رسائی کے لنکس

logo-print

طالبان سے معاہدے کے قریب ہیں، فوج 8600 تک گھٹا دیں گے: صدر ٹرمپ


فائل فوٹو

امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ امریکہ افغانستان سے اپنے فوجیوں کی تعداد 14000 سے گھٹا کر 8600 تک لانے کی منصوبہ بندی کر رہا ہے اور اس کے بعد مزید انخلا کا تعین کرے گا۔

صدر ٹرمپ کا جمعرات کو آنے والا یہ بیان ایک ایسے وقت سامنے آیا ہے کہ جب امریکی سفارت کار افغانستان کی 18 سالہ جنگ کے خاتمے کا حل ڈھونڈنے کے لیے طالبان کے نمائندوں کے ساتھ مذاکرات کر رہے ہیں۔

صدر ٹرمپ نے کہا ہے کہ امریکہ طالبان کے ساتھ کوئی معاہدہ کرنے کے قریب پہنچ رہا ہے لیکن نتیجہ ابھی غیر یقینی ہے۔

انہوں نے 'فاکس نیوز ریڈیو' سے بات کرتے ہوئے کہا کہ کسی کو معلوم نہیں ہے کہ کیا ہونے جا رہا ہے۔

ٹرمپ نے فوجی دستوں کے انخلا کے کسی نظام الاوقات کے متعلق نہیں بتایا۔

یاد رہے کہ امریکی محکمہ دفاع پنٹاگان افغانستان میں موجود 14000 امریکی فوجیوں کی تعداد نصف کرنے کے لیے منصوبہ بندی کر رہا ہے۔ جب کہ طالبان یہ چاہتے ہیں افغانستان سے تمام امریکی اور غیر ملکی فوجی واپس چلے جائیں۔

امریکی صدر افغانستان کو دہشت گردی کی ’ہارورڈ یونیورسٹی‘ کا نام دے چکے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ اگر افغانستان سے دہشت گرد گروپ نے پھر کبھی امریکہ پر حملہ کیا تو ہم اتنی طاقت کے ساتھ واپس آئیں گے جسے پہلے کبھی کسی نے نہیں دیکھا ہو گا۔

افغانستان کی حکومت کو توقع ہے کہ امریکی سفارت کار زلمے خلیل زاد طالبان کے ساتھ امن مذاکرات کی پیش رفت سے متعلق جلد ہی کابل کو باضابطہ طور پر آگاہ کریں گے۔

طالبان کے ترجمان نے بھی کہا ہے کہ وہ حتمی معاہدے کے قریب پہنچ چکے ہیں۔ لیکن ایسے میں جب کہ امن مذاکرات جاری ہیں، طالبان تسلسل کے ساتھ افغانستان بھر میں اپنے حملے جاری رکھے ہوئے ہیں۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG