رسائی کے لنکس

logo-print

طالبان کے ساتھ امن معاہدے کے بہت قریب پہنچ گئے ہیں: خلیل زاد


امریکہ کے نمائندہ خصوصی برائے افغان مفاہمت زلمے خلیل زاد۔(فائل فوٹو)

امریکہ کے نمائندہ خصوصی برائے افغان مفاہمت زلمے خلیل زاد کا کہنا ہے کہ طالبان کے ساتھ امن معاہدے کے بہت قریب پہنچ چکے ہیں۔ اس معاہدے سے افغانستان میں تشدد میں کمی اور بین الافغان مذاکرات کی راہ ہموار ہو گی۔

زلمے خلیل زاد کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب طالبان نے شمالی شہر قندوز پر ہفتے کو حملہ کیا تھا۔

اپنی ٹوئٹ میں زلمے خلیل زاد کا کہنا تھا کہ طالبان کے ساتھ امن معاہدے کا نواں دور مکمل ہو گیا ہے اور اب اس ضمن میں وہ کابل حکومت سے مشاورت کریں گے۔

زلمے خلیل زاد کا کہنا تھا کہ امن معاہدے سے افغانستان میں تشدد کم ہو گا۔ اس سے ایک ایسا خود مختار افغانستان سامنے آئے گا جو امریکہ اور اس کے اتحادیوں یا کسی اور ملک کے خلاف اپنی زمین دہشت گردی کے لیے استعمال نہیں ہونے دے گا۔

گزشتہ روز درجنوں طالبان جنگجوؤں نے قندوز پر حملہ کر دیا تھا جس کے بعد افغان فورسز اور طالبان کے درمیان شدید لڑائی جاری تھی۔ امریکہ کا یہ موقف رہا ہے کہ طالبان کو افغانستان میں پر تشدد کارروائیاں ختم کرنا ہوں گی تاہم طالبان کا یہ اصرار رہا ہے کہ جب تک امریکی فوج افغانستان سے نکل نہیں جاتی اس وقت تک کارروائیاں جاری رہیں گی۔

طالبان اور امریکہ کے درمیان مذاکرات رواں سال کے آغاز میں شروع ہوئے تھے۔
طالبان اور امریکہ کے درمیان مذاکرات رواں سال کے آغاز میں شروع ہوئے تھے۔

خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق طالبان کے ایک سینئر رہنما نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا ہے کہ مذاکرات کے اس دور کے اختتام پر وہ اپنی اعلٰی قیادت سے مشاورت کریں گے۔ جب کہ خلیل زاد کابل حکومت کو پیش رفت سے آگاہ کریں گے۔

اطلاعات کے مطابق امن معاہدے کے بعد طالبان ناروے کے دارالحکومت اوسلو میں افغان حکومت سے براہ راست مذاکرات کریں گے تاہم طالبان کی جانب سے تاحال اس کی تصدیق نہیں کی گئی۔

طالبان کا یہ موقف رہا ہے کہ وہ امریکہ کی کٹھ پتلی افغان حکومت سے مذاکرات میں دلچسپی نہیں رکھتے۔

امن مذاکرات کے باوجود طالبان نے افغانستان میں حملے جاری رکھے ہوئے ہیں۔
امن مذاکرات کے باوجود طالبان نے افغانستان میں حملے جاری رکھے ہوئے ہیں۔

امریکہ اور طالبان کے درمیان امن مذاکرات کا آغاز رواں سال کے آغاز پر ہوا تھا اب تک مذاکرات کے نو دور ہو چکے ہیں۔

مذاکرات کے اس دور کے اختتام پر تاحال یہ واضح نہیں ہو سکا کہ افغانستان میں موجود 14500 کی تعداد میں موجود تمام امریکی فوجیوں کا انخلا ہو گا یا نہیں۔ امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا ایک بیان سامنے آیا تھا جس میں ان کا کہنا تھا کہ امریکی مفادات کے تحفظ کے لیے وہ 8 ہزار سے زائد فوجی افغانستان میں تعینات رکھیں گے۔

صدر ٹرمپ نے خبردار کیا تھا کہ اگر افغانستان سے دہشت گرد گروپ نے پھر کبھی امریکہ پر حملہ کیا تو ہم اتنی طاقت کے ساتھ واپس آئیں گے جسے پہلے کبھی کسی نے نہیں دیکھا ہو گا۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG