رسائی کے لنکس

logo-print

قصور: چونیاں کے بچوں کا مبینہ قاتل گرفتار


لاپتا بچوں کی تلاش کے اشتہارات (فائل فوٹو)

پاکستان کے صوبہ پنجاب کے وزیر اعلیٰ عثمان بزدار نے اعلان کیا ہے کہ چونیاں میں بچوں کے ساتھ زیادتی کے بعد اُنہیں قتل کرنے والے ملزم کو گرفتار کرلیا گیا ہے جس کی شناخت سہیل شہزاد کے نام سے ہوئی ہے۔

گزشتہ ماہ قصور کے علاقے چونیاں میں لاپتا ہونے والے 4 بچوں کی لاشیں برآمد ہوئی تھیں جنہیں مبینہ طور پر جنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کے بعد قتل کیا گیا تھا۔

وزیر اعلیٰ عثمان بزدار کے مطابق ملزم سہیل شہزاد کا ڈی این اے بچوں کے کپڑوں سے ملنے والے نمونوں سے میچ کر گیا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ اس مقدمے کی تحقیقات میں 1649 ریکارڈ یافتہ ملزمان کی جیو فینسنگ کی گئی اور 1543 افراد کے ڈی این اے ٹیسٹ کیے گئے۔ جس سے معلوم ہوا کہ بچوں کے ساتھ زیادتی کرنے والا سیریل کلر سہیل شہزاد ہی ہے۔

اطلاعات کے مطابق 27 سالہ ملزم رانا ٹاؤن کا رہائشی اور لاہور میں تندور پر روٹیاں لگانے کا کام کرتا تھا۔ جسے رحیم یار خان سے گرفتار کیا گیا ہے۔

وزیر اعلیٰ پنجاب نے پریس کانفرنس کے دوران یقین دلایا کہ متاثرہ خاندانوں کو انصاف دلایا جائے گا۔

چونیاں سے لاپتا ہونے والے بچوں کی عمریں 8 سے 12 سال کے درمیان تھیں جن کی گمشدگی کا سلسلہ رواں سال جون میں شروع ہوا تھا۔ لاپتا ہونے والا آخری بچہ 8 سالہ فیضان تھا جو 16 ستمبر کی رات کو لاپتا ہوا تھا۔

فیضان کی لاش چونیاں بائی پاس کے قریب سے ملی تھی۔ تفتیش شروع ہوئی تو قریبی علاقے میں باقی لاپتا بچوں کی باقیات بھی مل گئیں۔

تحقیقات سے معلوم ہوا کہ اُنہیں جنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کے بعد جرم چھپانے کے لیے قتل کر دیا گیا تھا۔

بچوں سے زیادتی اور اس کے بعد ان کے قتل کے خلاف چونیاں میں شدید احتجاج ہوا تھا اور سوشل میڈیا اور مقامی ذرائع ابلاغ میں بھی اس معاملے پر خاصی لے دے ہوئی تھی۔

ملزم کی گرفتاری کے بعد وزیرِ اعلیٰ پنجاب عثمان بزدار نے کہا ہے کہ ملزم کی شناخت کا حکام کو 100 فی صد یقین ہے اور اس کی گرفتاری کے لیے تمام اداروں نے بہت محنت سے کام کیا ہے۔

وزیرِ اعلٰی نے کہا کہ وہ عدالت لگا کر ملزم کو خود سزا نہیں دے سکتے۔ تاہم ایسے ملزم کے خلاف قانون کے مطابق سخت کارروائی کی جائے گی۔

اُن کے بقول آئندہ ایسے واقعات کی روک تھام کے لیے مؤثر قانون سازی کی جائے گی۔ چونیاں کو سیف سٹی پراجیکٹ سے منسلک کرنے کا حکم دے دیا گیا ہے جب کہ اسپیشل برانچ کی نفری میں بھی اضافہ کیا جا رہا ہے۔

پولیس حراست میں ہلاک ہونے والے صلاح الدین کے حوالے سے ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے وزیر اعلٰی پنجاب نے کہا کہ صلاح الدین کیس پر مشترکہ تحقیقاتی ٹیم کام کر رہی ہے، جبکہ جوڈیشل کمیشن بنانے کے لئے ہائی کورٹ کو خط لکھ دیا ہے۔

پریس کانفرنس میں شریک انسپکٹر جنرل پنجاب پولیس عارف نواز نے بتایا کہ ملزم سہیل شہزاد رانا ٹاؤن کا رہائشی ہے۔ ملزم نے جون سنہ 2019ء میں بارہ سالہ علی عمران سے زیادتی کی اور گلا گھونٹ کر قتل کیا۔ اگست میں ملزم نے دو مزید بچوں کو زیادتی کے بعد قتل کیا۔

انھوں نے بتایا کہ ملزم غیر شادی شدہ اور تندور پر روٹیاں لگاتا ہے۔ کچھ عرصہ قبل ملزم سہیل شہزاد گرفتار ہوا اور اسے پانچ سال کی سزا ہوئی۔ ڈیڑھ سال کی سزا کاٹ کر ملزم جیل سے باہر آگیا۔ ملزم کو چونیاں سے گرفتار کیا گیا ہے۔

ضلع قصور میں اِس سے قبل بھی کم سن بچوں اور بچیوں کے اغوا، زیادتی، قتل اور غیر اخلاقی ویڈیوز بنانے کے واقعات سامنے آ چکے ہیں۔ سنہ 2018ء میں سات سالہ بچی زینب کو اغوا اور جنسی زیادتی کے بعد قتل کیا گیا، جبکہ قصور ہی میں سنہ 2015ء میں کم سن بچوں کی غیر اخلاقی فلمیں بنانے کے بھی واقعات ہو چکے ہیں۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG