رسائی کے لنکس

logo-print

بین الافغان مذاکرات کے لیے حکومتی وفد کا اعلان خوش آئند اور اہم قدم ہے، زلمے خلیل زاد


(فائل فوٹو)

امریکہ کے نمائندہ خصوصی برائے افغان مفاہمت زلمے خلیل زاد نے طالبان سے مذاکرات کے لیے ٹیم تشکیل دینے پر افغان حکومت کو مبارک باد دی ہے۔ ان کے بقول بین الافغان مذاکرات کی طرف پیش رفت کا یہ ایک اہم قدم ہے۔

زلمے خلیل زاد کا یہ بیان افغانستان کی حکومت کی جانب سے طالبان سے مذاکرات کے لیے 21 رکنی ٹیم کے اعلان کے بعد سامنے آیا ہے۔ مذاکراتی ٹیم کی قیادت افغانستان کی انٹیلی جنس ایجنسی کے سربراہ معصوم استنکزئی کریں گے۔

خلیل زاد نے اپنی ایک ٹوئٹ میں بین الافغان مذاکرات کے لیے اتفاق رائے سے ٹیم کی تشکیل کو بامعنی قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ میں افغان حکومت، سیاسی اور سول سوسائٹی کے نمائندوں کو اتفاق رائے سے مذاکراتی وفد تشکیل دینے پر مبارک باد دیتا ہوں۔ انہوں نے طالبان سے بات چیت کے لیے ایک ایسی ٹیم تشکیل دی ہے جس میں سب فریقین کی نمائندگی ہے۔

زلمے خلیل زاد کا مزید کہنا تھا کہ طالبان سے بات چیت کے لیے افغانستان کے وفد میں خواتین کا بھی اہم کردار ہے۔

خیال رہے کہ جمعرات کو افغانستان کی وزارت امن نے طالبان سے مذاکرات کے لیے 21 رکنی ٹیم کا اعلان کیا تھا جس کی قیادت افغانستان کی انٹیلی جنس ایجنسی کے سربراہ معصوم استنکزئی کریں گے۔

اس مذاکراتی وفد میں سیاسی رہنما، سابق عہدے داروں اور سول سوسائٹی کے نمائندوں سمیت پانچ خواتین بھی شامل ہیں۔ لیکن ابھی تک یہ واضح نہیں ہے کہ اس ٹیم کو صدر اشرف غنی کے سیاسی حریف عبداللہ عبداللہ کی بھی تائید حاصل ہے یا نہیں۔

ادھر کابل میں امریکی سفارت خانے نے مذاکراتی ٹیم کی تشکیل کو اہم قدم قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ افغان عوام کی توقعات پوری کرنے کی ذمہ داری اسی ٹیم پر ہے۔

امریکی سفارت خانے نے ٹوئٹ میں کہا ہے کہ وہ طالبان کے ساتھ براہ راست بات چیت کرانے کے لیے تیار ہیں تاکہ افغانستان میں امن کا وعدہ پورا ہو سکے۔

افغان طالبان کے ترجمان ذبیع اللہ مجاہد نے کہا ہے کہ طالبان افغان حکومت کی طرف سے اعلان کردہ مذاکراتی ٹیم سے بات چیت نہیں کریں گے۔
ذبیع اللہ مجاہد نے ہفتے کو ٹوئٹر پر جاری ایک بیان میں کہا ہے کہ طالبان افغان حکومت کی مذاکراتی ٹیم سے بات چیت نہیں کریں گے، کیونکہ، ان کےبقول، اس ٹیم کے انتخاب میں تمام "افغان دھڑوں" کو ملحوظ خاطر نہیں رکھا گیا۔
ذبیع اللہ مجاہد نے کہا کہ طالبان قیادت کئی بار تمام بااثر افغان فریقین کے ساتھ بین الافغان مذاکرات کے لیے اپنی آمادگی کا اظہار کر چکی ہے۔ لیکن، ان کے بقول، دیگر فریق" ایک موثر اور امن کی حامی ایک مذاکراتی ٹیم تشکیل دینے میں ناکام ہوگئے ہیں جس میں سب کی شمولیت ہو۔"
یاد رہے کہ طالبان کا یہ موقف رہا ہے کہ وہ افغان حکومت سے بات چیت نہیں کریں گے۔ لیکن، ذبیع اللہ کے بقول، بین الافغان مذاکرات میں کابل حکومت ایک دھڑے کے طور پر شرکت کر سکتی ہے۔

یاد رہے کہ امریکہ اور طالبان کے درمیان گزشتہ ماہ طے پانے والے امن معاہدے کے تحت بین الافغان مذاکرات کا آغاز رواں ماہ ہونا تھا۔ لیکن صدر اشرف غنی اور ان کے حریف عبداللہ عبداللہ کے درمیان پیدا ہونے والے سیاسی تنازع اور طالبان کے قیدیوں کی رہائی کا عمل شروع نہ ہونے کے باعث بات چیت کا عمل اب تک شروع نہیں ہو سکا ہے۔

البتہ، حال ہی میں افغان حکومت اور طالبان کے درمیان ویڈیو کانفرنس کے ذریعے ہونے والی بات چیت میں فریقین نے قیدیوں کی رہائی پر اتفاق کرتے ہوئے اعلان کیا تھا کہ یہ عمل 31 مارچ سے شروع ہو گا۔

طالبان کے ترجمان سہیل شاہین کے مطابق طالبان اپنے قیدیوں کی شناخت کے لیے ایک وفد افغانستان بھیجیں گے جو افغان حکام سے بھی ملاقات کرے گا۔

خیال رہے کہ طالبان نے بین الافغان مذاکرات سے قبل پانچ ہزار قیدیوں کی رہائی کا مطالبہ کیا تھا۔ لیکن صدر اشرف غنی کی حکومت نے ابتدائی طور پر 1500 قیدیوں کی رہائی پر رضا مندی ظاہر کی ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG