رسائی کے لنکس

logo-print

اسرائیل فلسطین بحران، اردن میں کیری کی عباس سے ملاقات


بات چیت سے دو روز قبل کیری نے برلن میں اسرائیلی وزیر اعظم سے ملاقات کی۔ کیری نے کہا ہے کہ ملاقات سے اُن کی اِس سوچ کو تقویت ملی ہے کہ کشیدگی میں کمی لانے کے لیے اقدامات کیے جا سکتے ہیں۔۔۔۔ اب تک، 10 اسرائیلی اور 50 فلسطینی ہلاک ہو چکے ہیں

اسرائیل اور فلسطینیوں کے درمیان تنائو کے ماحول میں کمی لانے کی کوشش کے حوالے سے، امریکی وزیر خارجہ جان کیری فلسطینی رہنما، محمود عباس اور دیگر عہدے داروں سے بات چیت کے لیے اِس وقت اردن میں ہیں۔

عمان میں ہفتے کے روز کیری کی عباس کے گھر پر ہونے والی ایک نشست کے دوران، عباس نے کہا کہ، 'ہمیں ہمیشہ سے توقعات رہی ہیں۔ ہم نے امید کا دامن نہیں چھوڑا'۔

کیری نے کہا، 'میں پُرامید ہوں'۔

بعد میں، کیری نے اردن کے بادشاہ عبداللہ سے ملاقات کی۔

اردن مشرقی یروشلم میں مسجد الاقصیٰ کے احاطے کے نگران ہیں، جو حالیہ کشیدگی کا اصل مرکز رہا ہے۔

اِس بات چیت سے دو روز قبل کیری نے برلن میں اسرائیلی وزیر اعظم بینجامن نیتن یاہو سے ملاقات کی۔ بعدازاں، کیری نے کہا کہ ملاقات سے اُن کی اِس سوچ کو تقویت ملی ہے کہ تنائو میں کمی لانے کے سلسلے میں اقدامات لیے جا سکتے ہیں۔

پچھلے چند ہفتوں کے دوران، کشیدگی بڑھنے کے نتیجے میں کم از کم 10 اسرائیلی اور تقریباً 50 فلسطینی ہلاک ہوچکے ہیں۔

ہفتے کے روز اسرائیلی اخباری اطلاعات میں بتایا گیا ہے کہ مغربی کنارے کے ایک چوراہے پر ایک فلسطینی نےسکیورٹی پر مامور ایک اسرائیلی اہل کار کو چاقو گھونپنے کی کوشش کی، جنھیں پولیس نے گولی مار کر ہلاک کردیا۔

کشیدگی کے پیچھے فلسطینیوں کی مسجد الاقصیٰ کے احاطے تک رسائی کے بارے میں تشویش کا عنصر ہے، جسے مسلمان اپنی مقدس عبادت گاہ سمجھتے ہیں، جب کہ یہودی 'ٹیمپل مائونٹ' کے طور پر اسے عزیز خیال کرتے ہیں۔

ادھر، جمعے کو ویانا سے اردن کے دارالحکومت روانہ ہونے سے قبل، کیری نے مشرق وسطیٰ سے متعلق سہ فریقی گروپ کے اجلاس میں شرکت کی، جس میں امریکہ، روس، یورپی یونین اور اقوام متحدہ کے اعلیٰ اہل کار شریک تھے۔

بعدازاں، گروپ نے اسرائیل اور فلسطنینوں سے اشتعال انگیزی کے اقدامات سے احتراز اور 'انتہائی تحمل' برتنے پر زور دیا۔

گروپ نے اپنی 'شدید تشویش' کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وہ اپنے ایلچی خطے کی جانب روانہ کریں گے، تاکہ ٹھوس اقدامات کی حوصلہ افزائی کی جاسکے، جن کا مقصد دو ریاستی حل کے ساتھ اپنے حقیقی عزم کا اظہار ہے۔ گروپ نے اسرائیل سے مطالبہ کیا کہ اسرائیل کے ساتھ اردن کے امن معاہدے کے مطابق، وہ یروشلم کے مقدس مقام پر 'حالات کو جوں کا توں' رہنےدے، اور اس سلسلے میں اردن کے ساتھ مل کر کام کرے۔

XS
SM
MD
LG