رسائی کے لنکس

logo-print

دیر کے بلدیاتی ضمنی الیکشن میں خواتین کو ووٹ کی اجازت نہیں ملی


پاکستان کے ایک پولنگ اسٹیشن پر خواتین ووٹ ڈالنے کے لیے قطار میں کھڑی ہیں۔ فائل فوٹو

شمیم شاہد

خیبرپختونخوا کے پہاڑی اضلاع دیر بالا اور دیر پائیں میں بلدیاتی اداروں کے خالی ہونے والی نشستوں پر ہونے والے ضمنی انتخابات کے موقع پر مختلف سیاسی جماعتوں سے تعلق رکھنے والے امیدواروں اور عہدے داروں نے ایک زبانی معاہدے کے تحت خواتین کو ووٹ ڈالنے روک دیا۔

دیر بالا اور دیر پائیں سمیت خیبرپختونخوا کے تقریباً 17 اضلاع میں 100 سے زائد نشستوں پر بلدیاتی انتخابات جمعرات کے روز ہوئے، تاہم دونوں اضلاع میں مختلف سیاسی جماعتوں سے تعلق رکھنے والے امیدواروں اور عہدے داروں کے مابین زبانی معاہدوں کے نتیجے میں دیر بالا کی تحصیل داروڑہ اور دیر پائین کی تحصیل ثمر باغ میں تحصیل کونسلروں ار دیگر نشستوں پر ہونے والے انتخابات میں خواتین نے ووٹ نہیں ڈالا۔

دیر بالا کے تحصیل داروڑہ کی نشست پر خواتین ووٹروں کی تعداد 7 ہزار سے زائد جبکہ تحصیل ثمر باغ میں خواتین ووٹروں کی تعداد ساڑھے 4 ہزار سے زائد بتائی جاتی ہے۔

دونوں اضلاع جماعت اسلامی کے مضبوط گڑھ تصور کئے جاتے ہیں، جبکہ جماعت اسلامی کے سربراہ سراج الحق کا تعلق بھی ضلع دیر بالا کے تحصیل ثمر باغ ہی سے ہے۔

سال 2014 میں سینیٹ کا ممبر منتخب ہونے کے بعد سراج الحق کی صوبائی اسمبلی کے نشست پر ہونے والی ضمنی انتخابات میں بھی خواتین کو ووٹ ڈالنے سے روک دیا گیا اور بعد میں الیکشن کمشن آف پاکستان نے ایک عدالتی فیصلے کے ذریعے نتائج کو روکے رکھا تھا، تاہم بعد میں عدالت نے جماعت اسلامی کی درخواست پر الیکشن کمشن کو منتخب ہونے والے امیدوار کے حق میں اعلامیہ جاری کرنے کا حکم دیا تھا۔

جن امیدواروں اور سیاسی جماعتوں کے درمیان زبانی معاہدہ ہوا تھا ان میں جماعت اسلامی اور مولانا فضل الرحمن کی جمعیت علماء اسلام کے علاوہ پاکستان پیپلز پارٹی، عوامی نیشنل پارٹی، پاکستان مسلم لیگ (ن) اور پاکستان تحریک انصاف سے تعلق رکھنے والے امیدوار بھی شامل تھے۔

پاکستان کے انسانی حقوق کے کمشن اور خواتین کے حقوق کے لیے کام کرنے والے رضاکاروں نے خواتین کو ووٹ نہ ڈالنے کے فیصلے پر شاید برہمی کا اظہار کیا ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG