ جب کہ مسی سیپی، اڈاہو اور ہوائی میں دستیاب کُل ڈیلیگیٹس کی تعداد 91 ہے۔

ڈیموکریٹک دوڑ کے حوالے سے صرف مشی گن اور مسی سیپی میں پرائمریز ہو رہی ہیں۔ ورمونٹ سے تعلق رکھنےوالے سینیٹر، برنی سینڈرز کے مقابلے میں، جو کہ چیلنج کرنے والے اکیلے ڈیموکریٹک سوشلسٹ ہیں، ہیلری کلنٹن کو اِن دونوں ریاستوں میں واضح برتری حاصل ہے۔

XS
SM
MD
LG