رسائی کے لنکس

logo-print

کینیا ہائی کورٹ کا حکومت کو ٹیلی وژن چینلز کھولنے کا حکم


کینیا کی حکومت کی جانب سے نشریات روک دینے کے حکم کے بعد ایک ٹیلی وژن اسٹیشن خالی دکھائی دے رہا ہے۔ یکم فروری 2018

اوڈینگا نے نامہ نگاروں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ کینیا میں جمہوریت شديد حملے کی زد میں ہے ۔ ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ حکمران جماعت پاگل ہو چکی ہے۔

کینیا کی ہائی کورٹ نے جمعرات کے روز حکومت کو حکم دیا کہ وہ ملک کے تین بڑے ٹیلی وژن اسٹیشن کھول دے جنہیں حزب اختلاف کے لیڈر رائیلا اڈینگا کی جعلی حلف برداری کی تصویریں دکھانے کے الزام میں بند کر دیا گیا تھا۔

دارالحکومت نیروبی میں ہونے والی حلف برداری کی اس نقلی تقریب میں اوڈینگا کے ہزاروں حامیوں نے شرکت کی تھی جس کا مقصد پچھلے سال صدارتی انتخابات میں صدر اہورو کینیاٹا کی کامیابی کے خلاف احتجاج کرنا تھا۔ اوڈینگا کا دعویٰ ہے کہ انتخابات میں بڑے پیمانے پر دھاندلی کی گئی تھی۔

حکومت نے منگل کے روز حزب اختلاف کی حلف برداری کی تقریب کو ایک مجرمانہ تحریک کا حصہ قرار دینے کا اعلان کیا تھا اور اس سے اگلے روز دزیر داخلہ فریڈ ماٹیانگی نے تقریب کی رپورٹنگ کرنے والے ٹیلی وژن اور ریڈیو اسٹیشنوں کو بند کرنے کا حکم دیتے ہوئے کہا تھا کہ انہیں تحقیقات مکمل ہونے تک بند رکھا جائے گا۔

جمرات کے روز ہائی کورٹ کے جج چاچا مویٹا نے حکومت کو ٹیلی وژن اسٹیشنوں کی نشریات بحال کرنے کا حکم جاری کیا۔ حکم نامے میں حکومت کو یہ بھی ہدایت کی گئی ہے کہ جب تک اس کیس کی سماعت مکمل نہیں ہو جاتی، حکومت ان میڈیا چینلز کے معاملات میں مداخلت نہ کرے۔

اوڈینگا نے نامہ نگاروں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ کینیا میں جمہوریت شديد حملے کی زد میں ہے ۔ ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ حکمران جماعت پاگل ہو چکی ہے۔

کینیا کی سپریم کورٹ نے اگست کے انتخابات میں کینیاٹا کی فتح کو کالعدم قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ ووٹوں کی گنتی کے عمل میں الیکشن کمشن کا کمپیوٹر سسٹم ہیک ہونے کے بعد نتائج کو کینیاٹا کے حق میں تبدیل کیا گیا تھا۔

عدالت نے نئے انتخابات کا حکم دیا تھا لیکن اکتوبر کا الیکشن بھی کینیاٹا نے جیت لیا تھا۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG