رسائی کے لنکس

logo-print

کینیا میں گدھے ذبح کرنے پر پابندی


(فائل فوٹو)

کینیا نے گدھوں کو ذبح کرنے اور ان کی کھالیں برآمد کرنے پر پابندی لگا دی ہے جب کہ چین کے شہر شین ژین کی انتظامیہ نے کتوں اور بلیوں کے گوشت کی فروخت اور تجارت پر پابندی لگانے کی تجویز پیش کی ہے۔

فرانسیسی خبر رساں ادارے 'اے ایف پی' کے مطابق جمعرات کو کینیا کے ایک وزیر نے کہا ہے کہ حکومت نے گدھوں کو ذبح کر کے ان کی کھالیں چین برآمد کرنے پر پابندی عائد کر دی ہے۔ گدھے ذبح کر کے ان کی کھالوں کی تجارت کینیا میں عام تھی جسے جانوروں کے حقوق کے کارکنان ظالمانہ قرار دیتے رہے ہیں۔

کینیا کے وزیر زراعت پیٹر منیا نے 'اے ایف پی' کو بتایا کہ پابندی رواں ہفتے لگائی گئی ہے اور یہ فیصلہ لوگوں کی درخواست پر کیا گیا ہے۔

اُن کے بقول، متعدد افراد نے اُن کے دفتر میں درخواستیں جمع کرائی تھیں کہ گدھے چوری کرنے کے بعد اُن کی کھالیں بیچنے کے واقعات میں اضافہ ہو رہا تھا اس لیے گدھے ذبح کرنے پر پابندی لگائی جائے۔

کینیا کی وزارتِ زراعت سے جاری ہونے والے بیان کے مطابق کسان فصلوں کو سیراب کرنے کے لیے گدھوں پر پانی لاتے ہیں جب کہ سامان لادنے اور ٹرانسپورٹ کے لیے بھی انہیں کا استعمال ہوتا ہے۔ گدھے چوری ہونے کے واقعات بڑھنے سے کسانوں کو نقصان ہو رہا ہے۔

(فائل فوٹو)
(فائل فوٹو)

گدھوں کے گوشت کا کاروبار کرنے والوں کو ایک مہینے کی مہلت دی گئی ہے کہ وہ اس کام سے علیحدہ ہو جائیں۔

خیال رہے کہ کینیا میں گدھوں کو ذبح کرنے کے بعد ان کی کھالیں چین روانہ کی جاتی ہیں جہاں اس سے روایتی دوائیں تیار کی جاتی ہیں۔ یہ دوائیں خون کی گردش بڑھانے، بڑھاپا روکنے اور دیگر بیماریوں میں استعمال ہوتی ہیں۔

جانوروں کے حقوق کی ایک تنظیم 'پیٹا' نے کینیا کے اس فیصلے کو سراہتے ہوئے کہا ہے کہ گدھوں کی کھال کی کسی کو ضرورت نہیں سوائے ان جانوروں کے جو یہ اوڑھ کر پیدا ہوتے ہیں۔

خیال رہے کہ چین اب گدھوں کی کھال کی مانگ پوری کرنے کے لیے افریقی ممالک کی طرف دیکھ رہا ہے۔ چین میں گدھوں کی تعداد ماضی کے مقابلے میں آدھی رہ گئی ہے۔ البتہ کچھ افریقی ممالک نے گدھوں کی کھال چین بھیجنے اور اس کاروبار پر پابندی لگا دی ہے۔

جانوروں کے حقوق کے کارکنوں نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ اگر گدھوں کی کھال کی تجارت اسی طرح جاری رہی تو مشرقی افریقہ سے بہت جلد گدھوں کی نسل معدوم ہو جائے گی۔

دوسری جانب چین کے شہر شین ژین میں کتوں اور بلیوں کے گوشت پر پابندی لگانے پر غور ہو رہا ہے۔ یہ تجویز ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب چین نے جنگلی حیات کی تجارت پر پابندی عائد کر دی ہے۔

چین کے سائنسدانوں کو شبہ ہے کہ دنیا بھر میں پھیلنے والی مہلک 'کرونا وائرس' جنگلی حیات کے گوشت کی تجارت سے پھیلا ہے۔

خبر رساں ادارے 'رائٹرز' کے مطابق شین ژین کی شہری حکومت نے نو اقسام کے گوشت کو قانونی قرار دینے اور متعدد جنگلی جانوروں کے گوشت پر پابندی عائد کرنے کی تجاویز پیش کی ہیں۔

(فائل فوٹو)
(فائل فوٹو)

جن جانوروں کا گوشت قانونی قرار دینے کی سفارش کی گئی ہیں ان میں سور، مرغی، گائے، خرگوش، مچھلی اور دیگر سمندری حیات شامل ہیں۔ اس کے علاوہ بھیڑ، گدھے، بطخ اور کبوتروں کا گوشت بھی قانونی قرار دینے کی تجویز میں شامل ہیں۔

مجوزہ مسودے میں کتوں اور بلیوں کو پالتو جانور قرار دیا گیا ہے اور ان کا گوشت استعمال کرنے پر پابندی کی تجویز دی گئی ہے۔ مسودے میں کہا گیا ہے کہ جو بھی ممنوعہ گوشت کھانے کی کوشش کرے گا اسے 20 ہزار یو آن تک جرمانہ کیا جائے گا جب کہ جو دکانیں یہ گوشت بیچیں گی اُنہیں 50 ہزار یوآن بطور جرمانہ ادا کرنا ہو گا۔

سانپ، کچھوے اور مینڈک کے گوشت پر بھی پابندی کی سفارش کی ہے۔ حالانکہ یہ جانور چین میں کھانے کے لیے اچھی غذا تصور کیے جاتے ہیں۔

چین میں جانوروں کی فلاح کے لیے کام کرنے والے ایک ادارے 'ہیومین سوسائٹی انٹرنیشنل' کے ایک عہدے دار پیٹر لی نے کہا ہے کہ شین ژین میں کتوں اور بلیوں کے گوشت پر پابندی کو بھرپور انداز میں خوش آمدید کہا جائے گا۔

خیال رہے کہ چین کی حکومت نے بھی فیصلہ کیا ہے کہ جنگلی جانوروں کے گوشت کی فروخت اور تجارت پر فوری پابندی لگائی جائے۔ چین نے گزشتہ ماہ ہی جنگلی حیات کے گوشت کے استعمال کو معطل کیا تھا۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG