رسائی کے لنکس

اسرائیل سے مذاکرات "ناقابلِ معافی غلطی" ہوں گے: خامنہ ای


فائل فوٹو

ایرانی رہنما نے اپنے بیان میں فلسطینی تنظیم 'حماس' کے لیے ایران کی حمایت جاری رکھنے کا بھی اعلان کرتے ہوئے کہا کہ فلسطینیوں کی مزاحمتی تحریکوں کی حمایت کرنا تمام مسلمانوں کا "مذہبی فریضہ" ہے۔

ایران کے رہبرِ اعلیٰ آیت اللہ علی خامنہ ای نے کہا ہے کہ اسرائیل کے ساتھ مذاکرات کرنا "ناقابلِ معافی غلطی" ہوگی۔

ایرانی رہنما نے بظاہر یہ بیان سعودی عرب کے ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کے اس بیان کے ردِ عمل میں دیا ہے جس میں انہوں نے کہا تھا کہ فلسطینیوں کی طرح اسرائیلیوں کو بھی اپنی سرزمین پر رہنے کا حق ہے۔

رواں ہفتے امریکی جریدے 'اٹلانٹک' میں شائع ہونے والے انٹرویو میں شہزادہ محمد نے کہا تھا کہ سعودی عرب اور اسرائیل کے درمیان بہت سے مفادات مشترک ہیں اور اگر امن قائم ہوجائے تو اسرائیل اور خلیج تعاون کونسل (جی سی سی) کے رکن ملکوں کے درمیان روابط بڑھ سکتے ہیں۔

اپنے بیان میں خامنہ ای نے گو کہ سعودی ولی عہد کے بیان کا براہِ راست حوالہ تو نہیں دیا تاہم ان کے واضح موقف سے یہ واضح ہوگیا ہے کہ ایران سعودی عرب اور اسرائیل کے درمیان تعلقات میں آنے والی بہتری کی مخالفت جاری رکھے گا۔

ایرانی رہبرِ اعلیٰ کی ویب سائٹ پر جاری کیے جانے والے بیان میں آیت اللہ خامنہ ای نے کہا ہے کہ اسرائیل کی دھوکے باز، جھوٹی اور ظالم ریاست کے ساتھ مذاکرات کی جانب پیش رفت ایک ایسی ناقابلِ معافی اور فاش غلطی ہوگی جس سے فلسطینی عوام کی کامیابیوں کو دھچکہ لگے گا۔

ایرانی رہنما نے اپنے بیان میں فلسطینی تنظیم 'حماس' کے لیے ایران کی حمایت جاری رکھنے کا بھی اعلان کرتے ہوئے کہا کہ فلسطینیوں کی مزاحمتی تحریکوں کی حمایت کرنا تمام مسلمانوں کا "مذہبی فریضہ" ہے۔

امریکہ اور اسرائیل حماس کو دہشت گرد قرار دیتے ہیں جب کہ کئی عرب ملک بھی اسرائیل کے خلاف اس کی مسلح جدوجہد سے خائف ہیں۔

ایران کے رہبرِ اعلیٰ نے یہ بیان 'حماس' کے سربراہ اسمعیل ہنیہ کے ایک خط کے جواب میں جاری کیا ہے جس میں فلسطینی رہنما نے عرب حکومتوں کی جانب سے خطے میں امریکہ کی حمایت کو تنقید کا نشانہ بنایا تھا۔

اپنے بیان میں آیت اللہ خامنہ ای نے دنیابھر کے مسلمان ملکوں کے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ اسرائیل کو شکست دینے کے لیے حماس کا ساتھ دیں۔

کئی مسلم ممالک کی طرح سعودی عرب بھی اسرائیل کو تسلیم نہیں کرتا اور اس کا مؤقف رہا ہے کہ اسرائیل کے ساتھ تعلقات اسی صورت میں استوار ہوسکتے ہیں جب وہ ان علاقوں کا قبضہ خالی کردے جن پر اس نے 1967ء کی عرب اسرائیل جنگ کے دوران قبضہ کیا تھا۔

لیکن حالیہ برسوں کے دوران سعودی عرب اور اسرائیل کے اعلیٰ حکام کے پسِ پردہ رابطوں کی خبریں منظرِ عام پر آتی رہی ہیں۔

شہزادہ محمد بن سلمان کے ولی عہد بننے کے بعد سے دونوں ملکوں کی جانب سے کئی ایسے واضح اشارے ملے ہیں جن سے لگتا ہے کہ ان کے درمیان برف پگھل رہی ہے۔

سعودی عرب نے گزشتہ ماہ ہی پہلی بار بھارت کی ایک کمرشل فلائٹ کو اپنی فضائی حدود سے گزر کر اسرائیل جانے کی اجازت دی تھی جس کا اسرائیلی حکومت نے گرم جوشی سے خیر مقدم کیا تھا۔

اس سے قبل گزشتہ سال نومبر میں اسرائیلی کابینہ کے ایک وزیر نے انکشاف کیا تھا کہ اسرائیل کے سعودی اعلیٰ حکام کے ساتھ قریبی اور مستقل رابطے ہیں جو کسی اعلیٰ سطی ذمہ دار کی جانب سے دونوں ملکوں کے درمیان موجود تعلقات کا پہلا باضابطہ اعتراف تھا۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG