رسائی کے لنکس

logo-print

دوحہ امن مذاکرات: 'موڈ میں تبدیلی' کے اشارے


قطر کے دارالحکومت دوحہ میں امریکہ اور افغان طالبان کے درمیان ہونے والے امن مذاکرات میں شریک طالبان وفد کے ارکان۔ 8 جولائی 2019

امریکہ اور افغان طالبان کے نمائندوں کے درمیاں دوحہ میں جاری امن مذاکرات کے نویں مرحلے میں بدھ کے روز، وائس آف امریکہ کے نمائندے کے مطابق، بظاہر ماحول اور موڈ کچھ تبدیل ہو گیا ہے۔ منگل کو لگ رہا تھا جیسے کسی بھی لمحے امن معاہدہ طے جائے گا جب کہ بدھ کے روز اس سلسلے میں کسی فریق کی جانب جلدی نظر نہیں آئی۔

تجزیہ کاروں کے بقول القاعدہ سے قطع تعلق کی شرط طالبان کے لیے کڑوی گولی ثابت ہو رہی ہے جب کہ امریکہ چاہتا ہے کہ طالبان ہر صورت یہ شرط قبول کریں کہ وہ القاعدہ، داعش اور دیگر بین الاقوامی جہادیوں کو امریکہ کے خلاف افغانستان کی سرزمین استعمال نہیں کرنے دیں گے۔

دوحہ میں موجود وائس آف امریکہ کے نمائندے ایوب خاورین نے بتایا ہے کہ مذاکرات کا ماحول منگل کی نسبت بدھ کو بدلا بدلا نظر آیا۔ منگل کو لگ رہا تھا کہ امریکہ کے خصوصی نمائندے زلمے خلیل زاد کسی بھی لمحے افغانستان روانہ ہو جائیں گے جہاں وہ طالبان کے ساتھ طے پانے والی شرائط و معاہدے پر افغانستان کی حکومت اور اتحادیوں کو اعتماد میں لیں گے۔ لیکن ایسا نہ ہو سکا۔

اگرچہ توقع تو اب بھی موجود ہے کہ مسٹرخلیل زاد کوئی معاہدہ طے کرنے میں کامیاب ہو جائیں گے لیکن بدھ کو ان کے الفاظ میں فریقین کے مذاکرات کاروں کا وہ ’’ موڈ‘‘ نظر نہیں آیا جو منگل کے روز تھا۔

انہوں نے بتایا کہ بظاہر لگتا ہے کہ کچھ معاملات بالخصوص القاعدہ کے ساتھ طالبان کا تعلق مشکل پیدا کر رہا ہے۔

کامران بخاری سینٹر فار گلوبل پالیسی سے وابستہ سینئر فیلو ہیں۔ وہ جارج واشنگٹن یونیورسٹی میں انتہاپسندی سے متعلق پروگرام سے بھی منسلک ہیں۔ وائس آف امریکہ کے ساتھ گفتگو کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ انہیں اس بات پر حیرت نہیں ہے مذاکرات کی رفتار اور مزاج بدل رہا ہے۔

’’ افغان طالبان کبھی بھی نہیں چاہتے کہ القاعدہ کے ساتھ وہ قطع تعلق کریں۔ مستقبل کی ممکنہ مورچہ بندی میں جہاں انہیں ایک طرف داعش کا سامنا ہو گا اور دوسری طرف جنگی سرداروں کا، وہ القاعدہ کو اپنی طاقت کا حصہ رکھنا چاہیں گے‘‘۔

افغان امور پر گہری نظر رکھنے والے پاکستان کے سینئر صحافی اور تجزیہ کار طاہر خان نے گزشتہ روز وائس آف امریکہ سے گفتگو میں بتایا تھا کہ اگرچہ مذاکرات کسی معاہدے کی طرف بڑھتے نظر آتے ہیں لیکن یہ دیکھنا ابھی باقی ہے کہ آیا طالبان القاعدہ کے بارے میں کوئی یقین دہانی کراتے ہیں کہ اس گروپ کو افغانستان کی سرزمین استعمال نہیں کرنے دی جائے گی۔ وہ بھی ایسے وقت میں جب طالبان شوریٰ کی ہدایت پر ان کے مذاکرات کاروں نے القاعدہ کے خلاف امریکہ کی خواہش کے باوجود مذمتی بیان جاری نہیں کیا۔

تجزیہ کار امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور سینئر ری پبلکن سینیٹر لنڈسے گراہم کے بیانات کو بھی اہمیت دے رہے ہیں۔ صدر ٹرمپ نے گزشتہ روز کہا تھا کہ انہیں افغانستان سے اپنی افواج کو نکالنے میں کوئی جلدی نہیں ہے، جب کہ سینیٹر لنڈسے گراہم نے اتوار کو ٹیلی ویژن سی بی ایس کے ساتھ ایک انٹرویو میں صدر ٹرمپ کو تجویز دی تھی کہ وہ افغانستان میں امریکہ افواج کی تعداد آٹھ ہزار چھ سو سے کم نہ کریں۔ ان کے بقول طالبان کی نہ تو نیت ہے اور نہ اہلیت کہ وہ افغانستان میں امریکہ کے مفادات کا تحفظ کریں۔ لنڈسے گراہم سینیٹ کی جوڈشری کمیٹی کے سربراہ بھی ہیں۔

تجزیہ کاروں کے مطابق یہ بیانات بھی بدلتے ہوئے ماحول کا اشارہ دیتے ہیں۔

کامران بخاری کہتے ہیں کہ لنڈسے گراہم اور دیگر پالیسی ساز چاہتے ہیں کہ طالبان کے ساتھ مذاکرات کے میز پر کمزوری کے ساتھ نہیں مگر طاقت کے ساتھ آیا جائے۔ ان کے بقول اگر مذاکرات کامیاب نہیں ہوتے تو ہونا تو یہ چاہیے کہ امریکہ بھرپور طاقت کے استعمال سے مخالف قوتوں کو مذاکرات کی میز پر آنے اور کسی معاہدے پر مجبور کر دے لیکن اس کے امکانات کم نظر آتے ہیں۔ اور افغانستان میں سٹیٹس کو جاری رہے گا۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG