رسائی کے لنکس

logo-print

افغان امن مذاکرات میں سست روی، زلمے خلیل زاد دوبارہ سرگرم


فائل فوٹو

امریکہ کے نمائندۂ خصوصی برائے افغان مفاہمت زلمے خلیل زاد نے افغانستان میں فریقین کے مابین مذاکرات کی کوششیں دوبارہ شروع کر دی ہیں۔

زلمے خلیل زاد کی جانب سے مذاکرات کے عمل کو تیز کرنے کی کوششیں ایسے وقت میں دوبارہ شروع ہوئی ہیں جب مذاکرات میں فریقین کے درمیان اختلافات کی وجہ سے پیش رفت نہیں ہو رہی۔

خلیل زاد اس ہفتے واپس قطر کے شہر دوحہ روانہ ہوئے ہیں جہاں افغان حکومت اور طالبان کی مذاکراتی ٹیم 12 ستمبر سے مذاکرات میں مصروف ہے۔

دوسری جانب گزشتہ چند ہفتوں کے دوران افغانستان میں تشدد کی کارروائیوں میں اضافہ ہوا ہے جس پر اقوامِ متحدہ نے بھی تشویش کا اظہار کیا ہے۔

طالبان کے ترجمان محمد نعیم وردک نے جمعرات کو اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ اُن کے سیاسی رہنماؤں نے زلمے خلیل زاد سے ملاقات کی ہے اور اس ملاقات میں افغانستان میں امریکی افواج کے سربراہ جنرل اسکاٹ ملر بھی موجود تھے۔

ترجمان کے مطابق فریقین نے امریکہ اور طالبان کے مابین ہونے والے امن معاہدے پر مکمل عمل درآمد کرنے کی اہمیت پر گفتگو کی۔

طالبان کے ترجمان نے مزید کہا کہ طالبان رہنماؤں کے نام اقوام متحدہ کی بلیک لسٹ سے نکالنے اور مبینہ طور پر امریکہ کی جانب سے امن معاہدے کی خلاف ورزیوں پر بھی گفتگو ہوئی۔

امریکہ کی جانب سے اب تک اس ملاقات پر تبصرہ نہیں کیا گیا۔

یاد رہے کہ امریکہ اور طالبان کے درمیان رواں برس 29 فروری کو ہونے والے معاہدے کے مطابق امریکہ اور اس کے نیٹو فورسز کے اتحادیوں کو مئی 2021 تک افغانستان چھوڑ دینا ہے۔

معاہدے کے مطابق طالبان کو کابل حکومت کے ساتھ مذاکرات شروع کرنا ہوں گے جس کے ذریعے ملک میں جنگ بندی اور شراکت اقتدار کا فارمولا طے کیا جا سکے تھا۔

وائٹ ہاؤس کے قومی سلامتی کے مشیر رابرٹ اوبرائن نے بدھ کو ایک بیان میں کہا تھا کہ وہ ’’پر امید ہیں اور منتظر ہیں‘‘ کہ 19 برس سے جنگ زدہ افغانستان میں یہ امن معاہدہ دور رس امن کا باعث بنے گا۔

انہوں امریکہ کی سب سے طویل عرصے تک جاری رہنے والی جنگ کے خاتمے کا سہرا صدر ٹرمپ کے سر باندھا۔

رابرٹ اوبرائن نے واشنگٹن کے ہڈسن انسٹی ٹیوٹ میں بات کرتے ہوئے کہا کہ ’’ہم افغانستان میں امریکی مداخلت کو ختم کر رہے ہیں۔ یہ رات و رات نہیں ہوا۔ مگر جب آپ افغانستان کو دیکھتے ہیں۔ تو وہاں ہمارے 15 ہزار فوجی موجود تھے جو اب کم ہو کر چار ہزار 500 تک رہ گئے ہیں۔‘‘

رواں برس کرسمس تک افغانستان سے امریکی فوج کے مکمل انخلا سے متعلق صدر ٹرمپ کی حالیہ ٹوئٹ پر رابرٹ اوبرائن کا کہنا تھا کہ جیسے ہی حالات اجازت دیں گے صدر ٹرمپ اپنے کیے ہوئے وعدے کو پورا کریں گے۔

مبصرین کی جانب سے سوالات اٹھائے جا رہے ہیں کہ آیا افغان امن مذاکرات کے نتائج نکل سکیں گے اور کیا افغانستان میں اس کی وجہ سے تشدد کم ہو سکے گا؟

امن مذاکرات کی سست روی پر بات کرتے ہوئے زلمے خلیل زاد نے منگل کو ایک بیان میں کہا تھا کہ افغان فریقین کی جانب سے ہٹ دھرمی اور ایک دوسرے کی دشمی چھوڑنے سے انکار کی وجہ سے افغانستان میں جنگ کے خاتمے کے لیے سیاسی تعاون کا فارمولا طے نہیں ہو پا رہا۔

انہوں نے اپنے ایک ٹوئٹ میں افغان فریقین پر زور دیتے ہوئے کہا تھا کہ وہ افغانستان میں جنگ کے خاتمے کے اس موقع سے فائدہ اُٹھائیں کیوں کہ سیاسی تصفیے کے حصول کا دروازہ ہمیشہ کھلا نہیں رہے گا۔

اقوامِ متحدہ نے بھی منگل کو خبردار کیا تھا کہ افغان امن مذاکرات کے باوجود افغانستان مین پرتشدد کارروائیوں میں ہلاک ہونے والے شہریوں کی تعداد میں کمی نہیں آئی ہے۔

اس سال کے آغاز سے اب تک افغانستان میں 6500 افغان شہری ہلاک اور زخمی ہو چکے ہیں۔ یہ تعداد گزشتہ برس اسی عرصے کے دوران کی تعداد سے 30 فی صد زیادہ ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG