رسائی کے لنکس

logo-print

شام کے بحران کا حل، 'فیصلے کی گھڑی' آ چکی ہے: کیری


کیری نے ہفتے کے روز میونخ میں سلامتی سے متعلق اجلاس سے خطاب میں کہا کہ، ''ہم توقع کرتے ہیں کہ یہ ہفتہ تبدیلی کا ہفتہ ہوگا''؛ اور یہ کہ ''بالآخر، اس تنازع کا خاتمہ اُسی وقت ہوگا جب فریق سیاسی عبوری دور کے منصوبے پر رضامند ہوں گے''

امریکی وزیر خارجہ جان کیری نے کہا ہے کہ شام کا بحران ''فیصلہ کُن مرحلے'' میں داخل ہو چکا ہے، جہاں مستقبلِ قریب میں ہونے والے فیصلے یا تو لڑائی ختم کرنے میں معاون ثابت ہوں گے، یا پھر ''آئندہ کے لیے بہت ہی مشکل راہیں پیدا ہوں گی''۔


کیری نے یہ بات ہفتے کو میونخ میں سلامتی سے متعلق اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔ بقول اُن کے، ''ہم توقع کرتے ہیں کہ یہ ہفتہ تبدیلی کا ہفتہ ہوگا''۔

اُنھوں نے یہ خطاب عالمی فورم کے سامنے کیا جو سکیورٹی پالیسی پر دھیان مرکوز رکھے ہوئے ہے، جس کا دو روز قبل بین الاقوامی 'سیریا سپورٹ گروپ' کانفرنس کے احاطے سے باہر اجلاس ہوا، جس میں شام کے بارے میں جنگ بندی اور انسانی بنیادوں پر امداد کے کام کو وسیع کرنے کے منصوبے پر اتفاق کیا گیا۔

یہ 17 ملکی گروپ اُس متبادل سوچ پر دھیان دینے پر تیار ہے جس سے اس ماہ حکومت شام اور معتدل مخالفین کے مابین اقوام متحدہ کے توسط سے بات چیت کا دور بحال ہو سکے۔
یہ مذاکرات، جو شام میں سیاسی عبوری دور سے متعلق ہیں، ناکام رہے، جس کی ایک وجہ یہ تھی کہ حزب مخالف کو شکایتیں تھیں کہ روسی پشت پناہی میں شامی حکومت حلب پر بمباری جاری رکھے ہوئے ہے۔

کیری کے الفاظ میں، ''بالآخر، اس تنازع کا خاتمہ اُسی وقت ہوگا جب فریق سیاسی عبوری دور کے منصوبے پر رضامند ہوں گے''۔

تاہم، روس کے وزیر خارجہ، سرگئی لاوروف نے کہا ہے کہ روسی اور امریکی فوج کے درمیان رابطے کی ضرورت ہے، تاکہ شام کے تنازع پر ہونے والی جنگ بندی کارگر ثابت ہو۔

لاوروف نے کہا ہے کہ دونوں ملکوں کے درمیان روزانہ کی بنیاد پر فوجی تعاون، خاص طور پر انسانی ہمدردی کی بنیاد پر فراہم کی جانے والی رسد کی فراہمی کو یقینی بنانا اور مخاصمت کاخاتمہ 'بنیادی اہمیت کے حامل' معاملے ہیں۔ اُنھوں نے شکایت کی کہ یہ رابطہ ہونے والےسمجھوتے کے علاوہ ہے، تاکہ فوجی طیاروں کے آپس میں ٹکرانے کے امکان کا توڑ ہو سکے۔

ادھر، یوکرین کے صدر پیترو پوروشنکو سے بات چیت سے کچھ دیر قبل، کیری اور پوروشنکو کی ملاقات ہوئی۔ اپنی تقریر میں کیری نے یوکرین میں جاری کشیدگی کے بارے میں بھی بات کی۔

اُن کی یہ بات چیت اُس کثیر ملکی کاوش کے سلسلے کی کڑی ہے جس میں مشرقی یوکرین میں عدم استحکام کے معاملے کے حل اور مِنسک سمجھوتے پر مکمل عمل درآمد کے سلسلے میں جاری ہے، جس میں حکومت اور روسی پشت پناہی والے علیحدگی پسندوں کے درمیان جنگ بندی کے حوالے سے جاری ہیں۔

کیری نے کہا کہ روس کے پاس ''آسان ترین راستہ'' یہ ہے کہ وہ منسک سمجھوتے پر مکمل عمل درآمد کرے یا پھر اُن معاشی تعزیرات کا سامنا کرتا رہے جو امریکہ اور یورپی یونین نے اُس کے خلاف عائد کر رکھی ہیں۔

کیری کے بقول، ''پابندیوں میں نرمی کی راہ بھی واضح ہے۔ ڈونباس سے ہتھیار اور فوج ہٹا دو، اس بات کو یقینی بنائو کہ یوکرین کے تمام یرغمالی لوٹائے جائیں اور انسانی ہمدردی کی بنیاد پر زیرِ قبضہ علاقوں تک رسائی فراہم کرو''۔

اُنھوں نے مزید کہا کہ منسک سمجھوتے کی حرمت کا خیال رکھنا یوکرین کی بھی اتنی ہی ذمہ داری ہے۔

صدر پوروشنکو نے کہا ہے کہ ''مسٹر پیوٹن، یوکرین میں خانہ جنگی نہیں ہو رہی۔ یہ آپ ہی کی جارحیت ہے''۔

روسی وزیر اعظم دمتری مدویدیو نے گروپ کو بتایا کہ ''بغیر کسی شبے کے، تمام فریق کو منسک سمجھوتے کے پابندی کرنی ہوگی، لیکن بنیادی طور پر عمل درآمد کی ذمہ داری یوکرین کے حکام پر عائد ہوتی ہے''۔

XS
SM
MD
LG