رسائی کے لنکس

logo-print

ہوانا: امریکی پرچم لہرانے کی تقریب، ’امید افزا‘ نئے دور کا آغاز


اِس موقعے پر اپنے کلمات میں، جان کیری نے کہا ہے کہ 54 برس کے دوران، دونوں ملکوں کی جانب سے ’دوری اور اکیلےپن‘ کا اختیار کردہ راستہ ’درست نہیں تھا‘؛ اور یہ کہ، ’اب وقت آچکا ہے کہ دونوں ملک ایک امید افزا سمت کی جانب گامزن ہوں‘

چَون برس بعد، ہوانا میں جمعے کے روز امریکی میرینز نے امریکہ کے سفارت خانے پر امریکی پرچم لہرایا، جس باضابطہ تقریب کے مہمان خصوصی وزیر خارجہ جان کیری تھے۔ یہ علامت تھی اِس بات کی کہ امریکہ اور کیوبا، جو دو سرد جنگوں کے ادوار میں ایک دوسرے کے دشمن رہ چکے ہیں، اب سفارتی تعلقات کے نئے عہد میں داخل ہوچکے ہیں۔

سنہ 1961 میں ایک تقریب منعقد ہوئی تھی جس میں تین ریٹائرڈ میرینز نے امریکی پرچم اتارا تھا؛ جب کہ ’میرین کلر گارڈ‘ کا ایک نیا جھنڈا محافظ دستے کے حوالے کیا تھا، جو ہوانا کے آبی گزرگاہ پر واقع سفارت خانے کی عمارت کے میدان پر لہراتا رہا ہے۔

ستر برسوں کے دوران کیری امریکہ کے پہلے وزیر خارجہ ہیں جنھوں نے کیوبا کی سرزمین پر قدم رکھا۔

اِس موقعے پر اپنے کلمات میں، اُنھوں نے کہا کہ اِس عرصے کے دوران، دونوں ملکوں کی جانب سے ’دوری اور اکیلےپن‘ کا اختیار کردہ راستہ درست نہیں تھا؛ اور یہ کہ، ’اب وقت آچکا ہے کہ دونوں ملک ایک امید افزا سمت کی جانب گامزن ہوں‘۔

اِس علامتی تقریب سے آٹھ ماہ قبل، کیوبا اور امریکہ نے باہمی تعلقات بحال کرنے کا اعلان کیا، جس سے قبل تقریباً چار ہفتوں تک دونوں ملکوں نے بات چیت کی اور اپنے سفارتی مشنز کا درجہ بڑھا کر سفارتی سطح تک کرنے کا اعلان کیا۔

اُدھر، کیوبا نے 20 جولائی کو واشنگٹن میں پرچم بلند کرنے کی تقریب منعقد کی تھی، جب کہ امریکی، کیری کی جانب سے ہوانا کے دورے کے منتظر تھے۔

کیری نے کہا کہ حالانکہ یہ ایک تاریخی موقع ہے، امریکہ نے کمیونسٹ نظام پر گامزن کیوبا کے انسانی حقوق کے ریکارڈ پر تنقید ختم نہیں کی۔

بقول اُن کے، ہمیں اس بات کے قائل ہیں کہ کیوبا کےعوام کی بہتر خدمت اصل جمہوریت کے ذریعے ہوگی، جہاں اُنھیں اپنے رہنما منتخب کرنے کا اختیار حاصل ہو۔

ہوانا میں، جمعے ہی کے روز، امریکی سفارت خانے کی رہائش گاہ پر کیری کیوبا کے منحرفین سے ملاقات کریں گے، جو اس ملک میں ایک پارٹی سیاسی نظام کے مخالف ہیں۔

تاہم، منحرفین کو پرچم کشائی کی تقریب میں مدعو نہیں کیا گیا تھا، جس بات پر کیوبا سے تعلقات بحال کرنے کے امریکی صدر براک اوباما کے مؤقف کے مخالفین نے تنقید کی ہے۔

XS
SM
MD
LG