رسائی کے لنکس

وادی راجگال میں شدت پسندوں کا اہم ٹھکانہ ختم کرنے کا دعویٰ


فائل

پاکستانی فوج نے گزشتہ ماہ وادی راجگال کو شدت پسندوں سے صاف کرنے کے لیے ایک بڑی کارروائی شروع کرتے ہوئے کہا تھا کہ اس کا مقصد سرحد پار سے عسکریت پسندوں کی ںقل و حرکت کو روکنا ہے۔

پاکستان کی فوج نے افغان سرحد سے متصل ملک کے قبائلی علاقے خیبر ایجنسی میں واقع وادی راجگال میں شدت پسندوں کے خلاف جاری کارروائی 'آپریشن خیبر فور' میں عسکریت پسندوں کے ایک بڑے ٹھکانے کو ختم کرنے اور سرحد پار شدت پسندوں کے راستے کو بند کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔

پاکستانی فوج کے شعبہ تعلقات عامہ یعنی 'آئی ایس پی آر' کے طرف سے جاری بیان میں بتایا گیا ہے کہ عسکریت پسند اس ٹھکانے کو مبینہ طور پر سرحد کے آر پار نقل و حرکت کے لیے استعمال کرتے تھے۔

پاکستانی فوج نے گزشتہ ماہ وادی راجگال کو شدت پسندوں سے صاف کرنے کے لیے ایک بڑی کارروائی شروع کرتے ہوئے کہا تھا کہ اس کا مقصد سرحد پار سے عسکریت پسندوں کی ںقل و حرکت کو روکنا ہے۔

واضح رہے کہ 'آپریشن خیبر فور' میں اب تک 13 شدت پسند مارے جا چکے ہیں اور 'آئی ایس پی آر' کے مطابق وادی راجگال کے ایک وسیع علاقے کو شدت پسندوں سے صاف کیا جا چکا ہے۔

آپریشن سے متعلق سکیورٹی فورسز کے دعووں کی آزاد ذرائع سے تصدیق ممکن نہیں کیونکہ جن علاقوں میں یہ کارروائیاں جاری ہیں وہاں میڈیا کی رسائی نہیں ہے۔

دریں اثنا سکیورٹی فورسز نے صوبہ بلوچستان کے ضلع ژوب کے کیچ مینا کے علاقے میں خفیہ معلومات کی بنیاد پر کارروائی کرکے دہشت گردی کے ایک منصوبہ کو ناکام بناتے ہوئے شدت پسندوں کے ایک سہولت کار کو گرفتار کر لیا ہے۔

اس کارروائی کے دوران بھاری مقدار میں دھماکا خیز مواد اور دیسی ساختہ بم بھی قبضے میں لینے کا دعویٰ کیا گیا ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG