رسائی کے لنکس

جنوبی فلپائن میں فوجی کارروائی، داعش کا سرغنہ ہلاک


ملائیشیا میں جنم لینے والا محمود احمد 20 شدت پسندوں کے اُس گروپ میں شامل تھا جنھیں پیر کے روز علی الصبح چِھڑنے والی جھڑپ میں ہلاک کیا گیا۔

فلپائن کے فوجی اہل کاروں کا کہنا ہے کہ اس ہفتے کے اوائل میں ملک کے جنوبی شہر، مراوی کو واگزار کرانے کے لیے سرکاری افواج کی جانب سے کی گئی کارروائی کے دوران، خیال کیا جاتا ہے کہ داعش کا ایک چوٹی کا شدت پسند ہلاک ہوا۔

ملائیشیا میں جنم لینے والا محمود احمد 20 شدت پسندوں کے اُس گروپ میں شامل تھا جنھیں پیر کے روز علی الصبح چِھڑنے والی جھڑپ میں ہلاک کیا گیا۔

ایک فوجی ترجمان نے اس یقین کا اظہار کیا ہے کہ احمد ہلاک ہوگیا ہے، جس کی اطلاع کارروائی کے دوران بازیاب کرائے گئے دو مغویوں نے لڑائی کے بعد دی ہے۔ اُس کی ہلاکت کی تب تک تصدیق نہیں کی جاسکتی جب تک اُن کی لاش نہیں مل جاتی اور ڈی این اے کا معائنہ مکمل نہیں ہو جاتا۔

احمد ’اسنلون ہاپیلون‘ کے قریبی ساتھی ہیں، جو گذشتہ ہفتے تک جنوب مشرقی ایشیا کا داعش کا لیڈر تھا، جب وہ اور دولت اسلامیہ کے ایک اور سرکردہ، عمر خیام موتی کو ایک فوجی کارروائی کے دوران ہدف بنا کر ہلاک کیا گیا۔

احمد کے لیے خیال کیا جاتا ہے کہ اُس نے پیسے بھیجے تھے تاکہ گروپ کی مراوی پر گرفت قائم رہے۔ اس شہر کی آبادی دو لاکھ ہے، اور یہ منڈناؤ کے جنوبی جزیرے پر آباد ہیں، جن کی اکثریت مسلمانوں پر مشتمل ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ احمد ہاپیلون کی جگہ لے لیتا اور خطے میں داعش کا سرغنہ ہوتا۔

تیئیس مئی سے اب تک مراوی میں 1000سے زائد افراد ہلاک ہوچکے ہیں، جب فلپائن کی سکیورٹی افواج نے ہاپیلون کی گرفتاری کی مہم شروع کی تھی۔ یہ چھاپہ اُس وقت ناکام ہوا جب متعدد شدت پسندوں نے شہر پر دھاوا بول دیا اور مار دھاڑ شروع ہوگئی، جس دوران گھروں کو آگ لگائی گئی، کیتھولک چرچ جلائے گئے اور بیسیوں افراد کو یرغمال بنایا گیا۔

فضائی کارروائیوں کے نتیجے میں، مراوی کا زیادہ تر علاقہ ملبے کا ڈھیر بن گیا ہے، جس کے بعد شہر کا محاصرہ ختم ہوگیا ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG