رسائی کے لنکس

'پاکستان پر پابندیوں یا امداد روکنے سے امریکہ کو نقصان ہوگا'


وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی

وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کا کہنا تھا کہ امریکہ کو پاکستان میں دہشت گردی کے باعث ہونے والے نقصانات کا اعتراف کرنا چاہیے اور واشنگٹن کو پاکستان کا 35 لاکھ افغان پناہ گزینوں کو پناہ دینے پر بھی معترف ہونا چاہیئے۔

وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی کا کہنا ہے کہ پاکستان پر پابندی یا فوجی امداد میں کمی خود امریکہ کے لیے نقصان دہ ہو گی کیوں کہ فوجی امداد میں کٹوتی کے باعث ہم چین اور روس سے ہتھیار خریدنے پر مجبور ہوں گے۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے کو انٹرویو دیتے ہوئے وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کا کہنا تھا کہ ہم دہشت گردی کے خلاف جنگ لڑ رہے ہیں، جس میں مشترکہ کوششوں کی ضرورت ہے لیکن امریکہ کی پابندیاں دہشت گردی کے خلاف جنگ کو خطرے میں ڈال سکتی ہیں اور ہماری کوششوں کو نقصان پہنچانے والے اقدام سے امریکہ کا ہی نقصان ہو گا۔

وزیراعظم کا کہنا تھا کہ پاکستان پر پابندی یا فوجی تعاون میں کمی امریکہ کے لیے نقصان دہ ہو گی کیوں کہ اس سے دونوں ممالک انتہا پسندی کے خلاف جنگ میں متاثر ہوں گے اور فوجی امداد میں کٹوتی، ایف 16 طیاروں کی فروخت کی منسوخی پر ہم مجبوراً چین اور روس کی جانب جائیں گے۔

وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کا کہنا تھا کہ امریکہ کو پاکستان میں دہشت گردی کے باعث ہونے والے نقصانات کا اعتراف کرنا چاہیے اور واشنگٹن کو پاکستان کا 35 لاکھ افغان پناہ گزینوں کو پناہ دینے پر بھی معترف ہونا چاہیئے۔

انہوں نے کہا کہ افغانستان میں خرابیوں کے لیے پاکستان کو ذمہ دار ٹھہرانا درست نہیں کیوں کہ افغانستان سے دہشت گردوں نے پاکستانی عوام اور فوج پر حملے کیے جب کہ سرحد پار سے حملوں کے بعد افغان بارڈر پر باڑ لگانے کا فیصلہ کیا۔

وزیراعظم پاکستان نے کہا کہ ہم ایسے اقدامات پر غور کر رہے ہیں جن کی بدولت ہمیں آئی ایم ایف کے پاس دوبارہ نہ جانا پڑے، لگژری اشیا کی درآ مدات گھٹانا اور برآمدات کو اوپر لے جانا ان اقدامات میں شامل ہیں۔

ایک سوال کے جواب میں وزیراعظم کا کہنا تھا کہ سیاست کا فیصلہ عدالتوں میں نہیں ہوتا اور سابق وزیراعظم نوازشریف کی مقبولیت میں 28 جولائی کے عدالتی فیصلے کے بعد مزید اضافہ ہوا ہے۔

امریکہ صدر ٹرمپ کی طرف سے نئی افغان حکمت عملی کے اعلان اور پاکستان پر تنقید کے بعد سے پاکستان حکومت امریکی حکام سے ناراض نظر آتی ہے اور اعلیٰ امریکہ عہدیدار ایلس ویلز جو کہ نائب وزیر خارجہ بھی ہیں، انہیں پاکستان آنے سے سفارتی ذرائع کے ذریعے منع کردیا گیا تھا۔ پاکستانی موقف کی تائید چین اور روس کی طرف سے کیے جانے کے بعد پاکستان اس معاملہ پر مزید پر اعتماد انداز میں آگے بڑھا ہے اور وزیر خارجہ خواجہ آصف دورہ امریکہ سے قبل دوست ممالک کے دوروں پر ہیں جہاں وہ پاکستانی موقف کی تائید اور حمایت حاصل کرنا چاہتے ہیں، پاکستان میں اثر ورسوخ رکھنے والی فوج کی جانب سے بھی امریکہ کو قربانیاں تسلیم نہ کرنے پر احتجاج کا پیغام دیا گیا ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG